کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پوشیدہ عمل کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَمَامُ الْبِرِّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْمَلَ فِي السِّرِّ عَمَلَ الْعَلَانِيَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَمْ يَتَعَمَّدِ الْكَذِبَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نیکی کی تکمیل کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم پوشیدہ طور پر بھی ، علانیہ والا عمل کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن وہ جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3420)»
وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ السَّكُونِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَمَامُ الْبِرِّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْمَلَ فِي السِّرِّ عَمَلَ الْعَلَانِيَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعامر سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! نیکی کی تکمیل کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم پوشیدہ طور پر بھی وہی عمل کرو جو علانیہ طور پر کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18090
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (317/22)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَعْمَلُ عَمَلًا يُطَّلَعُ عَلَيْهِ فَيُعْجِبُنِي . قَالَ : " لَكَ أَجْرَانِ : أَجْرُ السِّرِّ ، وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : میں ایک عمل کرتا ہوں ، جس کی اطلاع کسی کو مل جاتی ہے اور یہ چیز مجھے اچھی لگتی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں دو اجر ملیں گے ، ایک پوشیدہ طور پر کرنے کا اجر اور ایک علانیہ کا اجر ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18091
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح