کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جن پر غضب نازل ہوا ، ان سے علیحدہ رہنا
حدیث نمبر: 18092
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا مَرَرْتُمْ عَلَى أَرْضٍ قَدْ هَلَكَ أَهْلُهَا فَأَغِذُّوا السَّيْرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم کسی ایسی سرزمین سے گزرو ، جہاں کے رہنے والے ہلاکت کا شکار ہو گئے ہوں تو تم وہاں سے تیزی سے گزر جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18092
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8068)»
حدیث نمبر: 18093
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا يَوْمَ وَرَدَ حِجْرَ ثَمُودَ عَنْ رَكِيَّةٍ عِنْدَ جَانِبِ الْمَدِينَةِ أَنْ نَشْرَبَ مِنْهَا ، وَنَسْقِيَ مِنْهَا ، وَنَهَانَا أَنْ نَتَوَلَّجَ بُيُوتَهُمْ ، وَنَبَّأَنَا أَنَّ وَلَدَ النَّاقَةِ ارْتَقَى فِي قَارَّةٍ سَمِعْتُ النَّاسَ يَدْعُونَهَا كَبَابَةَ ، وَأَنَّ أَثَرَ وَلَدِ النَّاقَةِ مُبِينٌ فِي قُبُلِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قوم ثمود کی بستی ” حجر “ کے پاس سے ہوا ، تو آپ نے ہمیں اس بات سے منع کر دیا کہ اس بستی کے باہر موجود کنویں سے ہم پانی پیئں یا اپنے جانوروں کو پلائیں اور آپ نے ہمیں اس بات سے بھی منع کر دیا کہ ہم ان کی آبادی میں داخل ہوں ( اگلے الفاظ شاید راوی کے ہیں : ) انہوں نے ہمیں بتایا : اس اونٹنی کا بچہ ایک چھوٹے ٹیلے پر چڑھ گیا تھا ، میں نے لوگوں کو سنا وہ اس ٹیلے کو ” کبابہ“ کا نام دیتے تھے ، اور اونٹنی کے بچے کے قدموں کے نشان اس ٹیلے پر سامنے کی طرف تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18093
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7091)»
حدیث نمبر: 18094
وَعَنْ سَبْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ نَزَلَ الْحِجْرَ : " مَنِ اعْتَجَنَ مِنْ هَذِهِ ؟ " - يَعْنِي بِئْرَهُمْ - شَيْئًا فَلْيُلْقِهِ " . فَأَلْقَى ذُو الْعَجِينِ عَجِينَهُ ، وَصَاحِبُ الْحَيْسِ حَيْسَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ” حجر “ نامی بستی کے پاس سے ہوا ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کس نے اس سے آٹا گوندھا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : یعنی وہاں کے کنویں کے پانی کے ذریعے ایسا کیا ہے ، جس نے ایسا کیا ہے وہ اس کو پھینک دے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو جس نے آٹا گوندھا تھا اس نے آٹا پھینک دیا ، جس نے حیسں بنایا تھا اس نے حیس پھینک دیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18094
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6551)»
حدیث نمبر: 18095
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ رَاحَ مِنَ الْحِجْرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” جب آپ ” حجر “ سے روانہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18095
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6552)»
حدیث نمبر: 18096
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى الْحِجْرِ لِيَدْخُلُوا فِيهِ ; فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " عَلَى مَا تَدْخُلُونَ ؟ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ؟ ! " . قَالَ : فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَعْجَبُ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ؟ نَبِيُّكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، اسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُهَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ تیزی کے ساتھ ” حجر “ نامی بستی کی طرف بڑھے تاکہ اس میں داخل ہو جائیں ، لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : تم کہاں داخل ہونے لگے ہو ؟ ایک ایسی قوم پر ، جن پر اللہ تعالی نے غضب نازل کیا ؟ راوی کہتے ہیں : تو ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو پکارا : یا رسول اللہ ! یہ تو ان لوگوں کی طرف سے حیران کن بات ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو اس سے زیادہ حیران کن بات کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتے ہیں ، جو تم سے پہلے گزر چکی ہے اور اس کے بارے میں بھی بتاتے ہیں ، جو تمہارے بعد ہو گی تو تم لوگ سیدھے رہو اور ٹھیک رہو کیونکہ اللہ تعالی تمہیں عذاب دیتے ہوئے کوئی پرواہ نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن