کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے
حدیث نمبر: 18079
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ ، وَسَنَتُهُ ، فَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنَادَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط سالی ہے ، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو قید خانے اور قحط سالی سے جدا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالله بن جنادہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6855)»
حدیث نمبر: 18080
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِسَنَدَيْنِ أَحَدُهُمَا ضَعِيفٌ ، وَالْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک سند ضعیف ہے اور دوسری میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18080
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3645)»
حدیث نمبر: 18081
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے اور وہ متروک ہے ، امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18081
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6087)»
حدیث نمبر: 18082
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ نُعْمَانَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَزَلَ عَلَيَّ جِبْرِيلُ بِأَحْسَنِ مَا كَانَ يَأْتِينِي صُورَةً ، فَقَالَ : إِنَّ السَّلَامَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ يَا مُحَمَّدُ ، وَيَقُولُ : إِنِّي أَوْحَيْتُ إِلَى الدُّنْيَا أَنْ تَمَرَّرِي ، وَتَنَكَّدِي ، وَتَضَيَّقِي ، وَتَشَدَّدِي عَلَى أَوْلِيَائِي حَتَّى يُحِبُّوا لِقَائِي ، وَتَوَسَّعِي ، وَتَسَهَّلِي ، وَطِيبِي لِأَعْدَائِي ، حَتَّى يَكْرَهُوا لِقَائِي ; فَإِنِّي جَعَلْتُهَا سِجْنًا لِأَوْلِيَائِي ، وَجَنَّةً لِأَعْدَائِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتادہ بن نعمان بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس سب سے زیادہ خوبصورت شکل و صورت میں نازل ہوئے اور بولے : بے شک سلامتی عطا کرنے والی ذات نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اور اس نے یہ فرمایا ہے : کہ میں نے دنیا کی طرف یہ وحی کی ہے کہ تم میرے دوستوں کے لئے کڑوی ، مشکلات والی ، تنگ اور سخت ہو جاؤ تاکہ وہ میری بارگاہ میں حاضری کو پسند کریں اور تم میرے دشمنوں کے لئے کشادگی والی ، آسانی والی اور پاکیزہ ہو جاؤ تاکہ وہ میری بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کریں ، بے شک میں نے اسے ( یعنی دنیا کو ) اپنے دوستوں کے لیے قید خانہ اور اپنے دشمنوں کے لیے جنت بنایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7/19)»