کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ عافیت والا ہو اور محفوظ ہو
حدیث نمبر: 18083
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بَدَنِهِ ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا . يَا ابْنَ آدَمَ ، جُفَيْنَةٌ يَكْفِيكَ مِنْهَا مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ ، وَإِنْ كَانَ بَيْتٌ يُوَارِيكَ فَذَاكَ ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةٌ تَرْكَبُهَا فَبَخٍ ، فَلَقُ الْخُبْزِ ، وَمَاءُ الْجَرِّ ، وَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ فَحِسَابٌ عَلَيْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے حوالے سے عافیت والا ہو اور اپنے نفس کے حوالے سے محفوظ ( یا بے خوف ) ہو ، اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو گویا دنیا اس کے لیے سمیٹ دی گئی ، اے ابن آدم ! ایک چھوٹا پیالہ جو دنیا میں سے تمہارے لئے کفایت کر سکتا ہے جو تمہاری بھوک کو ختم کر دے اور وہ ( لباس ) جو تمہاری شرمگاہ کو ڈھانپ دے اور اگر گھر ہو جو تمہیں چھپا دے ، تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر سواری ہو جس پر تم سوار ہو جاؤ تو بہت عمدہ روٹی کا ٹکڑا ، پانی کا پیالہ اور تہبند سے زیادہ ( یعنی جو کچھ ہو ) ان کے بارے میں حساب دینا تم پر لازم ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18084
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَمْنُ وَالْعَافِيَةُ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امن اور عافیت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ ان دونوں کے بارے میں بہت سے لوگ غبن کا شکار ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے “” “” صحیح “” “” میں ایک حدیث مذکور ہے جو تندرستی اور فراغت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18085
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بَدَنِهِ ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس کے جسم میں عافیت ہو اور اس کے من میں امن ( یعنی دل میں بے خوفی ) ہو ، اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو گویا دنیا اس کے لئے سمیٹ دی گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18086
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْنَ آدَمَ ، عِنْدَكَ مَا يَكْفِيكَ ، وَأَنْتَ تَطْلُبُ مَا يُطْغِيكَ ، لَا بِقَلِيلٍ تَقْنَعُ ، وَلَا مِنْ كَثِيرٍ تَشْبَعُ . ابْنَ آدَمَ ، إِذَا أَصْبَحْتَ آمِنًا فِي سِرْبِكَ ، مُعَافًى فِي جَسَدِكَ ، عِنْدَكَ قُوتُ يَوْمِكَ ; فَعَلَى الدُّنْيَا الْعَفَاءُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن آدم ! تمہارے پاس وہ چیز ہے جو تمہارے لئے کفایت کرتی ہے اور تم اس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہو جو تمہیں سرکشی کا شکار کر دے گی ، نہ تم تھوڑے پر قناعت کرتے ہو اور نہ زیادہ سے سیر ہوتے ہؤ ، اے ابن آدم ! جب تم ایسی حالت میں صبح کرو کہ تم دلی طور پر محفوظ ( یا بے خوف ) ہو اور اپنے جسم کے حوالے سے عافیت میں ہو ، تمہارے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو دنیا پر ہلاکت ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18087
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَيْكَ انْتَهَتِ الْأَمَانِي يَا صَاحِبَ الْعَافِيَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو میری تمام تر امیدوں کا مرکز ہے ، اے عافیت عطا کرنے والے !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔