حدیث نمبر: 17881
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ ، قُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : قَالَ لِي : " انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَهَذَا عِنْدَ اللَّهِ أَخْيَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم مسجد میں موجود سب سے بلند حیثیت کے مالک شخص کا جائزہ لو ! راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس کے جسم پر حلہ ( یعنی قیمتی لباس ) تھا ، میں نے کہا: یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم مسجد میں موجود ، سب سے کم تر حیثیت کے شخص کا جائزہ لو ! راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر بوسیدہ لباس تھا ، میں نے عرض کی : یہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن یہ ( غریب شخص ) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ، اُس ( خوشحال شخص ) جیسے ، اتنے لوگوں سے بہتر ہو گا ، جو زمین کو بھر دیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17882
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدُهُ فِي يَدِي ، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ رَثِّ الْهَيْئَةِ ، قَالَ : " أَبُو فُلَانٍ مَا بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى ؟ " . قَالَ : السَّقَمُ وَالضُّرُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يُذْهِبُ اللَّهُ عَنْكَ السَّقَمَ وَالضُّرَّ ؟ " . قَالَ : [ لَا ] مَا يَسُرُّنِي بِهِمَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ ثُمَّ ] قَالَ : " وَهَلْ يُدْرِكُ أَهْلُ بَدْرٍ وَأَهْلُ أُحُدٍ مَا يُدْرِكُ الْفَقِيرُ الْقَانِعُ ؟ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا فَعَلِّمْنِي ؟ قَالَ : فَقَالَ : " قُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا " . ¤ قَالَ : فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ حَسُنَتْ حَالِي فَقَالَ : " مَهْيَمْ ؟ " . قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَزَلْ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِيهِنَّ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ ، وَلَكِنَّ حَرْبَ بْنَ مَيْمُونٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک میرے ہاتھ میں تھا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا ، جس کا حلیہ خراب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوفلاں ! تمہارا یہ حال کیسے ہو گیا ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں ، اُس نے کہا: بیماری اور غربت کی وجہ سے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہیں دی تھی ؟ جن کی وجہ سے اللہ تعالی تم سے بیماری اور غربت کو دور کر دیتا ؟ اس نے کہا: جی نہیں ! اُن دونوں ( یعنی بیماری اور غربت ) کے بدلے میں مجھے یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شرکت کی ہوتی ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اہل بدر اور اہل احد اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں ، جہاں قناعت کرنے والا غریب آدمی پہنچتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ الٹا عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اُن کی تعلیم دیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم یہ پڑھو : تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا ” میں نے اُس زندہ ذات پر توکل کیا ، جسے موت نہیں آئے گی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ کمزور نہیں ہوتا کہ اُسے کسی مددگار کی ضرورت ہو اور تم بھرپور طریقے سے اُس کی کبریائی بیان کرو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، تو میری حالت بہتر ہو چکی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسلسل وہ کلمات پڑھتا رہتا ہوں ، جو آپ نے مجھے تعلیم دیے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی حرب بن میمون ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی حرب بن میمون ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17883
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَأَلَ عَنِّي أَوْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيَّ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَشْعَثَ شَاحِبٍ مُشَمِّرٍ لَمْ يَضَعْ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ ، وَلَا قَصَبَةً عَلَى قَصَبَةٍ ، رُفِعَ لَهُ عِلْمٌ فَشَمَّرَ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الْمِضْمَارُ ، وَغَدًا السِّبَاقُ ، وَالْغَايَةُ الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے بارے میں دریافت کرتا ہے “ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ میری طرف دیکھے ، تو اُسے ایسے شخص کی طرف دیکھنا چاہیے جس کے بال بکھرے ہوئے ہوں ، اس کی رنگت متغیر ہو ، وہ بھرپور عبادت کرنے والا ہو ( یا اس کے پاس مناسب لباس نہ ہو ) اس نے کسی اینٹ پر اینٹ نہ رکھی ہو اور کسی بانس پر بانس نہ رکھا ہو ( یعنی کوئی تعمیر نہ کی ہو ) اس کے سامنے پرچم بلند ہو تو وہ کمر ہمت باندھ کر اس کی طرف چلا جائے ، آج کا دن ، تیاری کا دن ہے اور کل کا دن نتیجے کا ہے اور آخری انجام ، جنت یا جہنم ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17884
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " يَأْتِي قَوْمٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَنُورِ الشَّمْسِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : نَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا . وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ ، وَلَكِنَّهُمُ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَزَادَ فِي الْكَبِيرِ : ثُمَّ قَالَ : " طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قِيلَ : وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ فِي نَاسٍ سُوءٌ كَثِيرٌ ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، سورج نکل آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے ، جن کا نور ، سورج کے نور کی مانند ہو گا ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ہم ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تمہارے لئے بہت زیادہ بھلائی ہے ، لیکن وہ غریب مہاجرین ہوں گے جو زمین کے مختلف حصوں سے اکٹھے کیے جائیں گئے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! عرض کی گئی : غریب لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نیک لوگ ، جو تھوڑے ہوں اور بہت سے برے لوگوں کے درمیان موجود ہوں ، ان کی فرمانبرداری کرنے والوں کے مقابلے میں ، اُن کی نافرمانی کرنے والے لوگ زیادہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! عرض کی گئی : غریب لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نیک لوگ ، جو تھوڑے ہوں اور بہت سے برے لوگوں کے درمیان موجود ہوں ، ان کی فرمانبرداری کرنے والوں کے مقابلے میں ، اُن کی نافرمانی کرنے والے لوگ زیادہ ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 17885
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ : نَحْنُ هُمْ ؟ وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ أَسَانِيدُ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اُن میں سے ہیں ؟ “” “” ۔ اس روایت کی معجم کبیر میں مختلف اسانید منقول ہیں ، ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17886
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " [ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ ] الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ تُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ : ائْتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : نَحْنُ سُكَّانُ سَمَائِكَ ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ ؟ ! قَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ، وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً " . قَالَ : " فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ : سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنَعِمَ عُقْبَى الدَّارِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِ الْمَلَائِكَةِ : وَسُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ : " وَإِنَّكَ تُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ قَبْلَنَا " . وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم یہ جانتے ہو ؟ کہ اللہ کی مخلوق میں سے کون سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے لوگ ، غریب مہاجرین ہوں گے ، جن کے ذریعے شگافوں کو بند کیا جاتا ہو گا اور جن کے ذریعے ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جاتا ہو گا ، اُن میں سے کوئی ایک مرے گا ، تو اس کی حاجت اس کے سینے میں ہی رہ جائے گی ، وہ اس کو پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے جن کے بارے میں چاہے گا انہیں یہ فرمائے گا : تم اُن کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہو ! فرشتے عرض کریں گے : ہم تیرے آسمان کے باسی ہیں اور تیری مخلوق میں تیرے بہترین بندے ہیں ، کیا تو ہمیں یہ حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جا کر انہیں سلام کریں ؟ پروردگار فرمائے گا : یہ میرے ایسے بندے ہیں جو میری عبادت کرتے رہے ، انہوں نے کسی کو میرا شریک قرار نہیں دیا ، ان کے ذریعے شگاف بند کیے جاتے تھے ، ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جاتا تھا ، ان میں سے کوئی ایک شخص جب مرتا تھا ، تو اس کی حاجت اس کے سینے میں ہی رہ گئی ہوتی تھی ، وہ اس کو پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ فرشتے اس وقت ان لوگوں کے پاس آئیں گے ، وہ ہر دروازے سے اُن پر داخل ہوں گے اور یہ کہیں گے : ” تم پر سلام ہو ، اس چیز کی وجہ سے جو تم نے صبر سے کام لیا اور آخرت کا ٹھکانہ عمدہ ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے “” “” صحیح “” “” میں ایک روایت مذکور ، ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے روایت کے ان الفاظ : ” ہم تیرے آسمان کے باسی ہیں ۔ “ کے بعد یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تو ہم سے پہلے انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے روایت کے ان الفاظ : ” ہم تیرے آسمان کے باسی ہیں ۔ “ کے بعد یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تو ہم سے پہلے انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17887
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ [ الْجَنَّةَ ] الِفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَإِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا ، وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ [ لَهُ ] حَتَّى يَمُوتَ ، وَهِيَ فِي صَدْرِهِ ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا فَيَقُولُ : إِنَّ عِبَادِيَ الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي ، وَقُتِلُوا وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهَدُوا [ فِي سَبِيلِي ] ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِيهِ : " ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِلَا عَذَابٍ ، وَلَا حِسَابٍ ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَسْجُدُونَ وَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، نَحْنُ نُسَبِّحُكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، وَنُقَدِّسُ لَكَ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا ؟ ! فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي ، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُشَّانَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ غریب مہاجرین کا ہو گا ، جن کے ذریعے ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جائے گا ، جب انہیں حکم دیا جائے تو وہ اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، جب ان میں سے کسی فرد کو کسی حکمران سے کوئی کام ہو گا تو اس کا وہ کام پورا نہیں ہو گا یہاں تک کہ وہ شخص مر جائے گا اور وہ حاجت اس کے سینے میں رہ جائے گی ، قیامت کے دن اللہ تعالی جنت کو بلائے گا تو وہ اپنی آرائش و زیبائش کے ہمراہ آئے گی ، اللہ تعالی فرمائے گا : میرے کچھ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا اور وہ شہید ہو گئے ، انہیں میری خاطر اذیت پہنچائی گئی ، انہوں نے میری راہ میں جہاد کیا ( پھر ان بندوں سے کہا: جائے گا : ) تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ ! تو وہ کسی حساب اور عذاب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تم کسی عذاب اور حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ ! پھر فرشتے آئیں گے اور سجدے میں چلے جائیں گے اور یہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم رات دن تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، تیری پاکی کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ میرے وہ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا ، انہیں میری راہ میں اذیت پہنچائی گئی ، تو فرشتے ہر دروازے سے اُن پر داخل ہوں گے اور یہ کہیں گے : ” تم پر سلام ہو ! اُس کی وجہ سے ، جو تم نے صبر سے کام لیا ، اور آخرت کا ٹھکانہ عمدہ ہے ۔ “ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعشانہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تم کسی عذاب اور حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ ! پھر فرشتے آئیں گے اور سجدے میں چلے جائیں گے اور یہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم رات دن تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، تیری پاکی کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ میرے وہ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا ، انہیں میری راہ میں اذیت پہنچائی گئی ، تو فرشتے ہر دروازے سے اُن پر داخل ہوں گے اور یہ کہیں گے : ” تم پر سلام ہو ! اُس کی وجہ سے ، جو تم نے صبر سے کام لیا ، اور آخرت کا ٹھکانہ عمدہ ہے ۔ “ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعشانہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17888
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . قُلْنَا : وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَهْلِكٌ بُعِثُوا ، وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بَعَثُوا غَيْرَهُمْ ، الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَلَى أَبْوَابِ السُّلْطَانِ " . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَزَيْدٌ الْعَمِّيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غریب مسلمان ، خوشحال مسلمانوں سے ، پانچ سو سال پہلے ( جنت میں ) داخل ہوں گے ، ہم نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ہلاکت والی صورتحال ہو تو انہیں بھیج دیا جائے گا اور جب مال غنیمت حاصل ہونے کا امکان ہو ، تو دوسروں کو بھیج دیا جائے گا ، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حکمران کے دروازے پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضل بن عیاض ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی زید عمی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضل بن عیاض ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی زید عمی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17889
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ ، أَكْوَابُهُ عَدَدُ النُّجُومِ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، أَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُمْ لَنَا ، قَالَ : " شُعْثُ الرُّءُوسِ ، دَنَسُ الثِّيَابِ ، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، وَلَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ ، الَّذِينَ يُعْطُونَ مَا عَلَيْهِمْ ، وَلَا يُعْطَوْنَ مَا لَهُمْ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا حوض ” عدن “ سے لے کر ” عمان “ تک کے درمیانی فاصلے جتنا ہو گا اور اس کے پیالے ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے اس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہو گا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا اور اس پر سب سے پہلے غریب مہاجرین آئینگے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، کپڑے میلے کچیلے ہوں گے ، وہ خوشحال عورتوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکیں گے ان کے لیے دروازے نہیں کھولے جائیں گے وہ اپنا فرض ادا کر دیں گے لیکن انہیں ان کا حق نہیں ملے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ، حوض کے تذکرہ کے بارے میں ایک روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17890
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " وَأَكْثَرُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " . بَدَلَ : " أَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ " . وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہاں آنے والوں میں زیادہ تعداد غریب مہاجرین کی ہو گی “ یہ الفاظ ان الفاظ کی جگہ ہیں : ” اس پر سب سے پہلے آنے والے ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17891
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ " . قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ " بِأَرْبَعِينَ عَامًا " . فَقَالَ : عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِأَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ حَتَّى يَقُولَ الْغَنِيُّ : يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِّهِمْ لَنَا بِأَسْمَائِهِمْ . قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ بُعِثُوا لَهُ ، وَإِذَا كَانَ نَعِيمٌ بَعَثُوا لَهُ سِوَاهُمْ ، وَهُمُ الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَنِ الْأَبْوَابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوصدیق ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غریب اہل ایمان ، خوشحال افراد سے ، چار سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ ( بعد کے زمانے کے ) راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: حسن نے تو
یہ روایت ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” چالیس سال پہلے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو ابوصدیق نے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے : ” چار سو سال پہلے ، یہاں تک کہ خوشحال شخص یہ آرزو کرے گا کہ کاش میں ( دنیا میں ) تنگدست ہوتا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کے نام ہمارے سامنے بیان کیجئے ! نبی اکرم صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ناپسندیدہ صورتحال ہو گی ، تو انہیں اس کے لیے بھیج دیا جائے گا اور جب نعمتوں کا وقت آئے گا اس وقت دوسرے لوگوں کو ان کے لیے بھیج دیا جائے گا ، اور یہ وہ لوگ ہوں گے ، جنہیں دروازوں پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زید بن ابوحواری کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” چالیس سال پہلے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو ابوصدیق نے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے : ” چار سو سال پہلے ، یہاں تک کہ خوشحال شخص یہ آرزو کرے گا کہ کاش میں ( دنیا میں ) تنگدست ہوتا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کے نام ہمارے سامنے بیان کیجئے ! نبی اکرم صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ناپسندیدہ صورتحال ہو گی ، تو انہیں اس کے لیے بھیج دیا جائے گا اور جب نعمتوں کا وقت آئے گا اس وقت دوسرے لوگوں کو ان کے لیے بھیج دیا جائے گا ، اور یہ وہ لوگ ہوں گے ، جنہیں دروازوں پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زید بن ابوحواری کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17892
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا " . فَقِيلَ : صِفْهُمْ لَنَا . فَقَالَ : " الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الَّذِينَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ عَلَى السُّدَّاتِ ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، تُوَكَّلُ بِهِمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا ، يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے غریب لوگ ، خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، عرض کی گئی : ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے ، ان کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، انہیں اندر نہیں آنے دیا جائے گا ، وہ خوشحال عورتوں سے شادی نہیں کر سکیں گے ، اُن کے وسیلے سے زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں میں کھایا جائے گا ، وہ اپنے تمام فرائض سرانجام دیں گے ، لیکن انہیں اُن کے تمام حقوق نہیں ملیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17893
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا ، أَوْ بِأَرْبَعِينَ سَنَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَامِلٍ الْمَوْصِلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے غریب لوگ ، اس کے خوشحال لوگوں سے ، چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ( یہاں سال کے لئے استعمال ہونے والے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے )
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوکامل موصلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوکامل موصلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17894
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ " . قُلْتُ : وَمَا نِصْفُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : ( إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ ) . قَالَ : " وَيَدْخُلُونَ جَمِيعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ " . قُلْتُ : وَمَا كَانَتْ صُورَةُ آدَمَ ؟ قَالَ : " كَانَ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا طُولُهُ فِي السَّمَاءِ ، وَسِتًّا عَرْضًا " . قُلْتُ : أَيُّ ذِرَاعٍ ؟ قَالَ : " الذِّرَاعُ طُولُ الرَّجُلِ الطَّوِيلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ مَوْلَاهُمْ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” غریب مسلمان ، خوشحال مسلمانوں سے ، نصف دن پہلے ( جنت میں ) داخل ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : نصف دن کتنا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کی مانند ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو ان سب کا قد و قامت سیدنا آدم علیہ السلام جتنا ہو گا ، میں نے دریافت کیا : سیدنا آدم علیہ السلام کا قد و قامت کتنا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کا قد بارہ ذراع ( یعنی کہنی سے لے کے درمیانی بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) لمبا تھا اور چھ ذراع چوڑا تھا ، میں نے دریافت کیا : کون سا ذراع ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جتنا لمبا ” ذراع “ طویل شخص کا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے جو ان لوگوں کے ساتھ نسبت ولاء رکھتا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے جو ان لوگوں کے ساتھ نسبت ولاء رکھتا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17895
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ إِلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْهِ الْحَوْتَكِيَّةُ فَقَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ ، وَلَتَفْتَحُنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” صفہ “ کے چبوترے پر ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے عمامہ شریف باندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اگر تم یہ بات جان لو ! کہ تمہارے لئے کیا کچھ سنبھال کے رکھا گیا ہے ؟ تو تم ان چیزوں کے حوالے سے غمگین نہ ہو ، جو تم سے لپیٹ کے رکھی گئی ہیں ، عنقریب فارس اور روم تمہارے لیے فتح ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17896
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : مَا أَنَا مُتَخَلِّفٌ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَجِيءُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كُورِهِمْ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : قِفُوا لِلْحِسَابِ ، فَيَقُولُونَ : مَا أَعْطَيْتُمُونَا شَيْئًا تُحَاسِبُونَا عَلَيْهِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِأَرْبَعِينَ سَنَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کبھی کسی پہلی مہم سے پیچھے نہیں رہا ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن غریب مسلمان آئینگے ، اُن سے کہا: جائے گا : حساب دینے کے لیے رک جاؤ ! وہ کہیں گے : ہمیں ایسی چیز ہی نہیں دی گئی ، جس کے حوالے سے تم ہم سے حساب لو “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وہ ( غریب لوگ ، دوسرے لوگوں سے چالیس سال پہلے ، جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17897
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ : أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ : إِنَّا مُسْتَعْمِلُوكَ عَلَى هَؤُلَاءِ تَسِيرُ بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَتُجَاهِدُ بِهِمْ ، قَالَ : فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ فِيهِ : قَالَ سَعِيدٌ : مَا أَنَا بِمُتَخَلِّفٍ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فَقُرَّاءَ الْمُسْلِمِينَ يُزَفُّونَ كَمَا تُزَفُّ الْحَمَامُ " . قَالَ : " فَيُقَالُ لَهُمْ : قِفُوا لِلْحِسَابِ ، فَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ ، مَا تَرَكْنَا شَيْئًا نُحَاسَبُ بِهِ . فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : صَدَقَ عِبَادِي ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِينَ عَامًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن سابط بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں تمہیں ان لوگوں کا امیر مقرر کر رہا ہوں ، تم انہیں لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف جاؤ اور ان کے ہمراہ جہاد کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کسی بھی پہلی مہم سے پیچھے نہیں رہوں گا ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک غریب مسلمان یوں سمٹ کر جائیں گے جیسے کبوتر سمٹ کر جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں سے یہ کہا: جائے گا : تم لوگ حساب کے لیے ٹھہر جاؤ ! تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی جس کے حوالے سے ہم سے حساب لیا جائے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا: ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ لوگ ، دوسرے لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17898
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ . وَفِي إِسْنَادَيْهِمَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
اس کے بعد انہوں نے اسے سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ اس کی مانند ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17899
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ تَامٌّ ، وَأَخَذَ الْعَرَقُ فِي جُلُودِنَا طُرُقًا مِنَ الْغُبَارِ وَالْوَسَخِ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لِتُبَشَّرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " . إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ إِلَّا كَلَّفَتْهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ بِكَلَامٍ يَعْلُو كَلَامَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ هَذَا وَضَرَبَهُ ، يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ كَلَيِّ الْبَقَرِ بِلِسَانِهَا الْمَرْعَى ، كَذَلِكَ يَلْوِي اللَّهُ تَعَالَى أَلْسِنَتَهُمْ وَوُجُوهَهُمْ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں تھا ، مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے جسم پر مکمل لباس نہیں ہوتا تھا اور ہمارے چمڑے کے لباس پر غبار اور میل کچیل کے ہمراہ پسینہ بھی آ جایا کرتا تھا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : غریب مہاجرین کے لیے خوشخبری ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران ایک شخص جو ظاہری حلیے سے خوشحال لگ رہا تھا وہ آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی بات کرتے تھے تو وہ شخص یہ کوشش کرتا تھا کہ اس کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے زیادہ نمایاں ہو ، جب وہ شخص واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص اور اس جیسے لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنی زبان کو یوں موڑ لیتے ہیں جس طرح چراگاہ میں گائے اپنی زبان کو موڑتی ہے اور جہنم میں ، اللہ تعالی ان کی زبانوں اور ان کے چہروں کو موڑ دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17900
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْأَغْنِيَاءَ [ وَالنِّسَاءَ ] " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے جنت کا جائزہ لیا تو میں نے اہل جنت میں اکثریت غریبوں کی دیکھی ، میں نے جہنم کا جائزہ لیا ، تو میں نے اہل جہنم میں اکثریت خوشحال لوگوں اور عورتوں کی دیکھی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17901
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الضُّعَفَاءَ وَالْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے جنت کا جائزہ لیا ، تو میں نے اہل جنت میں اکثریت کمزور لوگوں اور غریبوں کی دیکھی ، اور میں نے جہنم کا جائزہ لیا ، تو میں نے اہل جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ضحاک بن یسار کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ضحاک بن یسار کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17902
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشَفَةً بَيْنَ يَدِي فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : بِلَالٌ . فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْمُهَاجِرُونَ ، وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ ، قِيلَ لِي : أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَهُنَا [ بِالْبَابِ ] يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ ، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَأَلْهَاهُمُ الْأَحْمَرَانِ : الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ " . ¤ قَالَ : " ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي [ فِي كِفَّةٍ ] فَرَجَحْتُ بِهَا ، ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا ، فَرَجَحَ عُمَرُ ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ فَقُلْتُ : عَبْدَ الرَّحْمَنِ ! فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ] مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ فَأُمَحَّصُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِمَا مُطَرِّحُ بْنُ يَزِيدَ ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِمَا ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَحَدُ الْعَشَرَةِ الْمَشْهُودِ لَهُمْ بِالْجَنَّةِ ، وَهُمْ مِنْ أَفْضَلِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا ، میں نے اپنے آگے کوئی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کی ہے ؟ اس ( فرشتے ) نے بتایا : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی ہے ، میں چلتا رہا ، تو اہل جنت میں اکثریت غریب مہاجرین اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی ، اور وہاں سب سے کم تعداد خوشحال لوگوں اور عورتوں کی تھی ، مجھے بتایا گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے تو وہ دروازے پر رکے ہوئے ہیں ، ان سے حساب لیا جا رہا ہے اور تفتیش کی جا رہی ہے ، جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں ، یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے باہر آئے ، جب میں دروازے کے پاس موجود تھا تو ایک ترازو لایا گیا ، مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو میرا پلڑا وزنی تھا پھر ابوبکر کو لایا گیا اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو ابوبکر کا پلڑا وزنی تھا پھر عمر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو عمر کا پلڑا وزنی تھا پھر میری امت کے ایک ، ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن کو آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ اس وقت آیا جب اس کے حوالے سے مایوسی ہو چکی تھی ، میں نے کہا: اے عبدالرحمن ! ( تم کہاں رہ گئے تھے ؟ ) اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں خلاصی پا کر اس وقت آپ کے پاس آیا ہوں ، جب میں یہ گمان کر رہا تھا کہ میں کبھی بھی نجات پا کر آپ کے پاس نہیں آ سکوں گا ، سوائے اس کے کہ ( حساب دیتے ہوئے ) بوڑھا ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کسی چیز کا ؟ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اپنے مال کے زیادہ ہونے کا مجھ سے حساب لیا جاتا رہا اور تفتیش کی جاتی رہی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی مطرح بن یزید ہے اور ایک راوی علی بن یزید ہے اور ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان حضرات میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر ، صلح حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور یہ ان دس افراد میں سے ایک ہیں ، جن کے بارے میں جنت کی گواہی دی گئی ، اور یہ فضیلت رکھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی مطرح بن یزید ہے اور ایک راوی علی بن یزید ہے اور ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان حضرات میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر ، صلح حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور یہ ان دس افراد میں سے ایک ہیں ، جن کے بارے میں جنت کی گواہی دی گئی ، اور یہ فضیلت رکھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں ۔
حدیث نمبر: 17903
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الشَّامِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أَعْطِيَاتِهِمْ ، وَاغْزُ بِهِمْ ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ النَّهَارِ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ فَقَالَ لَهُ : يَا مُعَاذُ ، مُرْ لِي بِعَطَائِي فَإِنِّى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ، وَفُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَدَائِنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ، تَفْضُلُ الْمَدَائِنُ بِالْجُمُعَةِ ، وَالْجَمَاعَاتِ ، وَحِلَقِ الذِّكْرِ ، وَإِذَا كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ تَفَرَّدَ بِأَشْيَاءَ ، وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ : كَانَ يَفْهَمُ وَيَحْفَظُ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : حَافِظٌ رَحَّالٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں لکھا : کہ تم لوگوں کو ان کی تنخواہیں ادا کر دو اور پھر انہیں ساتھ لے کر جنگ میں حصہ لو ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے ، یہ دن کے آخری حصے کی بات ہے ، اسی دوران دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سیدنا معاذ ! آپ مجھے ادائیگی کرنے کا حکم جاری کر دیں ، کیونکہ میں فلاں دیہاتی علاقے کا رہنے والا شخص ہوں اور میں چاہتا ہوں ، میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کو ادائیگی نہیں کر دیتا ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی مراد شہر والے لوگ تھے ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمام انبیاء کرام علیہم السلام ، سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان ، امیر مسلمانوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، دیہاتی علاقوں کے رہنے والوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، شہروں کو جمعہ ، اجتماعات ، ذکر کے حلقوں کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے اور اگر کوئی آزمائش ہو تو وہ بھی شہر میں آتی ہے دیہاتوں میں نہیں آتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے , وہ کہتے ہیں :
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے اور کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : یہ سمجھ بھی رکھتا تھا اور حافظہ بھی رکھتا تھا ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ حافظ ہے اور اس نے علم کی طلب میں سفر کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے , وہ کہتے ہیں :
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے اور کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : یہ سمجھ بھی رکھتا تھا اور حافظہ بھی رکھتا تھا ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ حافظ ہے اور اس نے علم کی طلب میں سفر کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17904
وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ .
محمد محی الدین
سیدنا امیہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غریب مسلمانوں کے وسیلے سے فتح طلب کیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 17905
وَفِي رِوَايَةٍ : يَسْتَنْصِرُ بِصَعَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : “” “” غریب مسلمانوں کے وسیلے سے مدد طلب کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17906
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا ، وَتَوَّفَنِي مِسْكِينًا ، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْأَوْزَاعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو مجھے غریب ہونے کے طور پر زندہ رکھنا ، مجھے غریب ہونے کے طور پر موت دینا اور ( قیامت کے دن ) مجھے غریبوں کے گروہ میں اٹھانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے امام طبرانی کے استاد اور عبیداللہ بن زیاد اوزاعی نامی راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے امام طبرانی کے استاد اور عبیداللہ بن زیاد اوزاعی نامی راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17907
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَمَرَنِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعٍ : بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي ، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل علیہ السلام نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا تھا : ” غریبوں سے محبت رکھنا اور ان کے قریب رہنا ، آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھوں اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں صلہ رحمی کروں اگرچہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہ ہو رہا ہو اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں کسی سے کوئی چیز نہ مانگوں اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں حق بات کہوں ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی میں پرواہ نہ کروں ، اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں کثرت کے ساتھ «” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ » پڑھوں ، کیونکہ یہ عرش کے نیچے موجود خزانوں میں سے ہے ۔ “
حدیث نمبر: 17908
وَفِي رِوَايَةٍ : وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْحَمَ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسَهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں غریبوں پر رحم کروں اور اُن کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا رہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17909
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُعَلِّمُكُمْ خَمْسًا : حُبَّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوَّ مِنْهُمْ ، وَانْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ فَوْقَكُمْ ، وَصِلُوا الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَقُولُوا الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں پانچ باتوں کی تعلیم نہ دوں ؟ غریبوں سے محبت رکھنا اور ان کے قریب رہنا ، اور تم لوگ اس کا جائزہ لو جو تم سے نیچے ہو ، اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہو ، اور تم صلہ رحمی کرو ، اگرچہ تمہارے ساتھ ایسا نہ ہو رہا ہو ، اور تم حق بات کہو ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور تم کثرت کے ساتھ ” لا حول ولا قوة الا بالله “ پڑھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17910
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَقِلُّ طُعْمُهُمْ فَتَسْتَنِيرُ بُيُوتُهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُطَّلِبِ الْعِجْلِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” کسی گھر والوں کا کھانا کم ہوتا ہے اور اُن کے گھر نورانی ہوتے ہیں ۔ “ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مطلب عجلی ہے جسے عقیلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17911
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ عَقَبَةً كَئُودًا لَا يَنْجُو مِنْهَا إِلَّا كُلُّ مُخِفٍّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى بْنِ مُسْلِمٍ الصَّغِيرِ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ، اس سے وہی نجات پائے گا ، جو ہلکا پھلکا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ اور موسیٰ بن مسلم صغیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ، اس سے پہلے والے باب میں گزر چکی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ اور موسیٰ بن مسلم صغیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ، اس سے پہلے والے باب میں گزر چکی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17912
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَعَلِمْتَ أَنَّ بَيْنَ أَيْدِينَا عَقَبَةً كَئُودًا لَا يَصْعَدُهَا إِلَّا الْمُخِفُّونَ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنَ الْمُخِفِّينَ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُثْقِلِينَ ؟ فَقَالَ : " عِنْدَكَ طَعَامُ يَوْمٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . وَطَعَامُ غَدٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَطَعَامُ بَعْدَ غَدٍ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَكَ طَعَامُ ثَلَاثٍ كُنْتَ مِنَ الْمُثْقِلِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہمارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اور اس پر وہی لوگ چڑھ سکیں گے ، جن کے ( سامان کا وزن کم ہو گا ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں ( سامان کے حوالے سے ) تھوڑے وزن والوں میں ہوں ؟ یا زیادہ وزن والوں میں ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے پاس ایک دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کل کے دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پرسوں کے دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارے پاس تین دن کا کھانا ہو ، تو تم ( سامان کے حوالے سے ) وزن والوں میں سے ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17913
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ ، وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ ، كَانَا فِي الدُّنْيَا ، فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ ، وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ فَقَالَ : يَا أَخِي ، مَاذَا حَبَسَكَ ؟ وَاللَّهِ ، لَقَدْ حُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ ، فَيَقُولُ : يَا أَخِي ، إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ حَبْسًا فَظِيعًا كَرِيهًا ، وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي مِنَ الْعَرَقِ مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ كُلُّهَا آكِلَةُ حِمْضٍ لَصَدَرْنَ عَنْهُ رُوَاءً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دُوَيْدٌ غَيْرُ مَنْسُوبٍ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ سُفْيَانَ فَقَدْ ذَكَرَهُ الْعِجْلِيُّ فِي كِتَابِ الثِّقَاتِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کے دروازے پر دو مؤمن ایک دوسرے سے ملیں گے ، ایک خوشحال مومن ہو گا اور ایک غریب مومن ہو گا ، وہ دنیا میں ( ایسے ) رہے ہوں گے ، غریب کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، اور خوش حال شخص کو جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، روک کر رکھا جائے گا پھر اسے بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، غریب کی اس سے ملاقات ہو گی تو وہ کہے گا : اے میرے بھائی ! تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا ؟ تم اتنی دیر تک رکے رہے کہ اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہونے لگا ، تو خوشحال شخص کہے گا : اے میرے بھائی ! تمہارے بعد مجھے ایسے طریقے سے روکا گیا ، جو خوفزدہ کرنے والا اور ناپسندیدہ تھا ، اور تم تک پہنچنے سے پہلے ( یعنی حساب دینے کے دوران ) میرا اتنا پسینہ بہہ گیا کہ اگر اس کے پاس ایک ہزار ایسے اونٹ آتے جو نمکین جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں ، تو وہ اس پسینے کو پی کر سیراب ہو کر واپس جاتے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، اگر تو یہ وہ شخص ہے جس سے سفیان نے روایت نقل کی ہے ، تو عجلی نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلم بن بشیر کا معاملہ ختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، اگر تو یہ وہ شخص ہے جس سے سفیان نے روایت نقل کی ہے ، تو عجلی نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلم بن بشیر کا معاملہ ختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔