کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مال کے کم ہونے کی ، جو تعریف کی گئی ہے
حدیث نمبر: 17879
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ : الْمَوْتُ ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِنَ الْفِتْنَةِ ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دو چیزیں ایسی ہیں ، جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے ، موت حالانکہ موت ، فتنے سے بہتر ہے ، اور وہ مال کے کم ہونے کو ناپسند کرتا ہے ، جبکہ مال کم ہو گا ، تو حساب بھی کم دینا پڑے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17879
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (427/5)»
حدیث نمبر: 17880
وَعَنْ أَبِي أَسْمَاءَ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ ، وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ لَهُ ، سَوْدَاءُ بَشِعَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا أَثَرُ الْمَجَاسِدِ ، وَلَا الْخَلُوقِ ، فَقَالَ : أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَا تَأْمُرُنِي بِهِ هَذِهِ السُّوَيْدَاءُ ؟ تَأْمُرُنِي أَنْ آتِيَ الْعِرَاقَ ، فَإِذَا أَتَيْتُ الْعِرَاقَ مَالُوا عَلَيَّ بِدُنْيَاهُمْ ، وَإِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّ دُونَ جِسْرِ جَهَنَّمَ طَرِيقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزَلَّةٍ ، وَإِنَّا إِنْ نَأْتِ عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ أَوِ اضْطِمَارٌ أَحْرَى أَنْ نَنْجُوَ مِنْ أَنْ نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ مَوَاقِيرُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فِي أَوَاخِرِ الْبَابِ بَعْدَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
ابواسماء بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جو ” ربذہ “ کے مقام پر موجود تھے ، اُن کے پاس ایک سیاہ فام خاتون بیٹھی ہوئی تھی ، جو خراب حلیے میں تھی ، اس نے کوئی زعفران یا خوشبو نہیں لگائی ہوئی تھی ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ؟ کہ یہ سیاہ فام عورت مجھے کیا کہتی ہے ؟ یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں ، اگر میں عراق چلا جاتا ہوں ، تو وہاں کے لوگ تو اپنی دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں اور میرے خلیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ جہنم کے پل سے پہلے ایک راستہ ہے ، جس میں پھسلن اور خرابی ہے اور جب ہم اُس راستے پر آئیں گے ، تو ہمارا وزن کم ہو ، تو نجات کے حصول کے لیے یہ ( تھوڑا وزن ہونا ) اس سے زیادہ موزوں ہو گا کہ جب ہم وہاں پہنچیں تو ہم بوجھل ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث آگے چل کر آخری ابواب میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17880
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (159/5)»