کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: انسان کے مال ، اس کے عمل اور اس کے اہل خانہ کا بیان
حدیث نمبر: 17844
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ : فَخَلِيلٌ يَقُولُ : أَنَا مَعَكَ ، فَخُذْ مَا شِئْتَ ، وَدَعْ مَا شِئْتَ ، فَذَلِكَ مَالُهُ . وَخَلِيلٌ يَقُولُ : أَنَا مَعَكَ ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ ، فَذَلِكَ خَدَمُهُ وَأَهْلُهُ . وَخَلِيلٌ يَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ ، وَحَيْثُ خَرَجْتَ ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي الْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الرَّجُلِ وَمَثَلُ الْمَوْتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ : فَقَالَ الْأَوَّلُ : هَذَا مَالِي فَخُذْ مَا شِئْتَ ، وَأَعْطِ مَا شِئْتَ ، وَدَعْ مَا شِئْتَ . وَقَالَ الْآخَرُ : أَنَا مَعَكَ أَخْدِمُكَ ، فَإِذَا مُتَّ تَرَكْتُكَ ، وَقَالَ الْآخَرُ : أَنَا مَعَكَ أَدْخُلُ مَعَكَ ، وَأَخْرُجُ مَعَكَ ، إِنْ مِتَّ وَإِنْ حَيِيتَ . فَأَمَّا الَّذِي قَالَ : هَذَا مَالِي فَخُذْ مَا شِئْتَ ، وَدَعْ مَا شِئْتَ ، فَهُوَ مَالُهُ . وَالْآخَرُ عَشِيرَتُهُ ، وَالْآخَرُ عَمَلُهُ ، يَدْخُلُ مَعَهُ وَيَخْرُجُ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر بندے اور بندی ( یعنی ہر مرد اور عورت ) کے تین دوست ہوتے ہیں ، ایک دوست یہ کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم جو چاہو حاصل کر لو ، اور جو چاہو چھوڑ دو ، یہ اس کا مال ہے ایک دوست کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، جب تم بادشاہ کے دروازے پر جاؤ گے ، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ، یہ اُس کے خدمت گزار اور اس کے اہل خانہ ہیں اور ایک دوست یہ کہتا ہے : تم جہاں داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے ، میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، یہ اُس کا عمل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اور موت کی مثال اُس شخص کی مانند ہے ، جس کے تین دوست ہوں ، پہلا یہ کہے : یہ میرا مال ہے ، تم جو چاہو لے لو ، جو چاہو دے دو ، جو چاہو چھوڑ دو ، دوسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، میں تمہاری خدمت کرتا رہوں گا ، لیکن جب تم مر جاؤ گے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ، تیسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ رہوں گا تمہارے ساتھ اندر جاؤں گا ، تمہارے ساتھ باہر آؤں گا ، خواہ ( تم ) مر جاؤ ، یا تم زندہ رہو ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : کہ یہ میرا مال ہے ، تم اس میں سے جو چاہو لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو ، تو یہ اس شخص کا مال ہے ، اور دوسرا ( دوست ) آدمی کا خاندان ہے ، اور تیسرا دوست آدمی کا عمل ہے ، کہ آدمی جہاں بھی ہو گا وہ اس کے ساتھ اندر جائے گا اور اس کے ساتھ باہر آئے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور کبیر میں اس کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اور موت کی مثال اُس شخص کی مانند ہے ، جس کے تین دوست ہوں ، پہلا یہ کہے : یہ میرا مال ہے ، تم جو چاہو لے لو ، جو چاہو دے دو ، جو چاہو چھوڑ دو ، دوسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، میں تمہاری خدمت کرتا رہوں گا ، لیکن جب تم مر جاؤ گے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ، تیسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ رہوں گا تمہارے ساتھ اندر جاؤں گا ، تمہارے ساتھ باہر آؤں گا ، خواہ ( تم ) مر جاؤ ، یا تم زندہ رہو ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : کہ یہ میرا مال ہے ، تم اس میں سے جو چاہو لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو ، تو یہ اس شخص کا مال ہے ، اور دوسرا ( دوست ) آدمی کا خاندان ہے ، اور تیسرا دوست آدمی کا عمل ہے ، کہ آدمی جہاں بھی ہو گا وہ اس کے ساتھ اندر جائے گا اور اس کے ساتھ باہر آئے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور کبیر میں اس کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17845
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ : فَأَمَّا خَلِيلٌ يَقُولُ : مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ ، فَذَلِكَ مَالُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ ، فَذَلِكَ أَهْلُهُ ، وَخَلِيلٌ يَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ ، وَحَيْثُ خَرَجْتَ ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ ، فَيَقُولُ : إِنْ كُنْتَ لَأَهْوَنَ الثَّلَاثَةِ عَلَيَّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر شخص کے تین دوست ہوتے ہیں ، ایک دوست کہتا ہے : جو تم خرچ کرو گے وہ تمہارا ہوا ، اور جو تم خرچ نہیں کرو گے ، وہ تمہارا نہیں ہو گا ، یہ اس شخص کا مال ہے ، ایک دوست کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، جب تم بادشاہ کے دروازے پر آؤ گے ، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس چلا جاؤں گا ، یہ اس شخص کے اہل خانہ ہیں ، اور ایک دوست یہ کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، جب تم اندر جاؤ گے ، یا جب تم باہر آؤ گے ، یہ اس شخص کا عمل ہے ، تو آدمی کہتا ہے : تم ان تینوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ ہلکے تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمران قطان کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمران قطان کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17846
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِأَحَدِكُمْ يَوْمَ يَمُوتُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ ، مِنْهُمْ مَنْ يَمْنَعُهُ مَا سَأَلَهُ ، فَذَلِكَ مَالُهُ ، وَمِنْهُمْ خَلِيلٌ يَنْطَلِقُ مَعَهُ حَتَّى يَلِجَ الْقَبْرَ ، وَلَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا وَلَا يَمْنَعَهُ ، فَأُولَئِكَ قَرَائِنُهُ ، وَمِنْهُمْ خَلِيلٌ يَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ ذَهَبْتَ ، وَلَسْتُ بِمُفَارِقِكَ ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ ، إِنْ كَانَ خَيْرًا أَوْ شَرًّا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی ایک شخص جب مرتا ہے ، تو اس کے تین ساتھی ہوتے ہیں ، اُن میں سے ایک ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اس سے جو مانگتا ہے ، وہ انکار کر دیتا ہے ، یہ اس کا مال ہے ، ان میں سے ایک ساتھی ایسا ہوتا ہے جو آدمی کے ساتھ چلتا ہوا جاتا ہے ، یہاں تک کہ آدمی قبر میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ ساتھی اس آدمی کو کچھ نہیں دیتا اور نہ ہی کچھ منع کرتا ہے ، یہ اس کے رشتے دار ہیں ، ان میں سے ایک ساتھی یہ کہتا ہے : تم جہاں بھی جاؤ گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، یہ اس شخص کا عمل ہے ، خواہ وہ بھلا ہو یا برا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17847
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَالِهِ ، وَأَهْلِهِ ، وَعَمَلِهِ ، كَرَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ إِخْوَةٍ ، أَوْ ثَلَاثَةُ أَصْحَابٍ : فَقَالَ أَحَدُهُمْ : أَنَا مَعَكَ حَيَاتَكَ ، فَإِذَا مِتَّ فَلَسْتُ مِنْكَ ، وَلَسْتَ مِنِّي ، وَقَالَ الْآخَرُ : أَنَا مَعَكَ ، فَإِذَا بَلَغْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةَ فَلَسْتُ مِنْكَ ، وَلَسْتَ مِنِّي ، وَقَالَ الْآخَرُ : أَنَا مَعَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ابن آدم ، اُس کے مال ، اس کے اہل خانہ اور اس کے عمل کی مثال ، ایسے شخص کی مانند ہے ، جس کے تین بھائی ہوں ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس کے تین ساتھی ہوں ، اُن میں سے ایک کہے : میں تمہاری زندگی میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مر جاؤ گے تو میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور تمہارا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، دوسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، جب تم اس درخت تک پہنچ جاؤ گے ، تو میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور تمہارا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، اور تیسرا یہ کہے : میں زندگی اور موت ( ہر حال میں ) تمہارے ساتھ ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔