کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: میانہ روی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 17848
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ تنگدست نہیں ہوتا جو میانہ روی اختیار کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10118) اخرجه احمد فى المسند (4269)»
حدیث نمبر: 17849
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَالَ مُقْتَصِدٌ قَطُّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میانہ روی اختیار کرنے والا ، کبھی تنگدست نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17849
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12656)»
حدیث نمبر: 17850
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى ! مَا أَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ ! وَأَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْعِبَادَةِ ! " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ حَبِيبٍ ، وَمُسْلِمٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ إِلَّا ابْنَ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ سَعِيدٍ الرَّاوِي عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشحالی میں میانہ روی اختیار کرنا کتنی اچھی بات ہے ، غربت میں میانہ روی اختیار کرنا کتنی اچھی بات ہے ، عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا کتنی اچھی بات ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے سعید بن حکیم کی مسلم بن حبیب کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور مسلم نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، البتہ ابن حبان نے سعید نامی شخص کے حالات میں اس کا ذکر کیا ہے ، جو اس سے روایت نقل کرنے والا فرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3604)»
حدیث نمبر: 17851
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : تَمَشَّى مَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَأَجْهَدَهُ الصَّوْمُ ، فَحَلَبْنَا لَهُ نَاقَةً لَنَا فِي قَعْبٍ ، وَصَبَبْنَا عَلَيْهِ عَسَلًا نُكْرِمُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ فِطْرِهِ ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ نَاوَلْنَاهُ الْقَعْبَ ، فَلَمَّا ذَاقَهُ قَالَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ : " مَا هَذَا ؟ ! " قُلْنَا : لَبَنًا وَعَسَلًا ، أَرَدْنَا نُكْرِمُكَ بِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - " أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِمَا أَكْرَمْتَنِي " . أَوْ دَعْوَةً هَذِهِ مَعْنَاهَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ بَذَرَ أَفْقَرَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَجَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مِمَّنْ أَعْرِفُهُ اثْنَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا ، روزے کی وجہ سے آپ کو مشکل تھی ، ہم نے آپ کے لیے اپنی اونٹنی کا دودھ ایک پیالے میں دوہ لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کے اہتمام کے لیے ہم نے اس میں شہد ملا دیا ، جب سورج غروب ہوا تو وہ پیالہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ، جب آپ نے اسے چکھا تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : دودھ اور شہد ہے ، ہم نے اس کے ذریعے آپ کے لئے اہتمام کرنا چاہا تھا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ تمہاری عزت افزائی کرے ، جس طرح تم نے میری عزت افزائی کی ہے ۔ “ یا اس کی مانند کوئی اور دعائیہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے خوش حال کر دیتا ہے ، جو شخص فضول خرچی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے غریب کر دیتا ہے ، جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بلندی نصیب کرتا ہے ، جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں دو افراد ایسے ہیں ، جن سے میں واقف ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3605)»