حدیث نمبر: 17842
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ التَّبَقُّرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ . فَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ - وَهُوَ جَلِيسٌ عِنْدَهُ - : نَعَمْ . حَدَّثَنِي أَخْرَمُ الطَّائِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكَيْفَ بِأَهْلِ بَرَاذَانَ وَأَهْلِ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَهْلِ كَذَا ؟ قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِأَبِي التَّيَّاحِ : مَا التَّبَقُّرُ ؟ قَالَ : الْكَثْرَةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم اپنے اہل خانہ اور مال کے بارے میں کثرت کے حصول کے خواہشمند ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابوحمزہ ، جو اس وقت ان ( محدث ) کے پاس موجود تھے ، انہوں نے کہا: جی ہاں ! اخرم طائی نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ، اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو براذان والوں کا کیا بنے گا ؟ مدینہ والوں کا کیا بنے گا ؟ اور فلاں والوں کا کیا بنے گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ابوتیاح سے دریافت کیا : لفظ ” تبقر“ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کثرت ( کا طلبگار ہونا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ان میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ان میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17843
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ ، إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ . فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أَنْفِقْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَهُ طُرُقٌ تَقَدَّمَتْ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے : اے ام المؤمنین ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا ، کیونکہ میں قریش میں سے سب سے زیادہ مالدار ہوں ، میں نے اپنی زمین چالیس ہزار دینار کے عوض میں فروخت کی ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو پہلے گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو پہلے گزر چکے ہیں ۔