حدیث نمبر: 17818
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَصْبَحَ وَهَمُّهُ الدُّنْيَا فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، وَمَنْ لَمْ يَهْتَمَّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ أَعْطَى الذِّلَّةَ مِنْ نَفْسِهِ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ فَلَيْسَ مِنَّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کی پریشانی دنیا کے بارے میں ہوتی ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی حیثیت کا مالک نہیں ہوتا ، اور جو شخص مسلمانوں کے لیے اہتمام نہیں کرتا ( یعنی ان کے لیے پریشان نہیں ہوتا ) وہ ان میں سے نہیں ہے ، اور جو شخص خود کو ذلت کا شکار کروائے ، اور اپنی خوشی کے ساتھ ایسا کرے ، کوئی زبردستی نہ ہو ، تو وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17819
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَصْبَحَ حَزِينًا عَلَى الدُّنْيَا أَصْبَحَ سَاخِطًا عَلَى رَبِّهِ تَعَالَى ، وَمَنْ أَصْبَحَ يَشْكُو مُصِيبَةً نَزَلَتْ بِهِ ، فَإِنَّمَا يَشْكُو اللَّهَ تَعَالَى ، وَمَنْ تَضَعْضَعَ لِغَنِيٍّ لِيَنَالَ مِمَّا فِي يَدَيْهِ أَسْخَطَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ أُعْطِيَ الْقُرْآنَ فَدَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ صَاحِبُ ثَابِتٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ دنیا کے حوالے سے پریشان ہو ، تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے ناراض ہوتا ہے اور جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ کسی نازل ہونے والی مصیبت کا شکوہ کر رہا ہو ، تو وہ شخص دراصل اللہ تعالیٰ کی شکایت کر رہا ہوتا ہے ، اور جو شخص کسی مالدار کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا ہے ، تاکہ اس کے پاس موجود مال میں سے کچھ حاصل کر لے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے ، اور جس شخص کو قرآن دیا جائے اور پھر بھی وہ جہنم میں جائے ، اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن راشد بصری ہے ، جو ثابت کا شاگرد ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن راشد بصری ہے ، جو ثابت کا شاگرد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17820
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَضَى نَهْمَتَهُ فِي الدُّنْيَا حِيلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَهْوَتِهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَنْ فَدَّ عَيْنَيْهِ إِلَى زِينَةِ الْمُتْرَفِينَ كَانَ مَهِينًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ ، وَمَنْ صَبَرَ عَلَى الْقُوتِ الشَّدِيدِ صَبْرًا جَمِيلًا أَسْكَنَهُ اللَّهُ مِنَ الْفِرْدَوْسِ حَيْثُ شَاءَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں کھانے پینے کے حوالے سے اپنی خواہش پوری کر لیتا ہے ، آخرت میں اس شخص ، اور اس کی خواہش کے درمیان رکاوٹ آ جائے گی ، اور جو شخص اپنی نگاہیں خوش حال لوگوں کی زینت کی طرف رکھتا ہے ، وہ آسمانوں کی بادشاہی میں بے عزت ہوتا ہے ، جو شخص بنیادی ضروریات پر صبر جمیل سے کام لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ فردوس میں اُسے وہاں ٹھہرائے گا جہاں وہ چاہے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17821
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ ، الَّذِي إِنَّمَا هَمُّهُ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ يُصِيبُهُ فَيَأْخُذُهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دینار کا بندہ اور درہم کا بندہ برباد ہو جائے ، جس کی تمام تر توجہ دینار اور درہم کے بارے میں ہوتی ہے کہ وہ ( درہم یا دینار ) اسے مل جائے ، تو وہ ( کسی بھی طرح ) اُسے حاصل کر لے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم ابویحیی تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم ابویحیی تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17822
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ ، وَبَثَّ شَكْوَاهُ لَمْ يَصْعَدْ لَهُ إِلَى اللَّهِ عَمَلٌ ، وَلَقِيَ اللَّهَ ، وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ الْأُمَوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے رزق کے حوالے سے ناراض ہو ، اور اپنے شکوے کو پھیلا دے ، اُس کا کوئی عمل ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش نہیں ہوتا ، اور جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبداللہ شامی اموی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبداللہ شامی اموی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔