کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس شخص کی نیت ، یا توجہ کا مرکز ، دنیا ، یا آخرت ہو
حدیث نمبر: 17813
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الْآخِرَةَ جَعَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - الْغِنَى فِي قَلْبِهِ ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ ، وَنَزَعَ الْفَقْرَ مِنْ بَيْنِ عَيْنَيْهِ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ ، فَلَا يُصْبِحُ إِلَّا غَنِيًّا ، وَلَا يُمْسِي إِلَّا غَنِيًّا . وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَلَا يُصْبِحُ إِلَّا فَقِيرًا ، وَلَا يُمْسِي إِلَّا فَقِيرًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی نیت آخرت ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں خوشحالی ڈال دے گا اور اس کے معاملات کو اس کے لیے سمیٹ دے گا ، اور غربت کو اس کی آنکھوں کے سامنے سے الگ کر دے گا اور دنیا فرمانبردار ہو کر اس کی طرف آئے گی وہ شخص صبح کے وقت بھی غنی ہو گا ، شام کے وقت بھی غنی ہو گا ، اور جس شخص کی نیت ، دنیا ہو گی اللہ تعالیٰ غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا وہ شخص صبح کے وقت بھی فقیر ہو گا اور شام کے وقت بھی فقیر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17814
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هِمَّتَهُ وَسَدَمَهُ ، وَلَهَا يَشْخَصُ ، وَإِيَّاهَا يَنْوِي ; جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ . وَمَنْ كَانَتَ الْآخِرَةُ هِمَّتَهُوَسَدَمَهُ ، وَلَهَا يَشْخَصُ ، وَإِيَّاهَا يَنْوِي ; جَعَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْغِنَى فِي قَلْبِهِ ، وَجَمَعَ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ صَاغِرَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِسَنَدَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، وَفِي الْآخَرِ أَيُّوبُ بْنُ حَوْطٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز دنیا ہو گی ، وہ اسی کی طرف متوجہ رہے گا ، اسی کی نیت رکھے گا ، تو اللہ تعالیٰ غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور اس کے معاملات کو بکھیر دے گا ، اور دنیا میں سے صرف اتنا حصہ اس کے پاس آئے گا ، جو اس کے نصیب میں ہو گا ۔ اور جس شخص کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز آخرت ہو گی ، اور وہ اسی کی طرف متوجہ رہے گا اور اسی کی نیت رکھے گا ، تو اللہ تعالیٰ خوشحالی اس کے دل میں ڈال دے گا ، اس کے معاملات سمیٹ دے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ، ایک راوی داؤد بن محبر ہے اور دوسری میں ایک راوی ایوب بن حوط ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 17815
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي حَتَّى يُبَلِّغَهَا غَيْرَهُ : ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنُّصْحُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَاللُّزُومُ لِجَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ . إِنَّهُ مَنْ تَكُنِ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ يَجْعَلِ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَيُشَتِّتْ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ . وَمَنْ تَكُنِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ يَجْعَلُ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَيَكْفِيهِ ضَيْعَتَهُ ، وَتَأْتِيهِ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو میری بات سنتا ہے اور اسے دوسرے تک پہنچا دیتا ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان شخص کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کے لئے خیرخواہی اور ان ( مسلمانوں ) کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ ان کی دعا غیر موجود افراد پر بھی محیط ہوتی ہے ، جس شخص کی نیت دنیا ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کی غربت اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دے گا ، اور اس کے معاملات کو بکھیر دے گا اور دنیا میں سے صرف اتنا حصہ اس کے پاس آئے گا جو اس کے نصیب میں ہو گا ، اور جس شخص کی نیت آخرت ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کی خوشحالی اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کے معاملات کے حوالے سے اس کی کفایت کرے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 17816
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَفَرَّغُوا مِنْ هُمُومِ الدُّنْيَا مَا اسْتَطَعْتُمْ ; فَإِنَّهُ مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّهِ أَفْشَى اللَّهُ ضَيْعَتَهُ ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ أَكْبَرَ هَمِّهِ جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَمَا أَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ تَفِدُ إِلَيْهِ بِالْوُدِّ وَالرَّحْمَةِ ، وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ خَيْرٍ إِلَيْهِ أَسْرَعَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ الْمَصْلُوبُ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہاں تک تم سے ہو سکے ، دنیا کی پریشانیوں سے لاتعلق رہو ، کیونکہ جس شخص کی پریشانی کا سب سے بڑا مرکز دنیا ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو پھیلا دے گا ، اور اس کی غربت کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور جس شخص کی پریشانی کا سب سے بڑا مرکز آخرت ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سمیٹ دے گا ، اس کی خوشحالی اس کے دل میں ڈال دے گا اور جب بندہ اپنے دل کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دلوں کو محبت اور رحمت کے ہمراہ ، اس شخص کی طرف لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بھلائی کی طرف جلدی لے آتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید بن حسان مصلوب ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (5157)»
حدیث نمبر: 17817
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَذَكَرَهُ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ جَمَعَ اللَّهُ لَهُ شَمْلَهُ وَجَعَلَ َغِنَاهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّهِ فَرَّقَ اللَّهُ شَمْلَهُ ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَلَمْ يُؤْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد خیف میں ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد اس کی شان کے مطابق بیان کی اور پھر یہ فرمایا : ” جس شخص کی پریشانی آخرت کے بارے میں ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو اس کے لیے سمیٹ دے گا ، اور اس کی خوشحالی کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا ، اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی ، اور جس شخص کی پریشانی ، دنیا کے بارے میں ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو بکھیر دے گا ، اس کی غربت کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا میں سے صرف اتنی اس کے پاس آئے گی ، جو اس کے لئے لکھی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11690)»