حدیث نمبر: 17785
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ جَدِّي فِي غَنَمٍ كَثِيرَةٍ تُرْضِعُهُ أُمُّهُ فَتَرْوِيهِ ، فَانْفَلَتَ يَوْمًا فَرَضَعَ الْغَنَمَ كُلَّهَا ، ثُمَّ لَمْ يَشْبَعُ ، فَقِيلَ : إِنَّ مِثْلَ هَذَا قَوْمٌ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْهُمْ مَا يَكْفِي الْقَبِيلَةَ أَوِ الْأُمَّةَ ، ثُمَّ لَا يَشْبَعُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ ، اخْتَلَطَ قَبْلَ مَوْتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک بکری کا بچہ تھا ، جو بہت سی بکریوں کے درمیان موجود تھا ، اس کی ماں اسے دودھ پلاتی تھی اور وہ سیر ہو جاتا تھا ، ایک دن وہ چلا گیا ، اس نے ساری بکریوں کا دودھ پیا لیکن پھر بھی وہ سیر نہیں ہوا ، تو یہ بات کہی گئی : یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو تمہارے بعد آئیں گے ، اُن میں سے کسی شخص کو اتنا کچھ دیا جائے گا ، جو ایک قبیلے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک اُمت کے لئے کافی ہو گا ، لیکن وہ شخص پھر بھی سیر نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مرنے سے پہلے اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مرنے سے پہلے اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔