حدیث نمبر: 17750
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَلَكٌ بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ : مَنْ يُقْرِضُ الْيَوْمَ يُجْزَ غَدًا ، وَمَلَكٌ بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقَ مَالٍ خَلَفًا ، وَأَعْطِ مُمْسِكَ مَالٍ تَلَفًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ : إِنَّهُ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے سے ایک فرشتہ یہ کہتا ہے : کون شخص آج قرض دے گا ؟ کہ کل اسے جزا دی جائے ، اور دوسرے دروازے سے ایک فرشتہ یہ کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ مزید عطا فرما ، اور خرچ نہ کرنے والے کے مال کو ضائع کر دے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17751
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِلنَّاسِ : مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ ؟ فَقَالَ النَّاسُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ ، وَضَيْعَتِكَ ، وَتِجَارَتِكَ ; فَهُوَ لَكَ ، فَقَالَ لِي : مَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ لِي : قُلْ . فَقُلْتُ : لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا ، فَقَالَ : لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ ، فَقُلْتُ : أَجَلْ وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتُ ، أَتَذْكُرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعِيًا فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ ، فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ ، فَقُلْتَ لِي : انْطَلِقْ مَعِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ خَاثِرًا فَرَجَعْنَا ، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ لَكَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ " . وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي مِنْ خُثُورِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَالَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ : " إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَا فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ ، فَكَانَ ذَلِكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُورِي لَهُ ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا فَذَلِكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي " . فَقَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ وَاللَّهِ ، لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ وَلَا عُمَرَ ; فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ . ¤ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ فِيهِ فَقُلْتُ : لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا ، وَعِلْمَكَ جَهْلًا ؟ فَقَالَ : لِتَخْرُجْنَ مِمَّا قُلْتَ ، أَوْ لَأُعَاقِبَنَّكَ ، وَقَالَ : لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لِمَ تُعَجِّلُ الْعُقُوبَةَ وَتُؤَخِّرُ الشُّكْرَ . ¤ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي وَعِنْدِي دَنَانِيرُ قَدْ قَسَّمْتُهَا وَبَقِيَتْ مِنْهَا سَبْعَةٌ " .
محمد محی الدین
ابوبختری نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: اس مال میں سے جو مال بچ گیا ہے ، اس کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! ہماری وجہ سے آپ اپنے اہل خانہ کو ، اپنی زمین کو ، اپنی تجارت کو وقت نہیں دے پاتے ہیں ، تو یہ مال آپ کو ملنا چاہیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : آپ بھی کچھ کہیں ! تو میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان کیوں بناتے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنی بات کی وضاحت کریں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، اللہ کی قسم ! میں اپنی بات واضح کر دیتا ہوں ، کیا آپ کو یہ بات یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ، تو آپ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے ، انہوں نے اپنی زکوۃ آپ کو نہیں دی تھی ، اور آپ دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی تھی ، آپ نے مجھ سے یہ کہا: تھا : تم میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو ! جب ہم آئے ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان پایا ، تو ہم واپس آ گئے ، اگلے دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے آپ کو پایا کہ آپ کا مزاج خوشگوار ہے ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ گزشتہ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان تھے ، اور آج کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج خوشگوار تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ دن جب تم دونوں میرے پاس آئے تھے ، اُس وقت میرے پاس صدقہ کے مال میں سے دو دینار بچ گئے تھے ، تو ان دونوں کی وجہ سے میں پریشان تھا ، جو تم دونوں نے دیکھا تھا ، اور آج جب تم دونوں میرے پاس آئے ہو ، تو میں ان دونوں کو خرچ کر چکا ہوں ، اسی لئے تم میرے مزاج کو خوشگوار دیکھ رہے ہو ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ) یہ کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، اللہ کی قسم ! اور میں پہلے اور بعد میں ، آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ بختری نامی راوی نے ، نہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، تو
یہ روایت مرسل اور مستند ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں نے کہا: آپ کیوں اپنے یقین کو گمان اور اپنے علم کو جہالت بناتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: یا تو تم اپنی بات کی وضاحت کرو ، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا ۔ ( بعد میں ) انہوں نے یہ کہا: میں پہلے اور بعد میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں ، تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ نے سزا کا ذکر جلدی کیوں کیا ؟ اور شکریہ کو مؤخر کیوں کیا ؟ امام بزار نے بھی
یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” جب تم دونوں میرے پاس آئے تھے ، تو میرے پاس کچھ دینار موجود تھے ، جنہیں میں نے تقسیم کر دیا تھا اور ان میں سے سات بچ گئے تھے ۔ “
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: اس مال میں سے جو مال بچ گیا ہے ، اس کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! ہماری وجہ سے آپ اپنے اہل خانہ کو ، اپنی زمین کو ، اپنی تجارت کو وقت نہیں دے پاتے ہیں ، تو یہ مال آپ کو ملنا چاہیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : آپ بھی کچھ کہیں ! تو میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان کیوں بناتے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنی بات کی وضاحت کریں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، اللہ کی قسم ! میں اپنی بات واضح کر دیتا ہوں ، کیا آپ کو یہ بات یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ، تو آپ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے ، انہوں نے اپنی زکوۃ آپ کو نہیں دی تھی ، اور آپ دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی تھی ، آپ نے مجھ سے یہ کہا: تھا : تم میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو ! جب ہم آئے ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان پایا ، تو ہم واپس آ گئے ، اگلے دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے آپ کو پایا کہ آپ کا مزاج خوشگوار ہے ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ گزشتہ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان تھے ، اور آج کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج خوشگوار تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ دن جب تم دونوں میرے پاس آئے تھے ، اُس وقت میرے پاس صدقہ کے مال میں سے دو دینار بچ گئے تھے ، تو ان دونوں کی وجہ سے میں پریشان تھا ، جو تم دونوں نے دیکھا تھا ، اور آج جب تم دونوں میرے پاس آئے ہو ، تو میں ان دونوں کو خرچ کر چکا ہوں ، اسی لئے تم میرے مزاج کو خوشگوار دیکھ رہے ہو ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ) یہ کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، اللہ کی قسم ! اور میں پہلے اور بعد میں ، آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ بختری نامی راوی نے ، نہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، تو
یہ روایت مرسل اور مستند ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں نے کہا: آپ کیوں اپنے یقین کو گمان اور اپنے علم کو جہالت بناتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: یا تو تم اپنی بات کی وضاحت کرو ، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا ۔ ( بعد میں ) انہوں نے یہ کہا: میں پہلے اور بعد میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں ، تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ نے سزا کا ذکر جلدی کیوں کیا ؟ اور شکریہ کو مؤخر کیوں کیا ؟ امام بزار نے بھی
یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” جب تم دونوں میرے پاس آئے تھے ، تو میرے پاس کچھ دینار موجود تھے ، جنہیں میں نے تقسیم کر دیا تھا اور ان میں سے سات بچ گئے تھے ۔ “
حدیث نمبر: 17752
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ، فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ؟ فَقَالَ : " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَيْنَا بِهَا أَمْسِ ، أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ کا چہرہ مبارک متغیر تھا ، میں سمجھی کہ شاید وہ کسی تکلیف کی وجہ سے ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے ؟ کہ آپ کا چہرہ متغیر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان سات دیناروں کی وجہ سے ایسا ہے ، جو گزشتہ شام ہمارے پاس لائے گئے تھے ، اور شام گزر گئی اور وہ بستر کے کونے میں موجود ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 17753
وَفِي رِوَايَةٍ : " أَمْسَيْنَا وَلَمْ نُنْفِقْهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” شام ہو گئی ہے اور ہم نے انہیں خرچ نہیں کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17754
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : أُتِيَ عُمَرُ بِمَالٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ ، فَاسْتَشَارَ فِيهَا فَقَالُوا : لَوْ تَرَكْتُهُ لِنَائِبَةٍ إِنْ كَانَتْ . قَالَ : وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ لَا تَتَكَلَّمُ ؟ قَالَ : قَدْ أَخْبَرَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : لَتُكَلِّمُنِي . فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَغَ مِنْ قِسْمَةِ هَذَا الْمَالِ ، وَذَكَرَ حَدِيثَ مَالِ الْبَحْرَيْنِ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يُقَسِّمَهُ اللَّيْلَ ، فَصَلَّى الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ ، فَقَالَ : لَا جَرَمَ لَتُقَسِّمَنَّهُ ; فَقَسَّمَهُعَلِيٌّ فَأَصَابَنِي مِنْهُ ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ مال لایا گیا ، وہ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا ، اس مال میں سے کچھ بچ گیا ، انہوں نے اس بچے ہوئے مال کے بارے میں مشورہ لیا ، تو لوگوں نے کہا: اگر آپ اسے کسی ممکنہ ضروری صورتحال کے لئے سنبھال کے رکھیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس دوران خاموش رہے انہوں نے کوئی بات نہیں کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : اے ابوالحسن ! کیا وجہ ہے ؟ آپ نے کوئی بات نہیں کی ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے بتا تو دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ بھی مجھے کچھ کہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اس مال کی تقسیم سے فارغ ہو چکا ہے ، پھر انہوں نے وہ حدیث ذکر کی ، جو بحرین کے مال کے بارے میں ہے ، جب وہ مال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اس مال کی تقسیم کے درمیان ، رات رکاوٹ بن گئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازیں مسجد میں ادا کی تھیں ، اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ( یعنی اس مال کے حوالے سے ) پریشانی دیکھی تھی ، یہاں تک کہ آپ اس کے حوالے سے فارغ ہو گئے ( یعنی جب آپ فارغ ہو گئے تو آپ کی پریشانی ختم ہوئی ) ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب تو یہ لازم ہے کہ آپ ہی اس مال کو تقسیم کریں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ مال تقسیم کیا ۔ راوی کہتے ہیں : اُس میں سے میرے حصے میں آٹھ سو درہم آئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 17755
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أَبْقَى صُبْحَ ثَالِثَةٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا أُعِدُّهُ لِدَيْنٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَطِيَّةُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اُحد پہاڑ سونے کا ہو کر موجود ہو ، اور پھر تیسرے دن کی صبح ، اُس میں سے کچھ بھی میرے پاس موجود ہو ، سوائے اُس کے ، جس کو میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17756
وَعَنْ سَمُرَةَ - يَعْنِي ابْنَ جُنْدَبٍ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا كُلَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اُحد پہاڑ ، سارے کا سارا سونے کا ہو کر موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17757
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو ذَرٍّ : يَا ابْنَ أَخِي ، كُنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِهِ فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا وَفِضَّةً أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قِنْطَارًا ؟ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَذْهَبُ إِلَى الْأَقَلِّ وَتَذْهَبُ إِلَى الْأَكْثَرِ ! أُرِيدُ الْآخِرَةَ وَتُرِيدُ الدُّنْيَا ، قِيرَاطًا " . فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْ جَبَلًا يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : أُحُدٌ . قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي ذَهَبًا قِطَعًا " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ” اے میرے بھتیجے ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوذر ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اُحد پہاڑ میرے لیے سونے اور چاندی کا ہو جائے ، اور میں اُسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں ، یہاں تک کہ جس دن میرا انتقال ہو ، تو میں نے اس میں سے ایک قیراط چھوڑ دیا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( ایک قیراط ، یا ) ایک قنطار ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! میں تھوڑے کی طرف جا رہا ہوں اور تم زیادہ کی طرف جا رہے ہو ، میں آخرت چاہتا ہوں اور تم دنیا چاہتے ہو ( میں نے کہا: ہے : ) ایک قیراط ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ میرے سامنے اُسے دہرایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ اے ابوذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے جواب دیا : احد ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس سونے کے ٹکڑے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ امام بزار کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ اے ابوذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے جواب دیا : احد ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس سونے کے ٹکڑے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ امام بزار کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17758
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّهُ جَاءَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَأُذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا كَعْبُ ، إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ مَاتَ ، وَتَرَكَ مَالًا ، فَمَا تَرَى فِيهِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ قَضَى فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ هَذَا الْجَبَلَ لِي ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيَتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ مِنْهُ خَلْفِي سِتَّ أَوَاقٍ " . أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ ، سَمِعْتَهُ ؟ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : قَالَ كَعْبٌ : إِنِّي أَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ ، قَالَ اللَّهُ : ( يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مَحَاهُ ، وَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت دی اُن کے ہاتھ میں عصا موجود تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب ! سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، انہوں نے مال چھوڑا ہے ، تو تم اس کے بارے میں کیا رائے دیتے ہو ؟ تو کعب نے جواب دیا : اگر انہوں نے اس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کر دیا تھا تو پھر ان پر کوئی حرج نہیں ہے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنا عصا اٹھایا اور وہ کعب کو مارا اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ پہاڑ میرے لیے سونے کا ہو جائے اور میں اُسے خرچ کرتا رہوں اور مجھ سے وہ لیا جاتا رہے اور پھر میں اس میں سے اپنے پیچھے چھ اوقیہ چھوڑ دوں ۔ “ ( پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے سیدنا عثمان ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کعب نے کہا: میں نے ” تورات“ میں وہ بات پائی ہے ، جو آپ لوگوں کو بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسے مٹا دیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کعب نے کہا: میں نے ” تورات“ میں وہ بات پائی ہے ، جو آپ لوگوں کو بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسے مٹا دیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 17759
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا تَحَوَّلَ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ إِنْ كَانَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت دی اُن کے ہاتھ میں عصا موجود تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب ! سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، انہوں نے مال چھوڑا ہے ، تو تم اس کے بارے میں کیا رائے دیتے ہو ؟ تو کعب نے جواب دیا : اگر انہوں نے اس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کر دیا تھا تو پھر ان پر کوئی حرج نہیں ہے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنا عصا اٹھایا اور وہ کعب کو مارا اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ پہاڑ میرے لیے سونے کا ہو جائے اور میں اُسے خرچ کرتا رہوں اور مجھ سے وہ لیا جاتا رہے اور پھر میں اس میں سے اپنے پیچھے چھ اوقیہ چھوڑ دوں ۔ “ ( پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے سیدنا عثمان ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کعب نے کہا: میں نے ” تورات“ میں وہ بات پائی ہے ، جو آپ لوگوں کو بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسے مٹا دیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کعب نے کہا: میں نے ” تورات“ میں وہ بات پائی ہے ، جو آپ لوگوں کو بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسے مٹا دیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 17760
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْ أَتَصَدَّقَ بِذَهَبٍ ، وَكَانَ عِنْدَهَا فِي مَرَضِهِ ، قَالَتْ : فَأَفَاقَ قَالَ : " مَا فَعَلْتِ ؟ " . قُلْتُ : شَغَلَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْكَ ، قَالَ : " فَهَلُمَّ بِهَا " . قَالَ : فَجَاءَتْ بِهَا إِلَيْهِ سَبْعَةً أَوْ تِسْعَةً - أَبُو حَازِمٍ يَشُكُّ - دَنَانِيرَ . فَقَالَ حِينَ جَاءَتْ بِهَا : " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ، وَمَا تَنْفِي هَذِهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں وہ سونا صدقہ کر دوں ، جو ان کے پاس موجود تھا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران کی بات ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی ، تو آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کی : آپ کی طبیعت کی وجہ سے میں مصروف رہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اُسے لاؤ ! ( یہاں ابوحازم نامی راوی کو شک ہے ) وہ سات یا شاید نو دینار تھے ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں لے کر آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا گمان ہو گا ، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہوتا ، کہ یہ اس کے پاس ہوتے ، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے کس نے اس کی نفی کرنی تھی ( یعنی علت پیش کرنی تھی ) کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا اور یہ اس کے پاس ہوتے ۔ “
حدیث نمبر: 17761
وَفِي رِوَايَةٍ : مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوِ الثَّمَانِيَةِ إِلَى التِّسْعَةِ أُنْفِقُهَا . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ پانچ سے لے کر سات تک تھے “ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ” آٹھ سے لے کر نو تک تھے ، جنہیں خرچ کرنا تھا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17762
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ ، فَفَضَلَ مِنْهَا سَبْعَةٌ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ أَخَّرْتَهُ لِلْحَاجَّةِ تَنُوبُكَ ، أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ ، قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّ : أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوَلِّي عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ إِفْرَاغًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، انہیں تنخواہ ملی ، اُن کے ساتھ ان کی کنیز تھی ، اس کنیز نے ادائیگیاں کرنی شروع کر دیں ، تو سات باقی بچ گئے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اس کنیز کو یہ ہدایت کی : کہ وہ ان کے ذریعہ سکے خریدے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اگر آپ انہیں کسی پیش آنے والی ضرورت کے لئے یا کسی آنے والے مہمان کے لیے سنبھال کے رکھ لیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خلیل علیہ السلام ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے یہ تلقین کی تھی ، جس شخص کو سونا یا چاندی ملتا ہے ، تو وہ اپنے متعلقہ فرد کے لئے انگارہ ہوتا ہے ، جب تک وہ شخص اُسے اللہ کی راہ میں تقسیم نہیں کر دیتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17763
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : أَكْثَرُ مَا أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو سب سے زیادہ رقم آئی وہ ایک تھیلی تھی جس میں آٹھ سو درہم تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17764
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيَّتَانِ ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ : عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ : دِينَارًا أَوْ دِرْهَمًا . وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ ، وَفِيهِ عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، اس نے دو دینار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو درہم چھوڑے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والے دو ہیں ، تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے عبداللہ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دینار یا شاید درہم ۔ “ امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتیبہ ضریر ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے عبداللہ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دینار یا شاید درہم ۔ “ امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتیبہ ضریر ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17765
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، لوگوں نے اس کے کپڑے میں دو دینار پائے ، انہوں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ، تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو !
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17766
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : لَحِقَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ ، فَأُوذِنَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ " . فَقَالُوا : تَرَكَ دِينَارَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيَّتَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت بھی منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ، اس کا انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے بتایا : دو دینار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت بھی منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ، اس کا انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے بتایا : دو دینار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17767
وَعَنْ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ - قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ بِجَنَازَةٍ ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى قَالَ : " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ ؟ " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ ، قَالَ : فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک جنازہ لایا گیا ، پھر ایک اور جنازہ لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ ( یعنی ایسا قرض جو ادا کرنا اس کے ذمہ ہو ؟ ) لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تین دینار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ داغ لگانے والی تین چیزیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17768
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ دِينَارًا فَهُوَ كَيَّةٌ " . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَعْتَضِدُ حَدِيثُهُ بِمَا تَقَدَّمَ مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایک دینار چھوڑے ، تو یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس سے پہلے والی حدیث اس کو مضبوط کرتی ہے ، جس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17769
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْحِمْصِيِّ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارٌ ; فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيَّةٌ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ ، فَقَالَ : " يَعْنِي كَيَّةٌ أَوْ كَيَّتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ حمصی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تہبند میں سے ایک دینار ملا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور شخص کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تہبند میں سے دو دینار ملے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 17770
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا أَوْ دِينَارَيْنِ فَقَالَ : يَعْنِي كَيَّةً أَوْ كَيَّتَانِ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جس شخص کا انتقال ہوا تھا ، اور اس نے ایک دینار یا شاید دو دینار چھوڑے تھے ، اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : یہ داغ لگانے والی ایک چیز ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو چیزیں ہیں ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17771
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ ، فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهِ دِينَارَانِ ، فَأَخْذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ فَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا وَلَفَّ عَلَيْهِمَا ، فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ فَوُجِدَ الدِّينَارَانِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدِ اعْتُضِدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شرکت کی ، اس کے حصے میں دو دینار آئے ، دیہاتی نے وہ لے کر انہیں اپنی عبا میں رکھ کر انہیں اوپر سے سی دیا اور اس کو موڑ دیا ، پھر اس دیہاتی کا انتقال ہو گیا ، پھر وہ دونوں دینار مل گئے ، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ،
یہ روایت مضبوط ہو جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ،
یہ روایت مضبوط ہو جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17772
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى رَجُلِ تَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ، اُس شخص نے دو یا شاید تین دینار چھوڑے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تین چیزیں ہیں ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17773
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُتِيَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقِيلَ لَهُ : تُوُفِّيَ فُلَانٌ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ فِي آخِرِ الزَّكَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران کوئی شخص آیا اور آپ کو یہ بتایا گیا کہ فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے دو دینار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو درہم چھوڑے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : داغ لگانے والی دو چیزیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شریک بن عبداللہ نخعی ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مضمون سے متعلق کچھ روایات کتاب الزکوۃ کے آخر میں ، نفلی صدقہ کے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شریک بن عبداللہ نخعی ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مضمون سے متعلق کچھ روایات کتاب الزکوۃ کے آخر میں ، نفلی صدقہ کے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17774
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ طَوَائِرَ ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین پرندے تحفے کے طور پر دیے گئے ، آپ نے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لئے دے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کا گوشت لے کر آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ کہ تم نے کل کے لیے کوئی چیز نہیں رکھنی ہے ، اللہ تعالیٰ ہر آنے والی کل کا رزق عطا کر دے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17775
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدِي شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : ادَّخَرْنَاهُ لِشِتَائِنَا . فَقَالَ : "مَا تَخَافُ أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي جَهَنَّمَ ؟ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، میرے پاس کچھ کھجوریں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ میں نے عرض کی : یہ ہم نے رات کے کھانے کے لئے سنبھال کے رکھی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں یہ خوف نہیں ہوا کہ تم اس کی وجہ سے جہنم میں بخار ( یعنی تپش ) کو دیکھ لو گے ۔
حدیث نمبر: 17776
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمْنَا يَا بِلَالُ ، تَمْرًا " . فَقَبَضْتُ لَهُ قَبَضَاتٍ ، فَقَالَ : " زِدْنَا بِلَالُ " . فَزِدْتُهُ ثَلَاثًا فَقُلْتُ : لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ مَالٍ . ¤ وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ الْأُولَى وَالْبَزَّارِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ : طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، قَالَ الْبَزَّارُ : الصَّوَابُ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ ; أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دو ، تو انہوں نے کچھ مٹھیاں آپ کو دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! ہمیں مزید دو ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے تین مرتبہ آپ کو مزید دیں ، پھر میں نے عرض کی : اب صرف وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنبھال کے رکھی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بلال ! تم خرچ کرو ، اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اُن کے پاس مال کا ڈھیر تھا ۔ “ امام طبرانی کی پہلی روایت میں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور دوسری روایت میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں درست یہ ہے کہ مسروق سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اُن کے پاس مال کا ڈھیر تھا ۔ “ امام طبرانی کی پہلی روایت میں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور دوسری روایت میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں درست یہ ہے کہ مسروق سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حدیث نمبر: 17777
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ ، وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " . قَالَ : أُعِدُّ ذَلِكَ لِأَضْيَافِكَ ، فَقَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ يَكُونَ لَهُ دُخَانٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : یہ میں نے آپ کے مہمانوں کے لیے تیار رکھی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوا ؟ کہ اس کی وجہ سے جہنم میں دھواں ہو سکتا ہے ؟ اے بلال ! تم خرچ کرو ، اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو !
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ، البتہ امام طبرانی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا تمہیں اس سے ڈر نہیں لگا کہ کہ یہ تمہارے لئے بخار ( یعنی تپش ) بن جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ، البتہ امام طبرانی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا تمہیں اس سے ڈر نہیں لگا کہ کہ یہ تمہارے لئے بخار ( یعنی تپش ) بن جائے ۔ “
حدیث نمبر: 17778
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَ : أَدَّخِرُهُ ، قَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : یہ میں نے سنبھال کے رکھی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا ؟ کہ تم اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں بخار ( یعنی تپش ) دیکھو ، تم عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔
یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17779
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَ ، وَلَكِنِ اسْتَقْرِضْ حَتَّى يَأْتِيَنَا شَيْءٌ فَنُعْطِيكَ " . فَقَالَ عُمَرُ : مَا كَلَّفَكَ اللَّهُ هَذَا ، أَعْطَيْتَ مَا عِنْدَكَ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ فَلَا تُكَلَّفُ ، قَالَ : فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلَ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى عُرِفَ فِي وَجْهِهِ . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ ، فَأَعْطِ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا . قَالَ : فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " بِهَذَا أُمِرْتُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اس نے آپ سے کچھ مانگا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ابھی دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، تم قرض لے لو ، جب ہمارے پاس کچھ آئے گا ، تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا پابند نہیں کیا ہے ، آپ کے پاس اگر ہو تو عطا کر دیں ، اور جب آپ کے پاس نہ ہو ، تو آپ تکلف سے کام نہ لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آئی اور اس کا اندازہ آپ کے چہرہ مبارک سے ہو گیا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ عطا کرتے رہیں اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17780
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ كُلَّمَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ وَإِلَّا قَامَ ، فَحَضَرْتُ الْبَابَ يَوْمًا فَقُلْتُ : يَا يَرْفَأُ ، فَخَرَجَ وَإِذَا عُثْمَانُ بِالْبَابِ ، فَخَرَجَ يَرْفَأُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ مَالٍ . فَقَالَ : إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَرَأَيْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً ، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْسِمَاهُ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ فَرُدَّا ، قُلْتُ : وَإِنْ كَانَ نُقْصَانًا زِدْتَنَا ؟ فَقَالَ : شِنْشِنَةُ مِنْ أَخْشَنَ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَهْلَهُ كَانُوا يَأْكُلُونَ الْقِدَّ ، قُلْتُ : بَلَى . وَاللَّهِ ، لَوْ فَتَحَ اللَّهُ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ مَا صَنَعْتَ ، فَغَضِبَ وَانْتَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ ، وَقَالَ : إِذًا صَنَعَ فِيهِ مَاذَا ؟ قُلْتُ : إِذًا أَكَلَ وَأَطْعَمَنَا ، فَسُرِّيَ عَنْهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب بھی نماز ادا کر لیتے تھے تو لوگوں کے لئے بیٹھ جاتے تھے ، جس کو اُن سے کوئی کام ہوتا تھا ، اس کے ساتھ وہ بات چیت کر لیتے تھے ، ورنہ اُٹھ جاتے تھے ، ایک دن میں ان کے دروازے پر آیا ، میں نے کہا: پر یرفا ! وہ ( خادم ) نکل کر باہر آیا ، دروازے پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، پھر یرفا باہر آیا اور اس نے کہا: اے ابن عفان ! آپ اُٹھ جائیں ، اے ابن عباس ! آپ اُٹھ جائیں ( یعنی آپ دونوں اندر تشریف لے آئیں ) ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے پاس مال کا ڈھیر موجود تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اہل مدینہ کا جائزہ لیا ، تو میں نے یہ دیکھا کہ تم دونوں کے خاندان کے ( تمہارے زیر کفالت افراد ) زیادہ ہیں ، تو تم دونوں یہ مال لے لو اور اسے تقسیم کر لو ! اگر اس میں سے بیچ گیا ، تو وہ تم دونوں واپس کر دینا ، میں نے کہا: اگر یہ کم ہوا تو آپ ہمیں مزید دیں گے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پرانا کھردرا مشکیزہ ، میں یہ بات جانتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اہل خانہ تھوڑی سی مقدار کھایا کرتے تھے ، میں نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے اتنی فتوحات سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہوتیں ، تو انہوں نے اس بارے میں اس سے مختلف طرز عمل اختیار کرنا تھا جو آپ نے اختیار کیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور ان کا جسم لرزنے لگا ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کرنا تھا ؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کھانا تھا اور ہمیں بھی کھلانا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17781
وَعَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ لَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ، أَوْ عِيَالٍ وَإِنْ كَثُرُوا ؟ قَالَ : " نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ ، وَإِنْ كَثُرَتْ فَسِتُّونَ ، وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ - يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا - إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا ، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا ، وَأَطْرَقَ فَحْلَهَا ، وَنَحَرَ سَمِينَهَا ، وَمَنَحَ غَزِيرَتَهَا ، وَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقُ وَأَحْسَنَهَا ! قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْمَنِيحَةِ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : لَأَمْنَحُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةً ، قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْإِفْقَارِ ؟ " . قَالَ : إِنِّي لَا أُفْقِرُ الْبِكْرَ الضَّرْعَ ، وَلَا النَّابَ الْمُدَبَّرَةَ . قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِالطَّرُوقَةِ ؟ " . قُلْتُ : تَغْدُوَ الْإِبِلَ وَيَغْدُوَ النَّاسُ ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ . قَالَ : " مَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مُوَالِيكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . بَلْ مَالِي ، قَالَ : " فَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَكَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ ، لَئِنْ بَقِيتُ لَأُقِلَّنَّ عَدَدَهَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُرْسَلًا ، وَقَدْ رَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ مُتَّصِلًا ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتی علاقوں کا سردار ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس مال کا کیا ہو گا ؟ جس کے بارے میں مجھ پر کوئی ضرر ہو ، جس کا واسطہ مہمان یا عیال سے ہو ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھا مال چالیس ( دینار یا درہم ہیں اور اگر وہ زیادہ ہو جائے ، تو ساٹھ ہو جائیں لیکن دو سو والوں کے لئے بربادی ہے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو تنگی اور خوشحالی ( ہر حال ) میں خرچ کرتا ہے ، اپنی سواری استعمال کے لئے دیتا ہے ، نر جانور کو جفتی کے لئے دیتا ہے ، صحت مند جانور کو قربان کرتا ہے اور اس کا دودھ عطیہ کے طور پر دیتا ہے اور قانع اور فقیر کو کھلاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اخلاق کتنے معزز اور کتنے عمدہ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم عطیہ کیسے دیتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں ہر سال ایک سو ( جانور ) عطیہ کے طور پر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم عارضی طور پر سواری کے استعمال کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں دودھ دینے والا جوان جانور ، یا عمر رسیدہ اونٹنی نہیں دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جفتی کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میرے اونٹ جاتے ہیں لوگ بھی جاتے ہیں ، جو شخص جس اونٹ کا چاہتا ہے ، سر پکڑ کر اسے لے جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے دریافت کیا : تمہارا مال تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ یا تمہارے موالی کا مال ( تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ ) میں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میرا مال ( میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے مال میں سے ، تمہارا حصہ وہ ہے جسے تم کھا کر فنا کر دو ، یا پہن کر پرانا کر دو یا ( اللہ کی راہ میں ) دے کر آگے بھیج دو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس طرح ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ رہ گیا تو میں ان کی تعداد میں ضرور کمی کروں گا ( یعنی اپنے مال کو اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کروں گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اسے متصل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، لیکن بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور
یہ روایت ان کے مناقب سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔
یہ روایت ان کے مناقب سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔
حدیث نمبر: 17782
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَحَقَ الْإِسْلَامُ مَحْقَ الشُّحِّ شَيْءٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام کو کوئی بھی چیز اس طرح نہیں مٹاتی ہے جس طرح ( اسلام کو ) بخل مٹاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 17783
وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ : أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ تَمْرٌ عَلَى رَحْلِهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَمُّهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبَطَّحَ عَلَى التَّمْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ زِدْهُ شُحًّا " . قَالَ : فَكَانَ مِنْ أَشَحِّ النَّاسِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ : أَحَدُهُمَا مُتَّصِلٌ وَهَذَا مَتْنُهُ . وَالْآخَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ أَنَّ مَوْلَاهُ أَبَا الْقَيْنِ ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَأَهْوَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً يَنْثُرُهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ . وَرِجَالُ الْمُرْسَلِ وَالْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي السَّخَاءِ وَالْبُخْلِ فِي كِتَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالقین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں ، اُن کے چچا اُٹھ کر ان کی طرف گئے ان کے چچا کا ارادہ یہ تھا کہ اُن سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں گے ، لیکن ان صاحب نے کھجوروں کو سمیٹ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس کے بخل میں اضافہ فرما ! راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ سب سے زیادہ بخیل شخص تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک متصل ہے اور یہ اس کا متن ہے ۔ دوسری روایت سعید بن جمہان کے حوالے سے منقول ہے : ” اُن کے آقا سیدنا ابوالقین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ ان سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر وہ اپنے اصحاب کے آگے رکھ دیں ۔ “ ” مرسل “ روایت کے رجال اور ” مسند “ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن جمہان کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفلی صدقہ سے متعلق کتاب میں ، سخاوت اور کنجوسی کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک متصل ہے اور یہ اس کا متن ہے ۔ دوسری روایت سعید بن جمہان کے حوالے سے منقول ہے : ” اُن کے آقا سیدنا ابوالقین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ ان سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر وہ اپنے اصحاب کے آگے رکھ دیں ۔ “ ” مرسل “ روایت کے رجال اور ” مسند “ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن جمہان کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفلی صدقہ سے متعلق کتاب میں ، سخاوت اور کنجوسی کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17784
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَقُولُ : الشَّحِيحُ أَعْذَرُ مِنَ الظَّالِمِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَذَبْتَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الشَّحِيحُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : کنجوس آدمی ظالم سے زیادہ معذور ( یعنی قابل معافی ) ہوتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الہ عنہما نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کنجوس جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن مسلمہ قعنبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن مسلمہ قعنبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔