حدیث نمبر: 17786
عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى وَادِيَيْنِ وَلَوْ أَنَّ لَهُ وَادِيَيْنِ لَتَمَنَّى ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَعْتَضِدُ حَدِيثُهُ بِمَا يَأْتِي ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله علی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو ، تو وہ دو وادیوں ( کا مالک ہونے ) کی تمنا کرے گا اور اگر اس کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی آرزو کرے گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اسے وہ حدیث مضبوط کرتی ہے ، جو آگے آ رہی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اسے وہ حدیث مضبوط کرتی ہے ، جو آگے آ رہی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17787
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِي نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ ، ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ ، حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر ابن آدم کی کھجوروں کی ایک وادی ہو ، تو وہ اُس جیسی ( اور ملنے ) کی تمنا کرے گا ، پھر وہ اس جیسی ( اور ملنے ) کی تمنا کرے گا ، یہاں تک کہ وہ کہ کئی وادیوں ( کا مالک بننے ) کی تمنا کرے گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17788
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ پڑھا کرتے تھے : ” اگر ابن آدم کی سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ اُن کے ہمراہ ایک اور کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17789
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ يَقُولُ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلْنَا الْمَالَ لِتُقْضَى بِهِ الصَّلَاةُ ، وَتُؤْتَى بِهِ الزَّكَاةُ " . فَكُنَّا نَرَى أَنَّهُ مِمَّا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ . وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَلَكِنَّ يَحْيَى الْقَطَّانُ لَا يَرْوِي عَنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ فِي اخْتِلَاطِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تھے تو کیا آپ کچھ کہتے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : آپ مثال بیان کرنے کے طور پر یہ فرماتے تھے : ” اگر ابن آدم کی مال کی دو دادیاں ہوں ، تو وہ تیسری وادی کا طلب گار ہو گا ، اور اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے ، ہم نے مال اس لئے مقرر کیا ہے تاکہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ کو قبول کرتا ہے ، جو توبہ کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم نے مال اس لیے بنایا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے نماز ادا کی جائے اور اس کے ذریعے زکوۃ دی جائے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ کلمات قرآن کے منسوخ ہونے والے حصے میں سے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور یحیی القطان اس کے حوالے سے ایسی روایت نقل نہیں کرتے ہیں جو اس نے اختلاط کا شکار ہونے کے دوران بیان کی تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم نے مال اس لیے بنایا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے نماز ادا کی جائے اور اس کے ذریعے زکوۃ دی جائے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ کلمات قرآن کے منسوخ ہونے والے حصے میں سے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور یحیی القطان اس کے حوالے سے ایسی روایت نقل نہیں کرتے ہیں جو اس نے اختلاط کا شکار ہونے کے دوران بیان کی تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17790
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا ، وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صُبَيْحٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے : ” اگر ابن آدم کی سونے کی ایک وادی ہو ، تو وہ اس کے ہمراہ دوسری کا طلب گار ہو گا ، اگر اسے دوسری دیدی جائے ، تو وہ اس کے ہمراہ تیسری کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صبیح ابوالعلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صبیح ابوالعلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17791
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَا تَمْتَلِئُ نَفْسُهُ مِنَ الْمَالِ حَتَّى يَمْتَلِئَ مِنَ التُّرَابِ ، وَلَوْ كَانَ لِأَحَدِكُمْ وَادٍ مَلْآنَ مَا بَيْنَ أَعْلَاهُ إِلَى أَسْفَلِهِ أَحَبَّ أَنْ يُمْلَأَ لَهُ وَادٍ آخَرُ ، فَإِنْ مُلِئَ لَهُ الْوَادِي الْآخَرُ فَانْطَلَقَ فَوَجَدَ وَادِيًا آخَرَ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْتُ لَمَلَأْتُكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَلَفْظُهُ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ كَانَ لَهُ وَادٍ مَلْآنُ مِنْ أَعْلَاهُ إِلَى أَسْفَلِهِ أَحَبَّ أَنْ يُمْلَأَ لَهُ وَادٍ آخَرُ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کا نفس ، مال کے حوالے سے اس وقت تک نہیں بھرتا ، جب تک وہ مٹی سے نہیں بھر جاتا ، اگر تم میں سے کسی ایک کی ایسی دادی ہو ، جو اوپر سے لے کر نیچے تک بھری ہوئی ہو ، تو وہ شخص یہ خواہش کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو ، اگر اسے ایک اور بھری ہوئی وادی مل جائے ، اور وہ ایک اور وادی کو پائے ، تو یہ کہے گا : اللہ کی قسم ! اگر میرے بس میں ہوتا ، تو میں نے تمہیں بھر دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : تم میں سے کسی ایک شخص کی ، اگر نیچے سے اوپر تک بھری ہوئی وادی ہو ، تو وہ شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو “ باقی روایت حسب سابق ہے ، طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : تم میں سے کسی ایک شخص کی ، اگر نیچے سے اوپر تک بھری ہوئی وادی ہو ، تو وہ شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو “ باقی روایت حسب سابق ہے ، طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 17792
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ابن آدم کی مال کی ایک وادی ہو ، تو وہ اس کے ہمراہ دوسری کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17793
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَامِدِ بْنِ يَحْيَى الْبَلْخِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ابن آدم کی مال کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ ان کے ہمراہ تیسری کا خواہشمند ہو گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، جو توبہ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حامد بن یحیی بلخی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حامد بن یحیی بلخی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17794
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ لَتَمَنَّى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَمَا جُعِلَ الْمَالُ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَلَا يُشْبِعُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر ابن آدم کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری وادی کا خواہش مند ہو گا ، مال کو صرف اس لئے رکھا گیا ہے تاکہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے ، ابن آدم کو صرف مٹی سیر کر سکتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف اور کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف اور کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 17795
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ سِيلَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا ، وَلَا يُشْبِعُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ ذَكَرْتُهَا فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ ( لَمْ يَكُنْ ) فَإِنَّ تِلَاوَةَ مَا زِيدَ فِيهَا ، وَمَا كَانَ قُرْآنًا وَنُسِخَتْ تِلَاوَتُهُ فِيهَا أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عیاض اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر ابن آدم کو مال کی دو وادیاں دیدی جائیں ، تو وہ ان کے ہمراہ تیسری کی تمنا کرے گا ، ابن آدم کو صرف مٹی سیر کر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں میں نے سورہ لم یکن کی تفسیر میں ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں میں نے سورہ لم یکن کی تفسیر میں ذکر کیا ہے ۔