کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مواعظ کا مزید بیان
حدیث نمبر: 17725
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيُّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ ، وَاخْتَالَ ، وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالَ . بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ . بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَسْتَحِلُّ الْمَحَارِمَ بِالشُّبُهَاتِ . بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ . بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ بندہ برا ہے ، جو تکبر اور خود پسندی اختیار کرے اور بلند و برتر عظیم ذات کو بھول جائے ۔ “ وہ بندہ برا ہے ، جو دنیا کی وجہ سے دین کے بارے میں غفلت کا شکار ہو ۔ “ وہ بندہ برا بندہ ہے ، جو مشتبہ چیزوں کے حوالے سے حرام چیزوں کو حلال قرار دے ۔ وہ بندہ برا ہے جو نفسانی خواہش کی بندگی کرے ، جو اسے گمراہ کر دیں ۔ وہ بندہ برا ہے جو اپنے بدل میں رغبت رکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید رقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17725
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17726
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْيَوْمَ الرِّهَانُ وَغَدًا السِّبَاقُ ، وَالْغَايَةُ الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ ، أَنَا الْأَوَّلُ ، وَأَبُو بَكْرٍ الْمُصَلِّي ، وَعُمَرُ الثَّالِثُ ، وَالنَّاسُ بَعْدُ عَلَى السَّبْقِ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج کا دن کوشش کا ہے اور کل کا دن نتیجے کا ہے ، آخر میں جنت یا جہنم ہے ، میں پہلے ہوں ، ابوبکر دوسرا ہے ، عمر تیسرا ہے ، اور پھر دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ایک دوسرے کے پیچھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17726
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17727
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُشَرِّفُونَ الْمُتْرَفِينَ ، وَيَسْتَخِفُّونَ بِالْعَابِدِينَ ، وَيَعْمَلُونَ بِالْقُرْآنِ مَا وَافَقَ أَهْوَاءَهُمْ ، وَمَا خَالَفَ أَهْوَاءَهُمْ تَرَكُوهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ ، وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ، يَسْعَوْنَ فِيمَا يُدْرَكُ بِغَيْرِ شَيْءٍ ، مِنَ الْقَدَرِ الْمَقْدُورِ ، وَالْأَجَلِ الْمَكْتُوبِ ، وَالرِّزْقِ الْمَقْسُومِ ، وَلَا يَسْعَوْنَ فِيمَا لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالسَّعْيِ مِنَ الْجَزَاءِ الْمَوْفُورِ ، وَالسَّعْيِ الْمَشْكُورِ ، وَالتِّجَارَةِ الَّتِي لَا تَبُورُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّفَّا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ مالداروں کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور عبادت گزاروں کو کمتر سمجھتے ہیں ، وہ قرآن کے اس حصے پر عمل کرتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے اور اس حصے کو چھوڑ دیتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے برخلاف ہوتا ہے ، ایسی صورتحال میں وہ کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش کرتے ہیں ، جسے کوشش کے بغیر پایا جا سکتا ہے ، جس کا تعلق طے شدہ تقدیر ، مقرر شدہ مدت ، تقسیم شدہ رزق کے ساتھ ہے ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش نہیں کرتے ہیں ، جو صرف کوشش کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے ، جس کا تعلق بھرپور جزاء ، قبول کی جانے والی کوشش اور ایسی تجارت کے ساتھ ہے ، جو خسارے والی نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید رفاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17728
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ : قَالَ دَاوُدُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنْ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ ، وَاعْلَمْ أَنَّكَ كَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ . وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ لِبَعْلِهَا كَالْمَلِكِ الْمُتَوَّجِ بِالتَّاجِ الْمُخَوَّصِ بِالذَّهَبِ ، كُلَّمَا رَآهَا قَرَّتْ بِهَا عَيْنَاهُ ، وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ السُّوءِ لِبَعْلِهَا كَالْحِمْلِ الثَّقِيلِ عَلَى الشَّيْخِ الْكَبِيرِ . ¤ وَاعْلَمْ أَنَّ خُطْبَةَ الْأَحْمَقِ فِي نَادِي قَوْمِهِ كَمَثَلِ الْمُغَنِّي عِنْدَ رَأْسِ الْمَيِّتِ ، وَلَا تَعِدَنَّ أَخَاكَ شَيْئًا ، ثُمَّ لَا تُنْجِزُهُ ; فَتُورِثُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةً ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ صَاحِبٍ إِنْ ذَكَرْتَ اللَّهَ لَمْ يُعِنْكَ ، وَإِنْ نَسِيتَهُ لَمْ يُذَكِّرْكَ ، وَهُوَ الشَّيْطَانُ . ¤ وَاذْكُرْ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُذْكَرَ مِنْكَ فِي نَادِي قَوْمِكَ ، فَلَا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا داؤد علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے : ” یتیم کے لیے مہربان باپ کی مانند ہو جاؤ ! اور یہ بات جان لو ! کہ جیسا تم بوؤ گے ویسا کاٹو گے ، نیک عورت کی اپنے شوہر کے لیے مثال یوں ہے ، جیسے سونے کا بنا ہوا تاج ہوتا ہے ، آدمی جب بھی اسے دیکھتا ہے ، اس کے حوالے سے آدمی کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں ، اور بری عورت کی اپنے شوہر کے لیے مثال اس طرح ہے ، جیسے وزنی سامان کسی بوڑھے شخص پر رکھا گیا ہو ، تم یہ بات جان لو ! کہ اپنی قوم کی محفل میں ، احمق شخص کا خطبہ اس طرح ہے ، جیسے کسی میت کے سرہانے کوئی گا رہا ہو ، اگر تم اپنے بھائی کے ساتھ کوئی وعدہ کرو اور پھر تم اسے پورا نہ کر سکو ، تو یہ چیز تمہارے اور اس کے درمیان دشمنی پیدا کر دے گی ، اور ہم ایسے ساتھی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، کہ اگر تم اللہ کو یاد کرو ، تو وہ تمہاری مدد نہ کرے ، اور اگر تم اُسے بھول جاؤ ، تو وہ تمہیں یاد نہ دلائے ، اور وہ شیطان ہے ، اور تم اس بات کا خیال رکھنا کہ جس چیز کے بارے میں تمہیں یہ برا لگتا ہو ، کہ تمہاری قوم کی محفل میں ، اُس کے حوالے سے تمہارا ذکر کیا جائے ، تو تم وہ کام خلوت میں بھی نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17729
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى الْحِجْرِ لِيَدْخُلُوا فِيهِ ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " عَلَى مَا تَدْخُلُونَ عَلَى أَقْوَامٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ؟ " . قَالَ : فَنَادَاهُ رَجُلٌ : تَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ؟ نَبِيُّكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، اسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيِّ مِنْ طَرِيقِ الْمَسْعُودِيِّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ تیزی سے ” حجر “ ( یعنی قوم ثمود کی بستی ) کی طرف جانے لگے ، تاکہ اس میں داخل ہو جائیں ، تو لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا : سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : تم کس بنیاد پر اس قوم کے علاقے میں داخل ہونا چاہتے ہو ، جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے حیرانگی کے اظہار کے طور پر آپ کو بلند آواز میں پکارا : یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں ؟ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتے ہیں ، جو تم سے پہلے ہوئی ہے ، اور جو تمہارے بعد ہو گی ، تم لوگ مستقیم رہو اور سیدھے رہو ، کیونکہ تمہیں عذاب دینے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مسعودی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17730
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ تَطَاوَلَ تَعْظِيمًا يُخْفِضُهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَوَاضَعَ خَشْيَةً يَرْفَعُهُ اللَّهُ . وَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ . قُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ قَالَ : أَمَّا الْمُسْتَرِيحُ فَالْمُؤْمِنُ إِذَا مَاتَ اسْتَرَاحَ ، وَأَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ فَهُوَ الَّذِي يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَغْتَابُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، جو شخص شہرت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی طلب کو ظاہر کر دے گا ، جو شخص خود کو بڑا قرار دینے کے لئے نمایاں کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے پست کر دے گا ، جو شخص خشیت کی وجہ سے تواضع اختیار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے بلندی نصیب کرے گا ۔ کچھ لوگوں کو دنیا میں کشادگی دی جاتی ہے ، انہیں آخرت میں تنگی ملے گی ، اور کچھ کو دنیا میں تنگی دی جاتی ہے ، انہیں آخرت میں کشادگی نصیب ہو گی ، کوئی شخص نجات پانے والا ہوتا ہے اور کسی سے نجات نصیب ہوتی ہے ، ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! نجات پانے والے اور جس سے نجات نصیب ہوتی ہے اُن سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جہاں تک نجات پانے والے کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد مؤمن ہے کہ جب وہ انتقال کر جاتا ہے ، تو وہ ( دنیا کی پریشانیوں کے حوالے سے ) نجات پا جاتا ہے ، جہاں تک اس فرد کا تعلق ہے ، جس سے نجات نصیب ہوتی ہے ، تو یہ وہ شخص ہے ، جو لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کی غیبت کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8512)»
حدیث نمبر: 17731
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : إِنَّ الْجَنَّةَ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ ، وَإِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ ، فَمَنِ اطَّلَعَ الْحِجَابَ وَاقَعَ مَا وَرَاءَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حصین بن عقبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” جنت کو ناپسندیدہ چیزوں کے ذریعے ڈھانپا گیا ہے اور جہنم کو نفسانی خواہشات کے ذریعے ڈھانپا گیا ہے ، جو شخص پردے میں جھانکتا ہے ، وہ اس چیز میں واقع ہو جاتا ہے ، جو اس کے پرے ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8546)»
حدیث نمبر: 17732
وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ : أَوْصِنِي بِكَلِمَاتٍ جَوَامِعَ نَوَافِعَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : اعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَزُلْ مَعَ الْقُرْآنِ حَيْثُ زَالَ ، وَمَنْ أَتَاكَ بِحَقٍّ فَاقْبَلْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ بَعِيدًا ، وَمَنْ أَتَاكَ بِبَاطِلٍ فَارْدُدْهُ وَإِنْ كَانَ حَبِيبًا قَرِيبًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مَعْنًا لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
معن بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے جامع اور نفع دینے والے کلمات کے ہمراہ نصیحت کیجیے ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور تم کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اور قرآن جہاں ہو ، تم اس کے ساتھ رہو ، جو شخص تمہارے پاس حق لے کر آئے ، تم اس سے قبول کرو ، اگرچہ وہ دور کا فرد ہو ، اور جو شخص تمہارے پاس باطل لے کر آئے ، تم اسے مسترد کر دو ، اگرچہ وہ شخص دوست اور قریبی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ معن نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8537)»
حدیث نمبر: 17733
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَيْسَ الْعِلْمُ مِنْ كَثْرَةِ الْحَدِيثِ ، وَلَكِنَّ الْعِلْمَ مِنَ الْخَشْيَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، إِلَّا أَنَّ عَوْنًا لَمْ يُدْرَكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” علم زیادہ بات چیت کرنے کا نام نہیں ہے ، بلکہ علم خشیت کا نام ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند عمدہ ہے ، البتہ عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید ولکنہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8534)»
حدیث نمبر: 17734
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا مِنْكُمْ إِلَّا ضَيْفٌ وَعَارِيَةٌ ، وَالضَّيْفُ مُرْتَحِلٌ ، وَالْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ لِأَهْلِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالضَّحَّاكُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تم میں سے ہر ایک مہمان ہے اور عاریت ہے ، مہمان نے رخصت ہو جانا ہوتا ہے ، اور عاریت والی چیز ، اُس کے مالک کو لوٹا دی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ضحاک نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8533)»
حدیث نمبر: 17735
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : لَوْ وَقَفْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَقِيلَ لِي : اخْتَرْ نُخَيِّرْكَ مِنْ أَيِّهَا تَكُونُ أَحَبَّ إِلَيْكَ ، أَوْ تَكُونُ رَمَادًا ؟ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ رَمَادًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اگر میں جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا ہو جاؤں ، اور مجھ سے یہ کہا: جائے : ہم تمہیں ان دونوں کے بارے میں اختیار دیتے ہیں ، تم ان میں سے اس کو اختیار کر لو ، جو تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہو ، یا پھر یہ ہے کہ تم راکھ بن جاؤ ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو میں یہ پسند کروں گا کہ میں راکھ بن جاؤں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں نے حسن بصری کے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8535)»
حدیث نمبر: 17736
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ ، إِلَّا أَنَّ الْبَعِيدَ مَا لَيْسَ بِآتٍ ، لَا يَعْجَلُ اللَّهُ لِعَجَلَةِ أَحَدٍ ، وَلَا يَخِفُّ لِأَمْرِ النَّاسِ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا مَا شَاءَ النَّاسُ ، يُرِيدُ اللَّهُ أَمْرًا ، وَيُرِيدُ النَّاسُ أَمْرًا ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَلَوْ بَاعَدَهُ النَّاسُ ، وَلَا مُقَرِّبَ لَمَا بَاعَدَهُ اللَّهُ ، وَلَا مُبْعِدَ لِمَا قَرَّبَ اللَّهُ ، وَلَا يَكُونُ شَيْءٌ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٌ ضَلَالَةٌ ، وَخَيْرُ مَا أُلْقِيَ فِي الْقَلْبِ الْيَقِينُ ، وَخَيْرُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَخَيْرُ الْعِلْمِ مَا نَفَعَ ، وَخَيْرُ الْهُدَى مَا اتُّبِعَ ، وَمَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَوْضِعِ أَرْبَعِ أَذْرُعٍ ; فَلَا تُمِلُّوا النَّاسَ وَلَا تُسَلِّمُوهُمْ ، إِنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ نَشَاطًا وَإِقْبَالًا ، أَلَا وَإِنَّ لَهَا سَآمَةً وَإِدْبَارًا ، وَشَرُّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ . أَلَا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَقُودُ إِلَى الْفَجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَقُودُ إِلَى النَّارِ ، أَلَا وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَإِنَّ الصِّدْقَ يَقُودُ إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَقُودُ إِلَى الْجَنَّةِ وَاعْتَبِرُوا ذَلِكَ إِنَّهُمَا إِلْفَانِ اِلْتَقَيَا . يُقَالُ لِلصَّادِقِ : صَدَقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَلَا يَزَالُ الْكَاذِبُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا أَلَا وَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْجِدِّ وَلَا هَزْلَ وَلَا أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ . أَلَا وَلَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ طَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ ، وَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ، وَابْتَدَعُوا فِي دِينِهِمْ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ سَائِلِيهِمْ ، فَمَا وَافَقَ كِتَابَكُمْ فَخُذُوا ، وَمَا خَالَفَكُمْ فَاهْدُوا عَنْهُ وَاسْكُتُوا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو چیز آنے والی ہو ، وہ قریب ہے ، دور وہ چیز ہوتی ہے ، جو آنے والی نہ ہو ، کسی شخص کی جلدی کی خواہش کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ جلدی نہیں کرتا ، ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے ، وہ نہیں ہوتا ، جو لوگ چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایک معاملے کا ارادہ کرتا ہے ، لوگ دوسرے معاملے کا ارادہ کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ، وہ ہوتا ہے ، اگرچہ لوگ اسے دور قرار دے رہے ہوں ، اللہ تعالیٰ جسے دور کر دے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ جسے قریب کر دے ، اُسے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ، ہر چیز اللہ کے حکم سے ہوتی ہے سب سے زیادہ سچی بات ، اللہ کی کتاب ہے ، اور سب سے زیادہ اچھی ہدایت ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے ، سب سے زیادہ برے اُمور نئے پیدا شدہ ہیں ، اور ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، دل میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے ، اس میں سب سے بہتر چیزیں یقین ہے ، اور سب سے بہتر خوشحالی ، نفس کی خوشحالی ہے ، اور سب سے بہتر علم وہ ہے ، جو نفع دے اور سب سے بہتر ہدایت وہ ہے ، جس کی پیروی کی جائے ، جو چیز تھوڑی ہو لیکن کفایت کر جائے ، وہ اُس سے زیادہ بہتر ہے ، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ، تم میں سے ہر ایک کی آخری منزل چار گز کی جگہ ہے ، تو تم لوگوں کو اُکتاہٹ اور بیزاری کا شکار نہ کرو ، ہر انسان کبھی خوش اور متوجہ ہوتا ہے ، اور کبھی اُکتایا ہوا اور عدم توجہ کا شکار ہوتا ہے ، اور سب سے بری چیز جھوٹ ہے ، خبردار ! جھوٹ ، گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ ، جہنم کی طرف لے جاتا ہے ، تم پر لازم ہے کہ سچ کو اختیار کرو ! کیونکہ سیچ ، نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی ، جنت کی طرف لے جاتی ہے ، تم اس سے نصیحت حاصل کرو ، کیونکہ یہ دو ایسی چیزیں ہیں ، جو ایک دوسرے سے ملتی ہیں ، سچے شخص سے کہا: جائے گا : اس نے سچ کہا: ہے ، یہاں تک کہ اُسے سچے کے طور پر نوٹ کر لیا جائے گا ، اور جھوٹا شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اُسے جھوٹے کے طور پر نوٹ کر لیا جاتا ہے ، خبردار ! سنجیدگی یا مذاق ، کسی بھی صورت میں جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے ، اور یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی شخص اپنے بچے کے ساتھ کوئی وعدہ کرے ، اور پھر اسے پورا نہ کرے ، اور تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہ کرو ، کیونکہ ان کی مدت طویل ہو چکی ہے اور ان کے دل سخت ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے دین میں نئی چیزیں اختیار کر لی ہوئی ہیں ، اگر تم نے ضرور اُن سے کچھ پوچھنا ہو ، تو جو چیز تمہاری کتاب کے مطابق ہو ، سے حاصل کر لو اور جو اس کے برخلاف ہو ، اُس سے لاتعلق ہو جاؤ اور خاموش رہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8523)»
حدیث نمبر: 17737
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ : " بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا " فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ بِأَيِّ شَيْءٍ ابْتَدَأَ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا ؟ لِأَيِّ شَيْءٍ آثَرْنَا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ؟ عُجِّلَتْ لَنَا الدُّنْيَا ، وَأُوتِينَا لَذَّتَهَا وَبَهْجَتَهَا ، وَغُيِّبَتْ عَنَّا الْآخِرَةُ ، وَزُوِيَتْ عَنَّا فَأَحْبَبْنَا الْعَاجِلَ ، وَتَرَكْنَا الْآجِلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ۔ “ پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ دنیاوی زندگی کا آغاز کس چیز کے ذریعے ہوا ہے ؟ اور ہم کس وجہ سے دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں ؟ ہمیں دنیا جلدی دیدی گئی ہے اور ہمیں اس کی لذت اور خوبصورتی بھی دی گئی ہے ، جبکہ آخرت ہم سے پوشیدہ ہے ، اور اُسے ہم سے لپیٹ کے رکھا گیا ہے ، تو ہم جلدی ملنے والی چیز کو پسند کرتے ہیں ، اور دیر سے ملنے والی چیز کو چھوڑ دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9147)»
حدیث نمبر: 17738
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : النَّاسُ غَادِيَانِ : فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمَوْبِقُهَا ، وَمُعَادِيهَا فَمُعْتِقُهَا . الصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ جُنَّةٌ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالسَّكِينَةُ مَغْنَمٌ وَتَرْكُهَا مَغْرَمٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” لوگ دو طرح کی حالت میں ہوتے ہیں ، کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے ، خود کو غلام بنوا لیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو خرید کر آزاد کروا لیتا ہے ، صدقہ ، برہان ہے ، صدقہ ، ڈھال ہے ، روزہ ، ڈھال ہے ، نماز نور ہے ، سکینت ، غنیمت ہے ، اور اسے ترک کرنا تاوان ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17738
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8911)»
حدیث نمبر: 17739
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُمَارَةَ : أَخِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ : عِظْنِي فِي نَفْسِي - يَرْحَمْكَ اللَّهُ - قَالَ : إِذَا انْتَهَيْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ; فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ ، وَلَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَاتْرُكْ طَلَبَ كَثِيرٍ مِنَ الْحَاجَاتِ ; فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ ، وَاجْمَعِ الْيَأْسَ مِمَّا عِنْدَ النَّاسِ ; فَإِنَّهُ هُوَ الْغِنَى ، وَانْظُرْ مَا تَعْتَذِرُ مِنْهُ مِنَ الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ فَاجْتَنِبْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عمارہ رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے ہے ، اور انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، اُن کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے ان سے کہا: آپ میری ذات کے بارے میں ، مجھے کوئی نصیحت کیجئے ، اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے ! تو انہوں نے فرمایا : ” جب تم نماز ادا کرنے لگو ، تو پہلے اچھی طرح وضو کرو ، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو ، اور اس شخص کا ایمان نہیں ہوتا ، جس کی نماز نہ ہو ، پھر جب تم نماز ادا کرو ، تو یوں ادا کرو جیسے رخصت ہونے والا فرد نماز ادا کرتا ہے ، اور زیادہ تر حاجتوں کی طلب کو چھوڑ دو ، کیونکہ یہ ایسی غربت ہے ، جو موجود ہوتی ہے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے ، اُس کے حوالے سے مایوس ہو جاؤ ، کیونکہ یہی خوشحالی ہے اور تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کون سے قول یا فعل کی وجہ سے معذرت کرنی پڑتی ہے ؟ تو تم اس سے اجتناب کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5455)»
حدیث نمبر: 17740
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَيْمَنَ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ بِحِمْصَ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَلَا إِنَّ الْهَلَكَةَ أَنْ تُعْمَلَ السَّيِّئَاتُ فِي زَمَانِ الْبَلَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ولید بن ایمن الہانی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو ” حمص “ میں خطبہ دینے کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا : ” خبردار ! ہلاکت یہ ہے کہ تم آزمائش کے زمانے میں برائیاں کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔