حدیث نمبر: 17741
عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أَتَى بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ ، فَكَانَ فِيهِ خَاتَمٌ ، فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ ، ثُمَّ بَكَى عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ : لِمَ تَبْكِ وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ ، وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ ، وَأَقَرَّ عَيْنَكَ ؟ ! فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسنان دؤلی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت ان کے پاس ابتداء میں ہجرت کرنے والے حضرات میں سے کچھ افراد موجود تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ڈبہ منگوایا جو عراق کے ایک قلعے سے لایا گیا تھا اس میں ایک انگوٹھی موجود تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کسی بچے نے وہ لی اور منہ میں ڈال لی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ انگوٹھی لی اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے ان کے پاس جو افراد موجود تھے ان میں سے کسی نے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نصیب کر دی ہے اور آپ کو آپ کے دشمن پر غلبہ دے دیا ہے اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا جس کسی کے لئے بھی کشادہ کی جاتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک کے لئے ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے گا ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نہ بولے : تو مجھے اس کے حوالے سے ڈر لگا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17742
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے ، بلکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں ( مال و دولت کی ) کثرت کا اندیشہ ہے ، مجھے تم لوگوں کے بارے میں خطاء کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے بارے میں جان بوجھ کر کرنے کا اندیشہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17743
وَعَنَ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِمَالٍ مِنْ قِبَلِ الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَوَافَوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ تَبَسَّمَ وَقَالَ : " لَعَلَّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ وَقَدِمَ بِمَالٍ ؟ " . قَالُوا : أَجَلْ . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا خَيْرًا ، فَوَاللَّهِ ، مَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنْ إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا فَتَنَافَسْتُمُوهَا كَمَا تَنَافَسَهَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے یہ اطلاع سنی کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بحرین بھیجا ہوا تھا ، صبح کی نماز میں انصار کی بہت سی تعداد شریک ہوئی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو وہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ مسکرا دیئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : شاید تمہیں یہ اطلاع مل گئی ہے کہ ابوعبیدہ آ گیا ہے اور وہ مال لے کر آیا ہے ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ خوشخبری حاصل کرو اور بھلائی کی امید رکھو ، اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے ، بلکہ تم پر دنیا کو جب انڈیل دیا جائے گا تو تم اس کی طرف راغب ہو جاؤ گے ، جس طرح تم سے پہلے کے لوگ اس کی طرف راغب ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17744
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فِيهِ جَفَاءٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ ، حِينَ تُصَبُّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا ، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبَسُ الذَّهَبَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ فِي كِتَابِ الزِّينَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، اس دوران ایک دیہاتی کھڑا ہوا جس کے انداز میں کچھ سخی تھی وہ بولا: یا رسول اللہ ! قحط سالی نے ہمیں کھا لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں اس کے علاوہ چیز کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ، جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ، تو اے کاش ! میری امت اس وقت سونا نہ پہنے ۔ “ یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، امام طبرانی میں معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے
یہ روایت اور دیگر روایات کتاب الزینہ میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت اور دیگر روایات کتاب الزینہ میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17745
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَشِيَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطَاءَ ، وَخَدَمَتْهُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ ، تَسَلَّطَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب میری امت اترا کر چلے گی اور اہل فارس اور اہل روم ان کی خدمت کریں گے ، تو اُن میں سے بعض کو دوسروں پر مسلط کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17746
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي النَّاسَ عَطَاءَهُمْ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ قَالَ : خُذْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ ، وَهُمَا مُهْلِكَاكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ لوگوں کو تنخواہیں دے رہے تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا ، انہوں نے اُسے ایک ہزار درہم دیے اور پھر یہ فرمایا : تم یہ وصول کر لو ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم سے پہلے کے لوگوں کو دینار اور درہم نے ہلاکت کا شکار کیا ، اور یہ دونوں تمہیں بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17747
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا غُدِيَ عَلَيْكُمْ بِجَفْنَةٍ ، وَرِيحَ عَلَيْكُمْ بِأُخْرَى ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا يَوْمَئِذٍ لَبِخَيْرٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب صبح کے وقت تمہارے پاس ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا پیالہ لایا جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت بہتر ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم لوگ آج زیادہ بہتر ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔