عَنْ أَبِي مَدِينَةَ الدَّارِمِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كَانَ الرَّجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا الْتَقَيَا لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَقْرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ : " وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے وہ دکھا دے ، ج سیدنا ابومدینہ دارمی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ، دو افراد جب ایک دوسرے سے ملتے تھے ، تو اُس وقت تک جدا نہیں ہوتے تھے جب تک ایک دوسرے کے سامنے یہ تلاوت نہیں کرتے تھے : ” زمانے کی قسم ہے ! بے شک انسان خسارے میں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ : أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَقَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً ثُمَّ قَالَ : " عَلَى مَكَانِكُمُ اثْبُتُوا " . ثُمَّ أَتَى الرِّجَالَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا " . ثُمَّ تَخَلَّلَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُنَّ : " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ : " أَنْ تَتَّقِينَ اللَّهَ ، وَأَنْ تَقُلْنَ قَوْلًا سَدِيدًا " . ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو یہ حکم دوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو ! “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں یہ ہدایت کروں کہ تم اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو !“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور تم سیدھی بات کرو ( یعنی عربی کے الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے ) اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور تم سیدھی بات کرو ( یعنی عربی کے الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے ) اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔