کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت خضر علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نصیحت
حدیث نمبر: 17722
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ أَخِي مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : يَا رَبِّ ، أَرِنِي الَّذِي كُنْتَ أَرَيْتَنِي فِي السَّفِينَةِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا مُوسَى ، إِنَّكَ سَتَرَاهُ ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَاهُ الْخَضِرُ ، وَهُوَ فِي طِيبِ الرِّيحِ ، وَحُسْنِ ثِيَابِ الْبَيَاضِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ ، إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ : السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ مُوسَى : هُوَ السَّلَامُ ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ ، وَمِنْهُ السَّلَامُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، الَّذِي لَا أُحْصِي نِعَمَهُ ، وَلَا أَقْدِرُ عَلَى شُكْرِهِ ، إِلَّا بِمَعُونَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ مُوسَى : أُرِيدُ أَنْ تُوصِيَنِي بِوَصِيَّةٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا بَعْدَكَ ، قَالَ الْخَضِرُ : يَا طَالِبَ الْعِلْمِ ، إِنَّ الْقَائِلَ أَقَلُّ مَلَالَةً مِنَ الْمُسْتَمِعِ ، فَلَا تُمِلَّ جُلَسَاءَكَ إِذَا حَدَّثَتْهُمْ ، وَاعْلَمْ أَنَّ قَلْبَكَ وِعَاءٌ ، فَانْظُرْ بِمَا تَحْشُو بِهِ وِعَاءَكَ ، وَاعْرِفِ الدُّنْيَا ، وَانْبِذْهَا وَرَاءَكَ ; فَإِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ بِدَارٍ ، وَلَا لَكَ فِيهَا قَرَارٌ ، وَإِنَّهَا جُعِلَتْ بُلْغَةً لِلْعِبَادِ لِيَتَزَوَّدُوا مِنْهَا لِلْمَعَادِ ، وَيَا مُوسَى ، وَطِّنْ نَفْسَكَ عَلَى الصَّبْرِ تَلْقَ الْحِلْمَ ، وَأَشْعِرْ قَلَبَكَ التَّقْوَى تَنَلِ الْعِلْمَ ، وَرُضْ نَفْسَكَ عَلَى الصَّبْرِ تَخْلُصْ مِنَ الْإِثْمِ . يَا مُوسَى ، تَفَرَّغْ لِلْعِلْمِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُهُ ; فَإِنَّمَا الْعِلْمُ لِمَنْ تَفَرَّغَ لَهُ ، وَلَا تَكُنْ هَكَّارًا بِالْمَنْطِقِ مِهْذَارًا ، إِنَّ كَثْرَةَ الْمَنْطِقِ تَشِينُ الْعُلَمَاءَ ، وَتُبْدِي مَسَاوِئَ الْخَفَاءِ ، وَلَكِنَّ عَلَيْكَ بِذِي اقْتِصَادٍ ; فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ التَّوْفِيقِ وَالسَّدَادِ ، وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِ ، وَاحْلُمْ عَنِ السُّفَهَاءِ ; فَإِنَّ ذَلِكَ فَضْلُ الْحُكَمَاءِ ، وَزَيْنُ الْعُلَمَاءِ . إِذَا شَتَمَكَ الْجَاهِلُ فَاسْكُتْ عَنْهُ سِلْمًا ، وَجَانِبْهُ حَزْمًا ; فَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنْ جَهْلِهِ عَلَيْكَ ، وَشَتْمِهِ إِيَّاكَ أَعْظَمُ وَأَكْثَرُ . ¤ يَا ابْنَ عِمْرَانَ ، إِنَّكَ لَا تَرَى أُوتِيَتْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ; فَإِنَّ الِانْدِلَاقَ وَالتَّعَسُّفَ مِنَ الِاقْتِحَامِ وَالتَّكَلُّفِ . يَا ابْنَ عِمْرَانَ ، لَا تَفْتَحَنَّ بَابًا لَا تَدْرِي مَا غَلْقُهُ ، وَلَا تَغْلِقَنَّ بَابًا لَا تَدْرِي مَا فَتْحُهُ . يَا ابْنَ عِمْرَانَ ، مَنْ لَا يَنْتَهِي مِنَ الدُّنْيَا نَهْمَتُهُ ، وَلَا تَنْقَضِي مِنْهَا رَغْبَتُهُ ، كَيْفَ يَكُونُ عَابِدًا ؟ مَنْ يُحَقِّرُ حَالَهُ ، وَيَتَّهِمُ اللَّهَ بِمَا قَضَى لَهُ كَيْفَ يَكُونُ زَاهِدًا ؟ هَلْ يَكُفُّ عَنِ الشَّهَوَاتِ مَنْ قَدْ غَلَبَ هَوَاهُ ، وَيَنْفَعُهُ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْجَهْلِ قَدْ حَوَّلَهُ ; لِأَنَّ سَفَرَهُ إِلَى آخِرَتِهِ ، وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ . يَا مُوسَى ، تَعَلَّمْ مَا تَعْلَمَنَّ لِتَعْمَلَ بِهِ ، وَلَا تَعَلَّمْهُ لِتُحَدِّثَ بِهِ ، فَيَكُونُ عَلَيْكَ بَوْرُهُ ، وَيَكُونُ لِغَيْرِكَ نَوْرُهُ . يَا ابْنَ عِمْرَانَ ، اجْعَلِ الزُّهْدَ وَالتَّقْوَى لِبَاسَكَ ، وَالْعِلْمَ وَالذِّكْرَ كَلَامَكَ ، وَأَكْثِرْ مِنَ الْحَسَنَاتِ ; فَإِنَّكَ مُصِيبٌ السَّيِّئَاتِ ، وَزَعْزِعْ بِالْخَوْفِ قَلْبَكَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُرْضِي رَبَّكَ ، وَاعْمَلْ خَيْرًا ; فَإِنَّكَ لَا بُدَّ عَامِلٌ سِوَاهُ . قَدْ وُعِظْتَ إِنْ حَفِظْتَ . ¤ فَتَوَلَّى الْخَضِرُ وَبَقِيَ مُوسَى حَزِينًا مَكْرُوبًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي وَصْلِهِ ، وَالصَّوَابُ فِيهِ : عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے وہ دکھا دے ، جو تو نے مجھے کشتی میں دکھایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : اے موسیٰ ! تم عنقریب اسے دیکھ لو گے ، تھوڑی دیر بعد سیدنا خضر علیہ السلام ان کے پاس آ گئے ان کی خوشبو عمدہ تھی اور انہوں نے صاف سفید لباس پہنا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: اے موسیٰ بن عمران ! تم پر سلام ہو ، تمہارے پروردگار نے بھی تمہیں سلام کہا: ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: وہ سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی اسی کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی طرف سے ملتی ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جس کی نعمتوں کا ، میں شمار نہیں کر سکتا اور جس کے شکر کی ، میں قدرت نہیں رکھتا ، البتہ اس کی مدد کے ساتھ ( اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے ) پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجئے ، جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ آپ کے بعد بھی مجھے نفع عطا کرے ، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : اے علم کے طلب گار ! کہنے والا شخص ، سننے والے کے مقابلے میں اکتاہٹ کا کم شکار ہوتا ہے ، تو تم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ جب بات چیت کرو ، تو انہیں اکتاہٹ کا شکار نہ کرنا ۔ اور تم یہ بات جان لو ! کہ تمہارا دل ایک برتن ہے ، تو تم اس بات کا جائزہ لیتے رہنا کہ تم اپنے برتن میں کیا بھر رہے ہو ؟ تم دنیا کی معرفت حاصل کر لو ، اور اسے پس پشت ڈال دو ، کیونکہ وہ تمہارے رہنے کی جگہ نہیں ہے ، نہ تم نے اس میں ٹھکانہ اختیار کرنا ہے ، اسے تو بندوں کے لئے سامان بنایا گیا ہے ، تاکہ وہ اس میں سے آخرت کے لیے زاد سفر حاصل کر لیں ۔ اے موسیٰ ! تم اپنے آپ کو صبر پر برقرار رکھنا ، تم حکمت پا لو گے اور اپنے دل کو تقویٰ کا شعور دینا ، تم علم تک پہنچ جاؤ گے ، اپنے نفس کو صبر پر گامزن رکھنا ، تم گناہ سے خلاصی حاصل کو لو گے ۔ اے موسیٰ ! علم کے لیے فارغ رہنا ، اگر تم علم کے حصول کا ارادہ رکھتے ہو ، کیونکہ علم اسے نصیب ہوتا ہے ، جو اس کے لئے فارغ رہتا ہے ۔ اور تم گفتگو کرتے ہوئے ، خود پسندی کے اظہار اور فضول گوئی کرنے والے نہ ہونا ، کیونکہ زیادہ بولنا علماء کے لئے بے عزتی کا باعث ہوتا ہے ، اور بیوقوفی کی مانند ہوتا ہے ، تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ چیز توفیق اور درست رہنے کا حصہ ہے ۔ تم جاہل شخص سے پہلو تہی کرنا ، بے وقوفوں کے مقابلے میں بردباری کا مظاہرہ کرنا ، کیونکہ یہ چیز داناؤں کی فضیلت ہے اور علماء کی زینت ہے ۔ جب کوئی جاہل تمہیں برا کہے ، تو تم سلامتی اور بچاؤ کے ہمراہ اس کے جواب میں خاموش رہنا ، اور احتیاط کے ساتھ اس سے پہلو تہی کرنا ، کیونکہ اس کا تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرنا اور اس کا تمہیں برا کہنا ، ان میں سے جو باقی رہے گا ، وہ زیادہ بڑا اور زیادہ تعداد میں ہو گا ۔ اے ابن عمران ! تم ایک چیز کا خیال رکھنا کہ تمہیں جو علم دیا گیا ہے ، وہ تھوڑا سا ہے ، سختی اور شدت ، زیادتی اور تکلف میں سے ہے ۔ اے ابن عمران ! تم کوئی ایسا دروازہ نہ کھولنا ، جس کے بارے میں تم یہ نہ جانتے ہو کہ اُس کو بند کیسے کیا جائے گا ؟ اور تم کوئی ایسا دروازہ بند نہ کرنا ، جس کے بارے میں تم یہ نہ جانتے ہو کہ اُسے کھولا کیسے جائے گا ؟ اے ابن عمران ! اور دنیا میں جس کی دلچسی کی کوئی آخری حد نہ ہو ، اور جس کی رغبت تک ختم نہ ہوتی ہو ، وہ کیسے عبادت گزار ہو سکتا ہے ؟ جو شخص اپنے حال کو حقیر سمجھتا ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں جو فیصلہ دیا ہو ، اس کے حوالے سے تہمت عائد کرتا ہو ، وہ زاہد کیسے ہو سکتا ہے ؟ کیا وہ شخص نفسانی خواہشات کی پیروی سے رک سکتا ہے ؟ جس کی نفسانی خواہش اس پر غالب ہو ، کیا علم کا حصول اس شخص کو نفع دے سکتا ہے جسے جہالت نے تبدیل کر دیا ہو ؟ کیونکہ اس کا سفر آخرت کی طرف ہے ، اور وہ تو دنیا کی طرف متوجہ ہے ۔ اے موسیٰ بن عمران ! تم وہ علم حاصل کرنا ، جس کے ذریعے مقصد ، اس پر عمل کرنا ہو ، تم علم اس لیے حاصل نہ کرنا ، تاکہ اس کے حوالے سے گفتگو کرو ، ورنہ اس کا نقصان تمہارے ذمہ ہو گا ، اور اس کا نور دوسروں کو مل جائے گا ۔ اے ابن عمران ! تم زہد اور تقویٰ کو اپنا لباس بنا لو ! تم ذکر اور علم کو اپنا کلام بنا لو ، اور تم کثرت کے ساتھ نیکیاں کرو ، کیونکہ تم سے گناہ بھی سرزد ہو سکتا ہے ، تم خوف کے ہمراہ اپنے دل کو پریشان رکھو ، یہ چیز تمہارے پروردگار کو راضی کر دے گی ، تم بھلائی کا کام کرو ، کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ تم اس کے علاوہ بھی کچھ کر لو ، میں نے نصیحت کر دی ہے ، اگر تم حفاظت کرو گے ( تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ) ۔ پھر سیدنا خضر علیہ السلام واپس چلے گئے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام غمگین اور پریشان رہ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ ” کتاب الثقات “ میں کیا ہے ، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس راوی نے اس روایت کو ” موصول “ روایت کے طور پر نقل کرنے میں غلطی کی ہے ، درست یہ ہے : کہ
یہ روایت سفیان ثوری سے منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح