حدیث نمبر: 17715
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : " مَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ زَمَانِكُمْ فَبِمَا غَيَّرْتُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا فَوَاهًا وَاهًا ، وَإِنْ يَكُ شَرًّا فَآهًا آهًا " . هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تم اپنے زمانے کے حوالے سے جس چیز کو منکر قرار دیتے ہو ، تو وہ چیز تمہارے اعمال کی تبدیلی ہے ، اگر وہ اچھی ہے ، تو کیا کہنے ؟ اور اگر وہ بری ہے ، تو پھر افسوس کی بات ہے ۔ “ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17716
وَعَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا لَا تُعْرَفُ ، وَيُوشِكُ الْعَازِبُ أَنْ يَئُوبَ إِلَى أَهْلِهِ فَمَسْرُورٌ ، وَمَكْظُومٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایسے عمل کرو گے ، جو معروف نہیں ہوں گے اور ایسا ہو گا کہ کوئی شخص طویل عرصے بعد ، اپنے گھر واپس آئے ، تو وہ خوش ہو ، یا پھر غصے پر ق ابوپائے ہوئے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17717
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَامِكُمْ ، وَلَا إِلَى أَحْسَابِكُمْ ، وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ، فَمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ صَالِحٌ تَحَنَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ ، وَأَحَبُّكُمْ إِلَيَّ أَتْقَاكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف ، یا تمہارے حسب کی طرف ، یا تمہارے اعمال کی طرف نہیں دیکھتا ہے ، بلکہ وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ، تو جس شخص کا دل نیک ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوتا ہے ، تم لوگ اولاد آدم ہو ، اور تم میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیاش ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیاش ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17718
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ بِوَصِيَّةٍ ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلَاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِي ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ ، مَنْ كَانُوا ، وَحَيْثُ كَانُوا . اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ فَسَادَ مَا أَصْلَحْتَ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَتُكْفَأُ أُمَّتِي عَنْ دِينِهَا كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ فِي الْبَطْحَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور یہ ارشاد فرمایا : ” میرے گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں میں ، میرے سب سے زیادہ قریب ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، تم میں سے پرہیزگار لوگ میرے قریبی ساتھی ہیں ، خواہ وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں ، اے اللہ ! میں اُن کے لئے یہ چیز حلال قرار نہیں دیتا کہ وہ اسے خراب کریں ، جسے تو نے ٹھیک کیا ہے ، اللہ کی قسم ! میری اُمت اپنے دین کے حوالے سے یوں اوندھی ہو جائے گی ، جس طرح میدان میں برتن کو اوندھا کر دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17719
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ : أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ ، وَلَا يَخُونُكَ ، وَلَا يَكْذِبُكَ ، وَالْآخَرُ يَخُونُكَ ، وَيَكْذِبُكُ ، الَّذِي يُطِيعُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ الَّذِي يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . بَلِ الَّذِي لَا يَخُونُنِي ، وَلَا يَكْذِبُنِي ، وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ . قَالَ : " كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر تمہارے دو غلام ہوں ، اُن دونوں میں سے ایک تمہاری فرمانبرداری کرتا ہو اور تمہارے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو ، اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہ بولتا ہو ، جبکہ دوسرا تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہو ، اور تمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتا ہو ، تو جو تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا ہے ، وہ تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ؟ یا وہ ہو گا جو تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہے اور تمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتا ہے ، میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ وہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ، جو میرے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا ، اور میرے ساتھ سچ بولتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ایسے ہی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17720
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، غُلَامُكَ الَّذِي يُطِيعُكَ وَيَتَّبِعُ أَمْرَكَ ، أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ غُلَامُكَ الَّذِي لَا يُطِيعُكَ وَلَا يَتَّبِعُ أَمْرَكَ ؟ " . قَالَ : بَلْ . غُلَامِيَ الَّذِي يُطِيعُنِي وَيَتَّبِعُ أَمْرِي ، قَالَ : فَكَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے عوف بن مالک ! تمہارا وہ غلام ، جو تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے ، تمہارے حکم کی پیروی کرتا ہے ، وہ تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ، یا تمہارا وہ غلام زیادہ محبوب ہو گا ؟ جو تمہاری اطاعت نہیں کرتا اور تمہارے حکم کی پیروی نہیں کرتا ؟ انہوں نے عرض کی : بلکہ میرا وہ غلام ، جو میری اطاعت کرتا ہے اور میرے حکم کی پیروی کرتا ہے ( وہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو تم لوگ بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، اسی طرح ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17721
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ ، وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا ، وَلِسَانَهُ صَادِقًا ، وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً ، وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً ، وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً ، وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً ، فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ ، وَالْعَيْنُ مُقِرَّةٌ بِمَا يُوعَى الْقَلْبُ ، وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جس نے اپنے دل کو ایمان کے لیے خالص کر لیا ، اس نے اپنے دل کو سلامتی والا بنا لیا ، زبان کو سچا بنا لیا ، نفس کو مطمئن بنا لیا ، اپنے اخلاق کو ٹھیک کر لیا ، اپنے کانوں کو ( حق کی بات ) سننے والا بنا لیا ، اپنی آنکھوں کو ( حق کو ) دیکھنے والا بنا لیا ، جہاں تک کانوں کا تعلق ہے ، تو وہ راستہ ہیں ، اور آنکھ چیز کو برقرار رکھتی ہے اور دل محفوظ کرتا ہے ، اور وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے دل کو محفوظ کرنے والا بنا لیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔