کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جھونکوں کے درپے ہونا
❮
❯
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِرَبِّكُمْ فِي أَيَّامِ دَهْرِكُمْ نَفَحَاتٍ ، فَتَعَرَّضُوا لَهَا ; لَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُصِيبَهُ مِنْهَا نَفْحَةٌ لَا يَشْقَى بَعْدَهَا أَبَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَمَنْ عَرَفْتُهُمْ وُثِّقُوا .
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر وقت میں ، تمہارے پروردگار کی رحمت کے جھونکے ہوتے ہیں ، تو تم ان کے درپے ہوا کرو ، ہو سکتا ہے تم میں سے کسی ایک کو ان میں سے کوئی جھونکا نصیب ہو جائے ، اور وہ ( شخص ) اُس کے بعد کبھی بد نصیب نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور جن سے میں واقف ہوں ، اُن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (233/19) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2877، 6239»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " افْعَلُوا الْخَيْرَ دَهْرَكُمْ ، وَتَعَرَّضُوا لِنَفَحَاتِ رَحْمَةِ اللَّهِ ، فَإِنَّ لِلَّهِ نَفَحَاتٍ مَنْ رَحِمَتِهِ ، يُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، وَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَاتِكُمْ ، وَأَنْ يُؤَمِّنَ رَوْعَاتِكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِيسَى بْنِ مُوسَى بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ہمیشہ بھلائی کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کے جھونکوں کے درپے رہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت کے جھونکے نصیب کرتا ہے ، تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہارے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرے اور تمہیں پریشانیوں سے محفوظ رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عیسیٰ بن موسیٰ بن ایاس بن بکیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (720) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 720، وأخرجه شرح السنة برقم: 1378»