کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو وعظ کو قبول کرے ، اور اس کا غیر ( یعنی وعظ کو قبول نہ کرنے والا )
عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَعِظُ أَصْحَابَهُ ، فَإِذَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمُرُّونَ فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَضَى الثَّانِي قَلِيلًا ثُمَّ جَلَسَ ، وَمَضَى الثَّالِثُ عَلَى وَجْهِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ ؟ أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْنَا ، فَإِنَّهُ تَابَ فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا الَّذِي مَضَى قَلِيلًا ثُمَّ جَلَسَ ، فَإِنَّهُ اسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَمَّا الَّذِي مَضَى عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِنَّهُ اسْتَغْنَى فَاسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو وعظ کر رہے تھے ، اسی دوران وہاں سے تین افراد گزرے ، ان میں سے ایک شخص آیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، دوسرا شخص تھوڑا آگے گیا اور پھر وہ بیٹھ گیا ، اور تیسرا شخص چلتا چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان تین افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جو آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا ، تو اس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کیا ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جو تھوڑا آگے گیا اور پھر بیٹھ گیا ، تو اس شخص نے حیا کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جو چلتا چلا گیا ، تو اس نے لاتعلقی کا اظہار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے بے نیازی اختیار کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔