حدیث نمبر: 17704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سُعِّرَتِ النَّارُ ، وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ ، يَا أَهْلَ الْحُجُرَاتِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ : قَائِدُ الْأَعْمَشِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جہنم کو دہکا دیا گیا ہے اور جنت کو آراستہ کر دیا گیا ہے ، اے حجروں میں رہنے والو ! اگر تمہیں اس چیز کا پتہ چل جائے ، جس کا مجھے علم ہے ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے ، جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3220) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10393)»
حدیث نمبر: 17705
وَعَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ فَقَالَ : " سُعِّرَتِ النَّارُ لِأَهْلِ النَّارِ ، وَجَاءَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم کو اہل جہنم کے لیے دہکا دیا گیا ہے ، اور ایسے فتنے آ رہے ہیں ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان لو ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو ، اور زیادہ رویا کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17705
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (891)»
حدیث نمبر: 17706
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ ، لَا تَدْرُونَ تَنْجُونَ أَوْ لَا تَنْجُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ مِنْ طَرِيقِ ابْنَةِ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِيهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان لو ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ، اور تم ویرانوں کی طرف نکل جاؤ ، تاکہ تم اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرو ، تم نہیں جانتے کہ تم نجات پاؤ گے یا تم نجات نہیں پاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں اس صاحبزادی سے واقف نہیں ہوں ، طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3221)»
حدیث نمبر: 17707
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان لو ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (322) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7005)»