حدیث نمبر: 17697
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، فَمَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ . وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " غَشْمُهُ ، وَظُلْمُهُ ، وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ فِيهِ ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ . إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَمْحُو السَّيِّئِ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اس نے تمہارے درمیان رزق تقسیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ دنیا اس شخص کو بھی دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، اور اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ دین صرف اس کو دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ، تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دین عطا کیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا ، جب تک اس کا دل اور اس کی زبان اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار نہ ہو جائیں ، اور بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک اس کا پڑوی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی زیادتیوں سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا ، اس کا ظلم کرنا ۔ “ ” ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ) جو بندہ حرام طور پر مال کما کر ، اس میں سے خرچ کرتا ہے ، اس بندے کے لیے اس مال میں برکت نہیں رکھی جاتی ہے اور اگر وہ اس کو صدقہ کرتا ہے ، تو اس کی طرف سے وہ قبول نہیں ہوتا ہے ، اور اگر وہ اس مال کو اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے ، تو وہ مال جہنم کی طرف جانے کے لیے اس کا زاد سفر ہوتا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ برائی کو ، برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے بلکہ وہ اچھائی کے ذریعے برائی کو مٹاتا ہے ، خبیث چیز ، خبیث کو نہیں مٹاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17698
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - فِيمَا يَعْلَمُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّ مِثْلَ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا بَطْنَ وَادٍ ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ ، وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ ، حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ ، وَإِنَّ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكُهُ " . ¤ وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : - قَالَ أَبُو ضَمْرَةَ : وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ " . وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ طَلِيعَةً ، فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يُسْبَقَ أَلَاحَ بِثَوْبِهِ : أَتَيْتُمْ أَتَيْتُمْ " . ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا ذَاكَ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انس بن عیاض نامی راوی کا یہ کہنا ہے : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم حقیر گناہوں کے ارتکاب سے بچ کے رہو ، کیونکہ حقیر گناہوں کی مثال ، ان لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی وادی کے نشیبی حصے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، پھر ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ ( ان لکڑیوں کو جلا کر ) روٹی پکا لیتے ہیں ، حقیر گناہوں کو کرنے والے کی بھی ، جب ان گناہوں کے حوالے سے گرفت ہو گی ، تو وہ گناہ اس شخص کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔ “ ابوحازم بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوضمرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے
یہ روایت ، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” میری اور قیامت کی مثال ، ان دو کی مانند ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو الگ کر کے ( یعنی ان دونوں انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے ) یہ بات ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : ” میری اور قیامت کی مثال ، اُس شخص کی مانند ہے ، جسے اس کی قوم صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے آگے بھیجتی ہے ، اور جب اس شخص کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ( خطرہ اُس کی قوم تک ) اس سے پہلے نہ پہنچ جائے ، تو وہ اپنا کپڑا لہرا کر یہ کہتا ہے : ( خطرہ ) تم تک پہنچنے والا ہے ، تم تک پہنچنے والا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں وہ فرد ہوں“ ۔ یہ پوری روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” میری اور قیامت کی مثال ، ان دو کی مانند ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو الگ کر کے ( یعنی ان دونوں انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے ) یہ بات ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : ” میری اور قیامت کی مثال ، اُس شخص کی مانند ہے ، جسے اس کی قوم صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے آگے بھیجتی ہے ، اور جب اس شخص کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ( خطرہ اُس کی قوم تک ) اس سے پہلے نہ پہنچ جائے ، تو وہ اپنا کپڑا لہرا کر یہ کہتا ہے : ( خطرہ ) تم تک پہنچنے والا ہے ، تم تک پہنچنے والا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں وہ فرد ہوں“ ۔ یہ پوری روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17699
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بَنِي هَاشِمٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا صَفِيَّةُ ، عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا فَاطِمَةُ ، بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ النَّاسُ غَدًا يَحْمِلُونَ الْآخِرَةَ ، وَجِئْتُمْ تَحْمِلُونَ الدُّنْيَا ، إِنَّمَا أَوْلِيَائِي مِنْكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَّقُونَ ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ مُسْتَصْبِحٍ فِي قَوْمِهِ أَتَاهُمْ فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، أَتَيْتُمْ غَشَيْتُمْ ، وَاصَبَاحَاهُ ، أَنَا النَّذِيرُ ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنو ہاشم ! اے بنو عبدالمطلب ! اے صفیہ ! جو اللہ کے رسول کی پھوپھی ہیں ، اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! میں یہ صورتحال نہ پاؤں کہ کل ( قیامت کے دن ) لوگ آئیں ، تو انہوں نے آخرت اٹھائی ہوئی ہو ، اور تم آؤ ، تو تم نے دنیا اٹھائی ہوئی ہو ، قیامت کے دن تم میں سے میرے ساتھی پرہیزگار لوگ ہوں گے ، میری اور تمہاری مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو اپنی قوم میں آ کر ان سے یہ کہتا ہے : اے میری قوم ! خطرہ تمہارے سر پر پہنچنے والا ہے ، خطرے کی بات ہے ، میں ڈرانے والا ہوں ، موت برباد کر دینے والی ہے ، اور قیامت کا وعدہ ہے ( یعنی قیامت طے شدہ ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
حدیث نمبر: 17700
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ - وَلَيْسَتْ بِالْجَدْعَاءِ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كَأَنَّ الْمَوْتَ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا كُتِبَ ، وَكَأَنَّ الْحَقَّ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا وَجَبَ ، وَكَأَنَّمَا نُشَيِّعُ مِنَ الْمَوْتَى سُفُرٌ عَمَّا قَلِيلٍ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ ، نُبَوِّئُهُمْ أَجْدَاثَهُمْ ، وَنَأْكُلُ تُرَاثَهُمْ كَأَنَّكُمْ مُخَلَّدُونَ بَعْدَهُمْ ، قَدْ نَسِيتُمْ كُلَّ وَاعِظَةٍ ، وَأَمِنْتُمْ كُلَّ جَائِحَةٍ . طُوبَى لِمَنْ شَغَلَهُ عَيْبُهُ عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ ، وَتَوَاضَعَ لِلَّهِ فِي غَيْرِ مَنْقَصَةٍ ، وَأَنْفَقَ مِنْ مَالٍ جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ ، وَجَانَبَ أَهْلَ الشَّكِّ وَالْبِدْعَةِ ، وَصَلُحَتْ عَلَانِيَتُهُ ، وَعَزَلَ النَّاسَ عَنْ شَرِّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ مُحْرِزٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی ” عضباء “ پر ” جدعاء “ پر نہیں ، موجود رہتے ہوئے ، ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! ( یوں محسوس ہوتا ہے ) جیسے موت ہمارے علاوہ پر لازم قرار دی گئی ہے ، اور حق ہمارے علاوہ پر واجب ہوا ہے ، اور جن مردوں ( کے جنازوں ) کے ساتھ ہم چلتے ہیں ، وہ تھوڑا سا سفر ہے ، پھر ہم ان کو قبروں میں رکھ دیں گے اور ان کی وراثت کھا لیں گے ، اور گویا تم نے ان کے بعد ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، تم نصیحت کرنے والی ہر چیز بھول چکے ہو ، اور ہلاک کرنے والی ہر چیز سے ( خود کو ) محفوظ سمجھے ہوئے ہو ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے ذاتی عیوب اُسے لوگوں کی عیب چینی سے محفوظ رکھیں ، اور وہ کوئی کمی کیے بغیر اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرے ، اور وہ اس مال میں سے خرچ کرے ، جو اس نے معصیت کے علاوہ ( یعنی حلال طریقے سے ) کمایا ہو ، وہ اہل علم کے ساتھ میل جول رکھے ، اور شک کرنے والوں اور بدعتیوں سے لاتعلق رہے ، اُس کا ظاہر ٹھیک ہو ، اور وہ اپنی ذات کے شر کے حوالے سے ، لوگوں سے الگ تھلگ رہے ( یعنی لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن محرز ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی بھی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن محرز ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی بھی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17701
وَعَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ تَوَاضَعَ فِي غَيْرِ مَنْقَصَةٍ ، وَذَلَّ فِي نَفْسِهِ مِنْ غَيْرِ مَسْكَنَةٍ ، وَأَنْفَقَ مَالًا جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ ، وَرَحِمَ أَهْلَ الذُّلِّ وَالْمَسْكَنَةِ ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ وَالْحِكْمَةِ . طُوبَى لِمَنْ طَابَ كَسْبُهُ ، وَصَلُحَتْ سَرِيرَتُهُ ، وَكَرُمَتْ عَلَانِيَتُهُ ، وَعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ . طُوبَى لِمَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ ، وَأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ ، وَأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ نَصِيحٍ الْعَنْسِيِّ عَنْ رَكْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جو کسی نقص کے بغیر تواضع اختیار کرے ، اور کسی ذلت کے بغیر خود کو عاجز سمجھے ، اور اس مال کو خرچ کرے ، جو اس نے معصیت کے علاوہ ( یعنی جائز طریقے سے کمایا ہو ) وہ غریب اور معمولی لوگوں پر رحم کرے ، علم اور حکمت والے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ، اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس کی کمائی پاکیزہ ہو ، جس کا باطن ٹھیک ہو ، جس کا ظاہر معزز ہو ، اور وہ لوگوں کو اپنے شر سے بچا کے رکھے ، اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جو اپنے علم کے مطابق عمل کرے اور اپنے اضافی مال کو ( اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کر دے ، اور غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نصیح عنسی کے حوالے سے سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں اس ( یعنی نصیح عنسی ) سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نصیح عنسی کے حوالے سے سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں اس ( یعنی نصیح عنسی ) سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17702
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي حَدِيثًا وَاجْعَلْهُ مُوجَزًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ ; فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، أْيَسْ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ تَكُنْ غَنِيًّا ، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے ، اور وہ مختصر ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نماز یوں ادا کرو ، جیسے رخصت ہونے لگے ہو ، کیونکہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے ، اُس کے حوالے سے مایوس ہو جاؤ ، تم خوشحال ہو جاؤ گے اور تم ہر ایسی چیز سے بچ کے رہو ، جس کے حوالے سے معذرت کرنی پڑے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17703
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُشَرِّفُونَ الْمُتْرَفِينَ ، وَيَسْتَخِفُّونَ بِالْعَابِدِينَ ، وَيَعْمَلُونَ بِالْقُرْآنِ مَا وَافَقَ أَهْوَاءَهُمْ ، وَمَا خَالَفَ أَهْوَاءَهُمْ تَرَكُوهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ، يَسْعَوْنَ فِيمَا يُدْرِكُونَ بِغَيْرِ سَعْيٍ مِنَ الْقَدَرِ الْمَقْدُورِ ، وَالْأَجَلِ الْمَكْتُوبِ ، وَالرِّزْقِ الْمَقْسُومِ ، وَلَا يَسْعَوْنَ فِيمَا لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالسَّعْيِ مِنَ الْجَزَاءِ الْمَوْفُورِ ، وَالسَّعْيِ الْمَشْكُورِ ، وَالتِّجَارَةِ الَّتِي لَا تَبُورُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّفَّاءُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ مالداروں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، اور عبادت گزاروں کو کمتر سمجھتے ہیں ، وہ قرآن کے ان احکام پر عمل کرتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوں اور جو ان کی خواہشات کے برخلاف ہوں ، اسے چھوڑ دیتے ہیں ، تو ایسی صورتحال میں وہ کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش کرتے ہیں ، جسے کوشش کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ، جس کا تعلق ، طے شدہ تقدیر اور تحریر ( یا لازم ) کی گئی مخصوص مدت اور تقسیم کئے گئے رزق کے ساتھ ہے ، لیکن وہ اس چیز کے بارے میں کوشش نہیں کرتے ، جسے صرف کوشش کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے ، جن کا تعلق بھرپور جزاء ، قبول کی گئی کوشش اور اس تجارت کے ساتھ ہے ، جس میں نقصان نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید رفاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید رفاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔