کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عمل کے اظہار کا ناپسندیدہ ہونا
حدیث نمبر: 17677
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قُلْتُ لِرَجُلٍ : هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَاللَّهِ ، لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاهَدَ هَذَا الْيَوْمَ فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي .
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص سے کہا: آؤ ! ہم اپنے اس دن کو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو یوں ہوا کہ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر موجود تھے ، اُس دن آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص یہ کہہ دیتا ہے : آؤ ! ہم اپنے اس دن کو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اس جملے کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ میں زمین میں دفن ہو جاؤں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17677
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (419/4)»
حدیث نمبر: 17678
وَفِي رِوَايَةٍ : فَمَا زَالَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسِيخُ فِي الْأَرْضِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حِطَّانَ ، وَلَمْ يُسَمِّهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ مسلسل اس جملے کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ میں زمین میں گڑ جاؤں ۔ یہی روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ ثابت بنانی نے یہ بات کہی ہے : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے : کہ جس نے حطان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف