کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ہمراہ ، لوگوں کو راضی کرے
حدیث نمبر: 17672
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَحَبَّبَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يُحِبُّونَ وَبَارَزَ اللَّهَ تَعَالَى ; لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عصمہ بن فاتک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کی پسند کے حوالے سے ان کے نزدیک پسندیدہ ہونا چاہے گا ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف کرے گا ، تو قیامت کے دن ، جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17673
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَحَبَّبَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يُحِبُّونَ ، وَبَارَزَ اللَّهَ بِمَا يَكْرَهُ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کی پسند کے حوالے سے ، ان کے نزدیک پسندیدہ ہونا چاہے گا ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کرے گا ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17674
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ فِي رِضَا النَّاسِ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ مَنْ أَرْضَاهُ فِي سُخْطِهِ ، وَمَنْ أَرْضَى اللَّهَ فِي سُخْطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَأَرْضَى عَنْهُ مَنْ أَسْخَطَهُ فِي رِضَاهُ ، حَتَّى يُزَيِّنَهُ وَيُزَيِّنَ قَوْلَهُ ، وَعَمَلَهُ فِي عَيْنِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيِّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الذَّهَبِيُّ فِي آخِرِ تَرْجَمَةِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کی رضامندی میں ، اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا اور جس کو اُس نے اللہ کی ناراضگی میں راضی کرنے کی کوش کی تھی ، اس کو بھی اس شخص پر ناراض کر دے گا ، اور جو شخص لوگوں کی ناراضگی میں ، اللہ تعالیٰ کو راضی کرے گا ، اللہ تعالی اس سے راضی ہو جائے گا اور جو شخص اللہ کی رضامندی میں ، اس سے ناراض ہوا تھا ، اللہ تعالیٰ اُسے بھی اس شخص سے راضی کر دے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ دوسرے شخص کی نظر میں ، اس کو اور اس کے قول اور عمل کو آراستہ کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن سلیمان جعفری کا معاملہ مختلف ہے ، امام ذہبی نے یحیی بن سلیمان جعفی کے حالات کے آخر میں اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن سلیمان جعفری کا معاملہ مختلف ہے ، امام ذہبی نے یحیی بن سلیمان جعفی کے حالات کے آخر میں اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17675
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ طَلَبَ مَحَامِدَ النَّاسِ بِمَعَاصِي اللَّهِ ، عَادَ حَامِدُهُ ذَامًّا " . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيَّ : " مَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسُخْطِ اللَّهِ ; سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَسْخَطَ النَّاسَ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ قُطْبَةَ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ذریعے لوگوں کی تعریف حاصل کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی تعریف کرنے والے کو ، اس کی مذمت کرنے والا بنا دے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ذریعے لوگوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا ، اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا ۔ “ یہ روایت امام بزار نے قطبہ بن علاء کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث پہلے گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ذریعے لوگوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا ، اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا ۔ “ یہ روایت امام بزار نے قطبہ بن علاء کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث پہلے گزر چکی ہیں ۔