کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی کو اس حوالے سے اندیشہ ہو ، تو وہ کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17669
عَنْ أَبِي عَلِيٍّ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ - قَالَ : خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ; فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ . فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْنٍ ، وَقَيْسُ بْنُ الْمُضَارِبِ ، فَقَالَا : وَاللَّهِ ، لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ ، أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونًا لَنَا ، أَوْ غَيْرَ مَأْذُونٍ . فَقَالَ : بَلْ أَخْرُجُ مِمَّا قُلْتُ ، خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ; فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ " . فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ : وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ ، وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَلِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعلی ، جن کا تعلق بنو کاہل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اس شرک سے بچنے کی کوشش کرو ، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، تو عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب ان کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور ان دونوں نے یہ کہا: اللہ کی قسم ! یا تو آپ اپنی کہی ہوئی بات کا ثبوت پیش کریں گے ، یا پھر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں گے ، خواہ ہمیں اجازت ملے یا ہمیں اجازت نہ ملے ، سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنی کہی ہوئی بات کا ثبوت دیتا ہوں ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اس شرک سے بچ کے رہنا ، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، تو جس کے بارے میں اللہ کو منظور تھا اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : ہم اُس سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ جبکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! بے شک ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم علم رکھتے ہوئے کسی کو ( تیرا ) شریک قرار دیں اور اس حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، جس کے بارے میں ہمیں علم نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعلی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17669
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (403/4)»
حدیث نمبر: 17670
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ - إِمَّا حَضَرَ حُذَيْفَةُ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا أَخْبَرَهُ أَبُو بَكْرٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ " . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلَ الشِّرْكُ إِلَّا مَا عُبِدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ، أَوْ مَا دُعِيَ مَعَ اللَّهِ ؟ ! - شَكَّ عَبْدُ الْمَلِكِ - قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا صِدِّيقُ ، الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَوْلٍ يُذْهِبُ صِغَارَهُ وَكِبَارَهُ - أَوْ صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ - ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَقُولُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُهُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ ، وَالشِّرْكُ أَنْ تَقُولَ : أَعْطَانِي اللَّهُ وَفُلَانٌ ، وَالنِّدُّ أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ : لَوْلَا فُلَانٌ قَتَلَنِي فُلَانٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، وَلَيْثٌ مُدَلِّسٌ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ إِنْ كَانَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَوِ الَّذِي رَوَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُمَا فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، شاید سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، یا شاید سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شرک تو صرف وہ ہوتا ہے کہ جو اللہ کو چھوڑ کر کسی کی عبادت کی جائے ( عبدالملک نامی راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ کے ہمراہ کسی اور کو پکارا جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صدیق ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، تم لوگوں میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہو گا ، کیا میں تمہیں اس کلمے کے بارے میں بتاؤں جو چھوٹے اور بڑے ( شرک کو ) رخصت کر دے گا ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہی ہے ) میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم روزانہ تین مرتبہ یہ پڑھا کرو : ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو تیرا شریک قرار دوں اور اس چیز کے حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، جس کا مجھے علم نہ ہو ۔ “ ” شرک “ یہ ہے کہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ نے اور فلاں نے مجھے دیا ۔ ” ند “ یہ ہے : کہ انسان یہ کہے : اگر فلاں نہ ہوتا ، تو فلاں نے مجھے قتل کر دینا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے لیث بن ابوسلیم کی ابومحمد کے حوالے سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، لیث نامی راوی مدلس ہے ، اور ابومحمد نامی راوی اگر تو وہ ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتا ہے ، یا اگر وہ ہے جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتا ہے ، تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اگر یہ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (58)»
حدیث نمبر: 17671
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي بَكْرٍ - أَوْ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا يُذْهِبُ صَغِيرَ ذَلِكَ وَكَبِيرَهُ ؟ قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ : عَمْرِو بْنِ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے یہ بات بتائی : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، پھر آپ نے فرمایا : کیا میں اس چیز کے بارے میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ جو اس ( شرک کے ) چھوٹے یا بڑے ( یعنی ہر قسم کے شرک ) کو رخصت کر دے گی ، تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤں اور میں اس کا علم رکھتا ہوؤں ، اور میں اس حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد عمرو بن حصین عقیلی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (59 و 60)»