وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ ، سَبْعَةٌ مُغْلَقَةٌ وَبَابٌ مَفْتُوحٌ لِلتَّوْبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، اُن میں سے سات دروازے بند ہیں ، اور ایک دروازہ توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اور یہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک سورج اس طرف سے ( یعنی مغرب کی طرف سے ) طلوع نہیں ہو جاتا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِنْ قَبِلَهَا ، مَا لَمْ يَخْرُجْ إِحْدَى ثَلَاثٍ : مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، أَوْ تَخْرُجِ الدَّابَّةُ ، أَوْ يَخْرُجْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ابن آدم کے لئے توبہ کی گنجائش رہے گی ، جب تک تین میں سے کوئی ایک چیز سامنے نہیں آ جاتی ، سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ، دابۃ الارض کا نکلنا ، یاجوج ماجوج کا نکلنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ ، أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ ، مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ " . قِيلَ : وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ ؟ ! قَالَ : " تَخْرُجُ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ بندے کی مغفرت کرتا رہتا ہے ، جب تک حجاب واقع نہیں ہو جاتا ، عرض کی گئی : حجاب واقع ہونے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جان کا ایسی حالت میں نکلنا کہ وہ مشرک ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ، ایک میں ایک راوی ابراہیم بن ہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ، ایک میں ایک راوی ابراہیم بن ہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفْسِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ مسلسل بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے ، جب تک بندے پر نزع کا عالم طاری نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔