حدیث نمبر: 17503
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ عَامًا تِيبَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تِيبَ عَلَيْهِ " . حَتَّى قَالَ : " يَوْمًا " . حَتَّى قَالَ : " سَاعَةً " . حَتَّى قَالَ : " فُوَاقًا " . ¤ قَالَ : قَالَ الرَّجُلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ كَافِرًا فَأَسْلَمَ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کر لے ، اس کی توبہ بھی قبول ہو جاتی ہے ، جو شخص مرنے سے ایک ماہ پہلے توبہ کر لے ، اس کی توبہ بھی قبول ہو جاتی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ انہوں نے ایک دن کا ذکر کیا ، یہاں تک کہ ایک پہر کا ذکر کیا ، یہاں تک کہ تھوڑی سی دیر کا ذکر کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر وہ شخص کافر ہو اور پھر مسلمان ہو جائے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں وہ چیز بیان کر رہا ہوں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17504
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ لَهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِفُوَاقِ نَاقَةٍ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مرنے سے اتنی دیر پہلے توبہ کر لے ، جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ دوہ لیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مرنے سے اتنی دیر پہلے توبہ کر لے ، جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ دوہ لیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 17505
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ : اجْتَمَعَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَبِلَ تَوْبَةَ عَبْدِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ " . فَقَالَ الثَّانِي : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ " . فَقَالَ الثَّالِثُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ " . فَقَالَ الرَّابِعُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفْسِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بیلمانی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد اکٹھے ہوئے : اُن میں سے ایک صاحب نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس کے مرنے سے ایک دن پہلے بھی قبول کر لیتا ہے ۔ “ دوسرے صحابی نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دوسرے صحابی نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ ، اُس کے مرنے سے نصف دن پہلے بھی قبول کر لیتا ہے ۔ “ تیسرے صحابی نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ان تیسرے صحابی نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اُس کے مرنے سے ، اتنا پہلے بھی قبول کر لیتا ہے ( جتنا سورج نکلنے کے بعد ) دن چڑھے کا وقت ہوتا ہے ۔ “ چوتھے صحابی نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ان چوتھے صحابی نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اُس وقت بھی قبول کر لیتا ہے جب اُس پر نزع کا عالم طاری نہ ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17506
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَبْلَ الْمَوْتِ بِشَهْرٍ إِلَّا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَدْنَى مِنْ ذَلِكَ ، وَقَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ أَوْ سَاعَةٍ ، يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ التَّوْبَةَ وَالْإِخْلَاصَ إِلَّا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ : " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مومن بندہ مرنے سے ایک ماہ پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے ، اگر وہ اس سے بھی کم عرصہ پہلے کر لے ، مرنے سے ایک دن پہلے کر لے ، یا ایک پہر پہلے کر لے ، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ اور اس کے اخلاص سے واقف ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، جبکہ اُس پر نزع کا عالم طاری نہ ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، جبکہ اُس پر نزع کا عالم طاری نہ ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17507
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا عَنْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، أَوْ كِتَابٍ مُنَزَّلٍ : " إِنَّ عَبْدًا لَوْ أَذْنَبَ كُلَّ ذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ إِلَى اللَّهِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ قَبِلَ مِنْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیا میں تمہیں ” نبی مرسل “ یا ” نازل شدہ کتاب “ کے حوالے سے بات بیان نہ کروں ؟ ( وہ بات یہ ہے : ) ” اگر بندہ سارے گناہ کر لے ، اور پھر وہ مرنے سے ایک دن پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17508
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا عَنْ كِتَابٍ مُنَزَّلٍ ، أَوْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَتُوبُ قَبْلَ مَرَضِهَا الَّذِي تَمُوتُ فِيهِ تَوْبَةً إِلَّا قَبِلَ تَوْبَتَهَا إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي فَائِدٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا فَائِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کو ” نازل شدہ کتاب “ یا ” نبی مرسل “ کے حوالے سے بات بیان کروں : ( وہ بات یہ ہے : ) ” جو شخص اس بیماری کا شکار ہونے سے پہلے توبہ کر لیتا ہے ، جس بیماری میں اس کا انتقال ہو جائے ، تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے ، اور ایسا اُس وقت تک رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ابوفائد کی ربعی سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں ابوفائد سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابوفائد کی ربعی سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں ابوفائد سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔