کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 17449
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَاعِدًا فِي أُنَاسٍ فَمَرَّ بِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَقَالَ : " هَاتُوا بَنِيَّ حَتَّى أُعَوِّذَهُمَا بِمَا عَوَّذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ : أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ دونوں وہاں سے گزرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے دونوں بیٹوں کو لاؤ ! تاکہ میں ان دونوں کو وہ دم کروں ، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے دو صاحبزادوں سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے ( جس کے کلمات یہ ہیں : )
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ” میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ، ہر شیطان اور زہریلے کیڑے مکوڑوں سے ، اور ہر حاسد ( لگنے والی ) نظر ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3202)»
حدیث نمبر: 17450
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَوْذَةٌ كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ ، وَأَنَا أُعَوِّذُ بِهَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : سَمِعَ اللَّهُ دَاعِيًا لِمَنْ دَعَا مَا وَرَاءَ اللَّهِ مَرْمًى لِمَنْ رَمَى " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ مُوَرِّعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ کلمات جن کے ذریعے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے ، میں اُن کے ذریعے حسن اور حسین کو دم کرتا ہوں ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ” اللہ تعالیٰ نے اس دعا کرنے والے کی بات سن لی جس نے دعا کی ۔ ( روایت کے اگلے الفاظ مجہول ہیں اسی لیے علامہ ہیثمی نے ، اس پر درج ذیل تبصرہ کیا ہے : )
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے یہ روایت اسی طرح پائی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3203)»
حدیث نمبر: 17451
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ - يَعْنِي : الْغَرَقَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ - يَعْنِي : الْغَرَقَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ» ” اے اللہ ! میں بہرے پن اور گونگے پن سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں گناہ اور قرض ( یا لازم ہونے والی کوئی ادائیگی ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں ڈوبنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں پریشانی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3204)»
حدیث نمبر: 17452
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ»
” اے اللہ ! میں عاجز ہونے ، سستی کا شکار ہونے ، بڑھاپے ، بزدلی اور کنجوسی سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17452
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3207)»
حدیث نمبر: 17453
وَعَنْ قُطْبَةَ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَوَّذُ مِنَ الْأَسْوَاءِ ، وَالْأَهْوَاءِ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ التَّعَوُّذَ مِنَ الْأَهْوَاءِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بری چیزوں اور نفسانی خواہشات سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے نفسانی خواہشات سے پناہ مانگنے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3209)»
حدیث نمبر: 17454
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَنَفْثِهِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . ¤ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا الَّذِي تَعَوَّذُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا هَمْزُهُ فَالَّذِي يُوَسْوِسُهُ ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَمَا يُلْقِي مِنَ الشُّبَهِ " - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ - " لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ، أَوْ عَلَى الْإِنْسَانِ صَلَاتَهُ " ، وَأَمَّا عَذَابُ الْقَبْرِ فَكَانَ يَقُولُ : " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَاخِرِ الْأَذْكَارِ أَبْوَابٌ فِي الِاسْتِعَاذَةِ وَهَذَا مَوْضِعُهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَنَفْثِهِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»
” اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے ” ہمز “ اس کے ” نفخ “ ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اس کے ” نفث “ سے ، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ چیز کیا ہے ؟ جس سے آپ پناہ مانگ رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اس کے ” ہمز “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جو وہ وسوسہ ڈالتا ہے ، اس کے ” نفث “ سے مراد شاعری کرنا ہے ، اس کے ” نفخ “ سے مراد اس کا شبہات پیدا کرنا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہ شبہات جو وہ نماز کے دوران ڈالتا ہے ، تاکہ وہ آدمی کی نماز کو منقطع کر دے ( یہاں الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جہاں تک قبر کے عذاب کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں یہ فرماتے تھے : ” زیادہ تر قبر کا عذاب ، پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” کتاب الاذکار “ کے آخر میں پناہ مانگنے سے متعلق کچھ ابواب گزرے ہیں اور یہ ان کا مخصوص مقام ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3210)»