کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت آدم علیہ السلام کی دعا
حدیث نمبر: 17426
عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ قَامَ وَجَاءَ الْكَعْبَةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَلْهَمَهُ اللَّهُ هَذَا الدُّعَاءَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ سَرِيرَتِي وَعَلَانِيَتِي ، فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِي ، وَتَعْلَمُ حَاجَتِي فَأَعْطِنِي سُؤْلِي ، وَتَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي ، وَيَقِينًا صَادِقًا حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي ، وَرِضًا بِمَا قَسَمْتَ لِي " . ¤ قَالَ : " فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا آدَمُ ، قَدْ قَبِلْتُ تَوْبَتَكَ ، وَغَفَرْتُ ذَنْبَكَ ، وَلَنْ يَدْعُوَنِي أَحَدٌ بِهَذَا الدُّعَاءِ إِلَّا غَفَرْتُ لَهُ ذَنْبَهُ ، وَكَفَيْتُهُ الْمُهِمَّ مِنْ أَمْرِهِ ، وَزَجَرْتُ عَنْهُ الشَّيْطَانَ ، وَاتَّجَرْتُ لَهُ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تَاجِرٍ ، وَأَقْبَلَتْ إِلَيْهِ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَإِنْ لَمْ يُرِدْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ طَاهِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر نازل کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوئے اور انہوں نے دو رکعت ادا کیں ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دعا الہام کی :
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ سَرِيرَتِي وَعَلَانِيَتِي ، فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِي ، وَتَعْلَمُ حَاجَتِي فَأَعْطِنِي سُؤْلِي ، وَتَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي ، وَيَقِينًا صَادِقًا حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي ، وَرِضًا بِمَا قَسَمْتَ لِي» ” اے اللہ ! تو میرے پوشیدہ اور علانیہ معاملے کے بارے میں علم رکھتا ہے ، تو میری معذرت قبول کر لے ، تو میری حاجت کے بارے میں علم رکھتا ہے ، تو مجھے وہ عطا کر دے جو میں مانگتا ہوں اور تو وہ جانتا ہے جو میرے من میں ہے ، تو میرے گناہ کی مغفرت کر دے ، اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے دل میں رچ بس جائے ، اور سچے یقین کا سوال کرتا ہوں ، یہاں تک کہ میں یہ بات جان لوں کہ مجھے صرف وہی صورتحال لاحق ہو گی ، جو تو نے میرے بارے میں طے کر دی ہے ، اور تو نے ( تقدیر میں ) جو میرے حصے میں مقرر کیا ہے ، اس لئے رضامندی ( کا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ) ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف وحی کی اور فرمایا : اے آدم ! میں نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے ، اور تمہارے گناہ کی مغفرت کر دی ہے ، اور جو بھی شخص مجھ سے یہ دعا کرے گا ، میں اس کے گناہوں کی مغفرت کر دوں گا اور اس کی تمام پریشانیوں میں ، اس کے لئے کفایت کر دوں گا ، اور شیطان کو اس سے پرے کر دوں گا ، اور ہر تجارت کرنے والے سے ماور ا ہو کر اس کے لیے تجارت کروں گا ، اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کی طرف آئے گی ، اگرچہ اس شخص کا دنیا کا ارادہ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن طاہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17426
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف