کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنت کی طلب کی ترغیب دینا
حدیث نمبر: 17348
عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَقَالَ : " أَعَجَزْتَ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ! " . فَقَالَ أَصْحَابُهُ : وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! فَقَالَ : " إِنَّ مُوسَى حِينَ أُمِرَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ضَلَّ الطَّرِيقَ ، فَسَأَلَ بَنِي إِسْرَائِيلَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ : إِنَّ يُوسُفَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ مُوسَى : وَأَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ ؟ فَقَالَ لَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ : مَا يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ إِلَّا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي ، قَالَ : وَمَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَأَنَّهُ ثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَعْطِهَا حُكْمَهَا ، فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ ، فَقَالَتِ : انْضُبُوا هَذَا الْمَكَانَ ، فَلَمَّا أَنْضَبُوهُ قَالَتِ : احْفِرُوا فِي هَذَا الْمَكَانِ ، فَلَمَّا احْتَفَرُوا أَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا اسْتَقَلُّوهَا مِنَ الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ النَّهَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : عَنْ أَبِي مُوسَى ¤ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَأَكْرَمَهُ ، فَقَالَ : " ائْتِنَا " ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ حَاجَتَكَ " ، فَقَالَ : نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا ، وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ! " ، فَقَالَ : " إِنَّ مُوسَى لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيقَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ : إِنَّ يُوسُفَ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ : أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ فَقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ ، قَالَتْ : حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي ، قَالَ : وَمَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا . فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مَوْضِعَ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ فَقَالَتِ : انْضُبُوا هَذَا الْمَكَانَ ، فَأَنْضَبُوهُ ، قَالَتِ : احْتَفِرُوا وَاسْتَخْرِجُوا عِظَامَ يُوسُفَ ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهَذَا الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى سِيَاقِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے عاجز ہو ؟ کہ بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت جیسے ہو جاؤ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : یا رسول اللہ ! بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہو جائیں ، تو وہ راستہ بھول گئے ، انہوں نے بنی اسرائیل سے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی وفات کا وقت جب قریب آیا تھا ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے نکلیں گے تو ان کے جسد خاکی کو بھی ساتھ لے جائیں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں سے دریافت کیا : تم میں سے کون یہ بات جانتا ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ بنی اسرائیل کے علماء نے ان سے کہا: یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ البتہ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس خاتون کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس سے فرمایا : تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کے بارے میں مجھے بتاؤ ! تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا ، جب تک آپ مجھے وہ چیز نہیں دینگے جو میں نے طے کی ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے کیا طے کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات مشکل محسوس ہوئی ، تو اُن سے کہا: گیا : آپ اس کو وہ دے دیں جس کی یہ طلبگار ہے ، پھر وہ عورت ان لوگوں کو ساتھ لے کر ایک جگہ گئی ، جہاں سے پانی پھوٹتا تھا اور آس پاس جھیل سی تھی ، اس عورت نے کہا: اس جگہ سے پانی خشک کرو ، جب ان لوگوں نے ایسا کیا ، تو اس نے کہا: اب اس جگہ کو کھودو ! جب ان لوگوں نے اس جگہ کو کھودا ، تو وہاں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکلیں ، جب اُن لوگوں نے انہیں نکال لیا ، تو ان کے سامنے دن کی طرح راستہ روشن ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ( شاید اصل الفاظ یہ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے تھے ، اس نے آپ کا احترام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آنا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی حاجت مانگو ! اس نے کہا: ایسی اونٹنی دے دیں ، جس پر ہم سواری کر سکیں اور ایسی بکریاں دیدیں ، جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ سکیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات سے عاجز ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کی مانند ہوتے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے ، تو وہ لوگ راستہ بھول گئے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا : کہ جب سیدنا یوسف علیہ السلام کا آخری وقت قریب آیا تھا ، تو انہوں نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم مصر سے اُس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک اُن کی ہڈیاں اپنے ساتھ لے کر نہیں جائیں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : اُن کی قبر کے بارے میں کس کو علم ہے ؟ تو کسی نے بتایا : بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کو پتا ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا ، وہ اُن کے پاس آئی ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کے بارے میں ہمیں بتاؤ ! تو اس عورت نے کہا: یہ اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک آپ مجھے وہ چیز نہیں دیں گے ، جو میں نے طے کی ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے کیا طے کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ اس کو یہ چیز دیں ( یعنی اس کے ساتھ یہ وعدہ کریں ) تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی کہ تم اس عورت کو وہ چیز دے دو جو اُس نے طے کی ہے ، پھر وہ خاتون ان لوگوں کو ساتھ لے کر ایک جھیل نما جگہ کی طرف گئی ، جہاں سے پانی پھوٹتا تھا ، اس نے کہا: اس پانی کو خشک کرو ، ان لوگوں نے پانی کو خشک کیا ، تو اس عورت نے کہا: اس جگہ کو کھودو ! ان لوگوں نے کھدائی کی ، اور سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکال لیں ، جب انہوں نے ایسا کر لیا ، تو راستہ دن کی روشنی کی مانند صاف ہو چکا تھا ۔ “ امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، اور اس چیز نے مجھے اس بات کی ترغیب دی جو اس روایت کا سیاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7254)»
حدیث نمبر: 17349
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ شَيْئًا فَأَرَادَ أَنْ يَفْعَلَهُ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ لَا يَفْعَلَ شَيْئًا سَكَتَ ، وَكَانَ لَا يَقُولُ لِشَيْءٍ : لَا ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَسَأَلَهُ فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَهَيْئَةِ الْمُنْتَهِرِ : " سَلْ مَا شِئْتَ يَا أَعْرَابِيُّ " . فَغَبَطْنَاهُ فَقُلْنَا : الْآنَ يَسْأَلُ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ [ لَهُ ] الْأَعْرَابِيُّ : أَسْأَلُكَ رَاحِلَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ ذَلِكَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ لَهُ : " سَلْ " ، قَالَ : أَسْأَلُكَ زَادًا ، قَالَ : " لَكَ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَتَعَجَّبْنَا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ بَيْنَ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ وَعَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ! " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مُوسَى لَمَّا أُمِرَ أَنْ يَقْطَعَ الْبَحْرَ فَانْتَهَى إِلَيْهِ ، فَصُرِفَتْ وُجُوهُ الدَّوَابِّ فَرَجَعَتْ ، قَالَ مُوسَى : مَا لِي يَا رَبُّ ؟ قَالَ لَهُ : إِنَّكَ عِنْدَ قَبْرِ يُوسُفَ ، فَاحْتَمِلْ عِظَامَهُ مَعَكَ ، وَقَدِ اسْتَوَى الْقَبْرُ بِالْأَرْضِ ، فَجَعَلَ مُوسَى لَا يَدْرِي أَيْنَ هُوَ ، قَالُوا : إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَعْلَمُ أَيْنَ هُوَ ، فَعَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَعَلَّهَا تَعْلَمُ أَيْنَ هُوَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : هَلْ تَعْلَمِينَ أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : فَدُلِّينِي عَلَيْهِ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تُعْطِيَنِي مَا أَسْأَلُكَ ، قَالَ : ذَلِكَ لَكِ ، قَالَتْ : فَإِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ الَّتِي تَكُونُ فِيهَا فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ : سَلِي الْجَنَّةَ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنْ أَكُونَ مَعَكَ ، فَجَعَلَ مُوسَى يُرَادُّهَا ، فَأَوْحَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَيْهِ : أَنْ أَعْطِهَا ذَلِكَ ; فَإِنَّهُ لَا يُنْقِصُكَ شَيْئًا ، فَأَعْطَاهَا وَدَلَّتْهُ عَلَى الْقَبْرِ ، فَأَخْرَجَ الْعِظَامَ ، وَجَاوَزَ الْبَحْرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی ، اور آپ کا ویسا کرنے کا ارادہ ہوتا ، تو آپ یہ فرما دیتے تھے : ٹھیک ہے ، اور جب آپ کا ویسا کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا تھا ، تو آپ خاموش رہتے تھے ، آپ کسی بھی چیز کے لیے ” نہیں “ ارشاد نہیں فرماتے تھے ، ایک مرتبہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے کچھ مانگا ، تو آپ خاموش رہے ، اس نے پھر آپ سے مانگا ، تو آپ خاموش رہے ، اس نے پھر آپ سے مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹنے کے طور پر اس سے فرمایا : اے دیہاتی ! تم جو چاہو مانگ لو ! ہمیں اُس شخص پر بڑا رشک آیا ، ہم نے سوچا اب یہ جنت مانگے گا ، اس دیہاتی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں آپ سے ایک سواری مانگتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہیں مل جائیگی ، پھر آپ نے اس سے فرمایا : تم مانگو ! ( یعنی مزید کچھ مانگو ) اس نے کہا: میں آپ سے زاد سفر مانگتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہیں مل جائے گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمیں اس بات پر حیرانگی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس دیہاتی کے اور بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کے مانگنے کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دریا پار کر لیں ، تو وہ دریا کے پاس پہنچے تو ان کے جانوروں کے رخ پھیر دیے گئے اور وہ واپس چلے گئے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : اے میرے پروردگار ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ پروردگار نے ان سے فرمایا : تم یوسف کی قبر کے پاس ہو ، تم اُس کی ہڈیاں اپنے ساتھ اٹھا لو ! سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر زمین کے برابر ہو چکی تھی ( یعنی اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہا تھا ) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ پتا نہیں تھا کہ ان کی قبر کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا: اگر کسی کو اس بارے میں علم ہو سکتا ہے ، تو بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کو ہو سکتا ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتی ہو ؟ کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم ہمیں اس کے بارے میں بتاؤ ! اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک آپ مجھے وہ چیز نہیں دیں گے ، جو میں آپ سے مانگوں گی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : یہ چیز تمہیں ملی ، اس عورت نے کہا: میں آپ سے یہ مانگتی ہوں کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ اسی درجے میں ہوؤں ، جس میں آپ ہوں گے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم صرف جنت مانگ لو ! اُس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے ساتھ تکرار کرتے رہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی کہ تم اس عورت کو یہ چیز دے دو ! کیونکہ اس سے تمہیں کوئی کمی نہیں آئے گی ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اُسے یہ چیز دیدی ، اس عورت نے قبر کے بارے میں ان کو بتایا انہوں نے ہڈیاں نکالیں اور دریا کو پار کر گئے ۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17350
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ; فَإِنَّهُ سِرُّ الْجَنَّةِ يَقُولُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ لِرَاعِيهِ ، عَلَيْكَ بِسِرِّ الْوَادِي ; فَإِنَّهُ أَمْرَعُهُ وَأَعْشَبُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو ! تو اُس سے جنت الفردوس مانگو ! کیونکہ وہ جنت کا ” سر “ ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے چرواہے سے یہ کہتا ہے : کہ تم پر یہ لازم ہے کہ تم وادی کے ” سر “ والے حصے میں رہو ! کیونکہ وہ زیادہ موزوں ہوتا ہے ، اور وہاں چارہ زیادہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (254/18)»
حدیث نمبر: 17351
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا اسْتَعَاذَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ سَبْعًا إِلَّا قَالَتِ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنِّي ، وَلَا سَأَلَ الْجَنَّةَ سَبْعًا إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَسْكِنْهُ إِيَّايَ " ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص جہنم سے سات مرتبہ پناہ مانگتا ہے ، تو جہنم یہ کہتی ہے : اے اللہ ! تو اس کو مجھ سے پناہ دیدے ، جب کوئی شخص جنت کا سات مرتبہ سوال کرتا ہے ، تو جنت یہ کہتی ہے : اے اللہ ! تو اس کو مجھ میں ٹھہرانا ۔ “ راوی کہتے ہیں : یا شاید اس کی مانند کوئی اور لفظ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17351
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3175) اخرجه أبو يعلى فى المسند (6192)»