حدیث نمبر: 17347
عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ - وَكَانَ مُسْتَجَابًا - : أَنَّهُ أُمِّرَ عَلَى جَيْشٍ فَدَرِبَ الدُّرُوبِ ، فَلَمَّا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَالَ لِلنَّاسِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَجْتَمِعُ مَلَأٌ فَيَدْعُو بَعْضُهُمْ وَيُؤَمِّنُ سَائِرُهُمْ ، إِلَّا أَجَابَهُمُ اللَّهُ " . ¤ ثُمَّ إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا ، وَاجْعَلْ أُجُورَنَا أُجُورَ الشُّهَدَاءِ ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِذْ نَزَلَ الْهَنْبَاطُ أَمِيرُ الْعَدُوِّ ، فَدَخَلَ عَلَى حَبِيبٍ سُرَادِقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : الْهَنْبَاطُ بِالرُّومِيَّةِ : صَاحِبُ الْجَيْشِ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
ابوہبیرہ نے سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ، جو مستجاب الدعوات تھے ، انہیں ایک لشکر کا امیر مقرر کیا گیا ، جب وہ دشمن کے مدمقابل آئے ، تو انہوں نے لوگوں سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کچھ لوگ اکٹھے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک دعا کرے اور باقی سب آمین کہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو قبول کرتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد یہ کہا: اے اللہ ! ہمارے خونوں کو بہائے جانے سے بچا لے ، اور ہمارے اجور کو شہداء کا اجر بنا دے ، ابھی وہ دعا کر رہے تھے کہ اسی دوران دشمن کا امیر ہنباط نیچے اترا اور اس کے محافظ سیدنا حبیب پر داخل ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : لفظ ” ہنباط “ کا مطلب رومی زبان میں لشکر کا امیر ہوتا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : لفظ ” ہنباط “ کا مطلب رومی زبان میں لشکر کا امیر ہوتا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔