کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دعا میں اشارہ کرنا اور دونوں ہاتھ بلند کرنا
حدیث نمبر: 17323
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلَا غَيْرِهِ ، مَا كَانَ يَدْعُو إِلَّا يَضَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ إِشَارَةً . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّرَقِيُّ الْمَدَنِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَجُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ، یا اُس کے علاوہ دعا کرتے ہوئے ، کبھی دونوں ہاتھ اوپر کیے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں کے مدمقابل رکھتے تھے اور انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق زرقی مدنی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام مالک اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17323
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6023) اخرجه احمد فى المسند (337/5)»
حدیث نمبر: 17324
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَعْدٍ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْنِ فَقَالَ : " أَحِّدْ يَا سَعْدُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَلَمْ يُسَمِّ تَابِعِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو دعا کرتے ہوئے دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سعد ! ایک کے ذریعے کرو !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17324
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (183/23)»
حدیث نمبر: 17325
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ رَجُلًا يَدْعُو بِإِصْبَعَيْهِ جَمِيعًا ; فَنَهَاهُ وَقَالَ : " ادْعُ بِإِحْدَاهُمَا ، بِالْيَمِينِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ملاحظہ کیا ، جو دونوں انگلیوں کے ذریعے دعا کر رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا : ان دونوں میں سے ایک کے ذریعے دعا کرو ! دائیں والی کے ذریعے کرو !
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17325
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (717)»
حدیث نمبر: 17326
وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَجُلٍ يُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ فَقَالَ : " أْحِدْ أَحِّدْ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر رہا تھا ، تو آپ نے فرمایا : ایک کے ذریعے کرو ! ایک کے ذریعے کرو ! “ ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17326
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17327
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ ، فَقَبَضَ إِحْدَى إِصْبَعَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک شخص کو دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے دیکھا ، تو اس کی دونوں میں سے ایک انگلی کو بند کر دیا اور فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ ” ایک “ معبود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17327
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17328
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ ، مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذَا ، يَعْنِي الصَّدْرَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تمہارا اپنے ہاتھوں کو بلند کرنا بدعت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ نہیں کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں : اُن کی مراد یہ ہے کہ سینے سے اوپر نہیں لے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17328
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17329
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاقِفًا بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَجَعَلَ يَدَيْهِ حِيَالَ ثَنْدُوَتِهِ ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے اور آپ اس طرح دعا کر رہے تھے ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور دونوں ہاتھ اپنے ” ثندوہ “ ۔ ( اس کا مطلب سینہ بھی ہوتا ہے اور ناک کا کنارہ بھی ہوتا ہے ، اور جسم کا اگلا حصہ بھی ہوتا ہے ، شاید یہاں مراد سینہ ہے ) ۔ کے مدمقابل رکھے ، اور ہتھیلیاں زمین کی طرف رکھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17329
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17330
وَفِي رِوَايَةٍ : وَجَعَلَ ظَهْرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ ، وَرَفَعَهُمَا فَوْقَ ثَنْدُوَتِهِ ، وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْكِبَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انہوں نے ہتھیلیوں کا اوپری حصہ ، چہرے کی سمت میں رکھا ، اور دونوں ہاتھ ” ثندوہ “ ( شاید یہاں مراد سینہ ہے ) سے بلند کیے ، لیکن وہ کندھوں سے نیچے تھے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17330
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17331
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو بِعَرَفَةَ هَكَذَا ، يَعْنِي بِظَاهِرِ كَفَّيْهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں اس طرح دعا کر رہے تھے ۔ “ ( راوی کہتے ہیں : ) یعنی ہتھیلی کی پشت کے ذریعے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (14/3)»
حدیث نمبر: 17332
وَفِي رِوَايَةٍ : وَوَصَفَ عُثْمَانُ رَفْعَ حَمَّادٍ يَدَيْهِ وَكَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ ، رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ ، وَفِيهَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عثمان نامی راوی نے یہ کر کے دکھایا ، حماد نامی راوی نے دونوں ہاتھ بلند کیے تھے اور ان کی دونوں ہتھیلیاں زمین کی طرف تھیں ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، ان کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17332
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17333
وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا سَأَلَ جَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ إِلَيْهِ ، وَإِذَا اسْتَعَاذَ جَعَلَ ظَاهِرَهُمَا إِلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خلاد بن سائب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ مانگتے تھے ، تو اپنی ہتھیلی اپنی طرف رکھتے تھے اور جب کسی چیز سے پناہ مانگتے تھے ، تو ہاتھ کا بیرونی حصہ ، اپنی طرف رکھتے تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17333
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل،
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (56/4)»
حدیث نمبر: 17334
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو بِعَرَفَةَ وَيَدَاهُ إِلَى صَدْرِهِ ، كَاسْتِطْعَامِ الْمِسْكِينِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں دعا کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ آپ کے سینے کی طرف تھے ، جیسے کوئی مسکین کھانا مانگتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17334
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17335
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو ، حَتَّى إِنِّي لَأَسْأَمُ لَهُ مِمَّا يَرْفَعُهُمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِثَلَاثَةِ أَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے تھے کہ آپ کے اُن کو بلند کرتے ہوئے ، اہتمام کرنے کی وجہ سے ، مجھے بے چینی ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے تین اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان سب کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17335
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (225/6)»
حدیث نمبر: 17336
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَبُو هِلَالٍ صَاحِبُ أَبِي بَرْزَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے دوران دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد ابوہلال ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7440)»
حدیث نمبر: 17337
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے جاتی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن یزید کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3147)»
حدیث نمبر: 17338
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ بِعَرَفَةَ يَدْعُو ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا الِابْتِهَالُ ، ثُمَّ صَاحَتِ النَّاقَةُ فَفَتَحَ إِحْدَى يَدَيْهِ ، فَأَخَذَهَا ، وَهُوَ رَافِعٌ الْأُخْرَى ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَسَقَطَ زِمَامُ النَّاقَةِ ، فَتَنَاوَلَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَزَادَ : هَذَا الِابْتِهَالُ وَالتَّضَرُّعُ . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الصُّوفِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنْسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ میں دعا کرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار ہے ، اسی دوران اونٹنی نے آواز نکالی ، تو آپ نے دونوں میں سے ایک ہاتھ کو کھولا اور اس کے ذریعے اونٹنی کو پکڑا ، اور آپ نے اس دوران دوسرا ہاتھ اُٹھایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کئے ہوئے تھے ، اونٹنی کی لگام گر گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا اور دونوں ہاتھ بلند کر لیے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہ عاجزی اور گریہ و زاری کی وجہ سے تھا ۔ “ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3148)»
حدیث نمبر: 17339
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ وَمَعَهُ نَفَرٌ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْقَرْنِ دُونَ الْمُرَيْطَا ، رَافِعًا يَدَيْهِ ، مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ : أَبُو الْخَرِيفِ السُّوَائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ افراد کے ہمراہ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ آپ ” مریطا “ سے پہلے ” قرن “ کے پاس آ کر ٹھہر گئے ، آپ نے دونوں ہاتھ بلند کئے ہوئے تھے ، آپ کا رخ قبلہ کی طرف تھا اور آپ دعا کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن سعید ابوخریف سوائی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17340
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ ، يَسْتَحْيِي أَنْ يَرْفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا ، لَا خَيْرَ فِيهِمَا ، فَإِذَا رَفَعَ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ فَلْيَقُلْ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ إِذَا رَدَّ يَدَيْهِ فَلْيُفْرَغِ الْخَيْرُ عَلَى وَجْهِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک تمہارا پروردگار حیا والا ہے ، مہربان ہے ، وہ اس بات سے حیا کرتا ہے کہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور وہ ( پروردگار ) اُن دونوں کو نامراد واپس کر دے کہ اُن دونوں میں کوئی بھلائی نہ ہو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو جب تم میں سے کوئی ایک شخص دونوں ہاتھ اٹھائے تو اسے یہ کہنا چاہیے :
«يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ” اے زندہ اور بذات خود قائم ذات ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو معبود ہے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے !“
یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے ، پھر جب وہ دونوں ہاتھ یعنی دعا کے بعد نیچے کرے ، تو اس بھلائی کو اپنے چہرے پر ڈال لے ( یعنی دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جارود بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17340
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13557)»
حدیث نمبر: 17341
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَفَعَ قَوْمٌ أَكُفَّهُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَسْأَلُونَهُ شَيْئًا ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَضَعَ فِي أَيْدِيهِمُ الَّذِي سَأَلُوا " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي السُّنَنِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھا کر اس سے کوئی چیز مانگتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ حق ہے کہ وہ اُن کے ہاتھوں میں وہ چیز ڈال دے ، جو انہوں نے مانگی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” سنن “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17341
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6142)»
حدیث نمبر: 17342
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الضِّيقَ فِي مَسْكَنِهِ ، فَقَالَ : " ارْفَعْ يَدَيْكَ إِلَى السَّمَاءِ ، وَسَلِ اللَّهَ السَّعَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھر کے تنگ ہونے کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے اللہ تعالیٰ سے گنجائش مانگو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17342
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حدیث
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3842 و 3843)»
حدیث نمبر: 17343
وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَعَا رَفَعَ رَاحَتَيْهِ إِلَى وَجْهِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
خلاد بن سائب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تھے تو دونوں ہتھیلیاں چہرے کی طرف بلند کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن ہاشم بن عتبہ ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17343
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6625)»
حدیث نمبر: 17344
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاقِفًا بِعَرَفَةَ ، مُتَأَبِّطًا رِدَاءَهُ ، رَافِعًا يَدَيْهِ ، لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ ، وَعَضَلَتَاهُ تُرْعِدَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے اور آپ نے اپنی چادر بغل میں سے گزاری ہوئی تھی ، آپ نے دونوں ہاتھ بلند کئے ہوئے تھے ، لیکن وہ آپ کے سر سے اوپر نہیں جا رہے تھے اور آپ کے عضلات کانپ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17344
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2386)»
حدیث نمبر: 17345
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ [ أَبِي ] يَحْيَى قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَرَأَى رَجُلًا رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَتَرْجَمَ لَهُ فَقَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن ابویحیی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، انہوں نے ایک شخص کو دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کرتے ہوئے دیکھا ، وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ایسا کر رہا تھا ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں کو اُس وقت تک بلند نہیں کرتے تھے ، جب تک آپ نماز سے فارغ نہیں ہو جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ان کے حالات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: ہے : محمد بن ابویحیی اسلمی نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17346
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ ، وَلَا تَسَلُوهُ بِظُهُورِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمَّارِ بْنِ خَالِدٍ الْوَاسِطِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنی ہتھیلیوں کے ذریعے ، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو ! اُن کی پشت کے ذریعے اُس سے نہ مانگو ( یعنی دعا کرتے ہوئے ہتھیلی اوپر کی طرف رکھو ، ہتھیلی کی پشت اوپر کی طرف نہ رکھو ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمار بن خالد واسطی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17346
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح