کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ ، اور اس کے ساتھ کیا شامل کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 17303
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ ، وَرَحْمَتَكَ ، وَبَرَكَاتِكَ ، عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اس بات کا علم حاصل ہو چکا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ؟ تو ( اب آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : ” اے اللہ ! تو اپنا درود ، اپنی رحمت اور اپنی برکتیں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر نازل فرما ، جس طرح تو نے انہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر نازل کیا ، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (353/5)»
حدیث نمبر: 17304
وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور یہ پڑھے : ” اے اللہ ! تو انہیں قیامت کے دن اپنی بارگاہ میں قرب کے مقام پر ٹھہرانا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اُس شخص کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کی اسانید حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3157) اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (4480)»
حدیث نمبر: 17305
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : جَزَى اللَّهُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَا هُوَ أَهْلُهُ ، أَتْعَبَ سَبْعِينَ كَاتِبًا أَلْفَ صَبَاحٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھے : ” اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ جزا عطا کرے جس کے وہ اہل ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ایسا شخص ” ستر “ لکھنے والوں کو ” ایک ہزار دن “ کے لیے مصروف کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17305
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11509)»