کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
حدیث نمبر: 17278
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : كُلُّ دُعَاءٍ مَحْجُوبٌ حَتَّى يُصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآلِ مُحَمَّدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْبَابِ قَبْلَ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ حَدِيثٌ جَيِّدٌ ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ ، وَحَدِيثُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ہر دعاء محجوب رہتی ہے ، جب تک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نہ بھیجا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس سے پہلے باب کے آغاز میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کر چکی ہے اور وہ عمدہ حدیث ہے ، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ احادیث بھی گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس سے پہلے باب کے آغاز میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کر چکی ہے اور وہ عمدہ حدیث ہے ، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ احادیث بھی گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17279
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَعَلْتُ صَلَاتِي كُلَّهَا عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " إِذًا يَكْفِيكَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مَا هَمَّكَ مِنْ دُنْيَاكَ وَآخِرَتِكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَلَفْظُهُ : " إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ ، وَيُغْفَرُ ذَنْبُكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں تمام تر نفل عبادت کے دوران ، آپ پر درود بھیجتا رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس صورت میں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کی تمام پریشانیوں کے حوالے سے تمہاری کفایت کر دے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” اس صورت میں تمہاری پریشانی کی کفایت ہو جائے گی ، اور تمہارے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” اس صورت میں تمہاری پریشانی کی کفایت ہو جائے گی ، اور تمہارے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17280
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْعَلُ شَطْرَ صَلَاتِي دُعَاءً لَكَ ، قَالَ : " مَا شِئْتَ " . قَالَ : فَأَجْعَلُ ثُلُثَ صَلَاتِي دُعَاءً لَكَ ، قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَأَجْعَلُ صَلَاتِي كُلَّهَا دُعَاءً لَكَ ، قَالَ : " إِذًا يَكْفِيكَ هَمَّ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی نفلی عبادت کا نصف حصہ آپ کے لئے دعا کرنے کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو تم چاہو ، اس نے دریافت کیا : کیا میں ایک تہائی حصہ آپ کے لیے دعا کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اس نے عرض کی : کیا میں اپنی پوری نفلی عبادت ، آپ کے لیے دعا کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” ایسی صورت میں وہ تمہاری دنیاوی اور اُخروی پریشانیوں کے لئے کفایت کر جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17281
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْعَلُ ثُلُثَ صَلَاتِي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ إِنْ شِئْتَ " . قَالَ : الثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَصَلَاتِي كُلَّهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذًا يَكْفِيكَ اللَّهُ مَا هَمَّكَ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكَ وَآخِرَتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن یحیی بن حبان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی نفل عبادت کا ایک تہائی حصہ آپ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اگر تم چاہو ، اس نے دریافت کیا : دو تہائی کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : میں پوری نفل عبادت ( آپ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دوں ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ تمہارے دنیاوی اور اُخروی معاملات کی پریشانیوں ( یا ضروریات کے حوالے سے ) تمہاری کفایت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17282
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كَتَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ " . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ، اُس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کرتا ہے ۔ “ یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ربعی بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حدیث نمبر: 17283
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحِدَةً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اس شخص پر 70 مرتبہ رحمتیں نازل کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17284
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا فِي رَحَبَةِ الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَارِجًا مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي الْمَقْبَرَةَ ، فَلَبِثْتُ شَيْئًا ، ثُمَّ خَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ حَائِطًا مِنَ الْأَسْوَافِ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَسَجَدَ سَجْدَةً فَأَطَالَ السُّجُودَ فِيهَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبَادَيْتُ لَهُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، سَجَدْتَ سَجْدَةً أَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ تَوَفَّاكَ مِنْ طُولِهَا ، فَقَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ بَشَّرَنِي : أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيَّ سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد کے صحن میں کھڑا ہوا تھا ، اسی دوران میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس دروازے سے باہر تشریف لے گئے ہیں ، جو قبرستان کی طرف ہے ، میں پہلے تھوڑی دیر رکا رہا ، پھر میں آپ کے پیچھے نکل کھڑا ہوا ، میں نے آپ کو پایا کہ آپ ” اسواف “ میں موجود ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ نے دو رکعات ادا کیں ، آپ اس دوران سجدے میں چلے گئے اور آپ نے اس دوران طویل سجدہ کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں آپ کے سامنے آیا میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے ایسا سجدہ کیا کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات نہ دے دی ہو ، کیونکہ آپ کا سجدہ بہت طویل تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھے یہ خوشخبری دی ہے کہ جو شخص مجھ پر درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر رحمت نازل کرے گا اور جو شخص مجھ پر سلام بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر سلامتی نازل کرے گا ۔ “
حدیث نمبر: 17285
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ : كَانَ لَا يُفَارِقُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَّا خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا يَنُوبُهُ مِنْ حَوَائِجِهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ وَقَدْ خَرَجَ ، فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَسْوَافِ ، فَصَلَّى فَسَجَدَ ، وَأَطَالَ السُّجُودَ ، قُلْتُ : قَبَضَ اللَّهُ رُوحَهُ ، قَالَ : وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَدَعَانِي فَقَالَ : " مَا لَكَ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلْتَ السُّجُودَ ، قُلْتُ : قَبَضَ اللَّهُ رُوحَ رَسُولِهِ لَا أَرَاهُ أَبَدًا ، قَالَ : " سَجَدْتُ لِرَبِّي شُكْرًا فِيمَا أَبْلَانِي فِي أُمَّتِي : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً مِنْ أُمَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَى عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ " . رَوَاهُمَا أَبُو يَعْلَى ، وَفِي الْأُولَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي الثَّانِيَةِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ رِوَايَةِ أَحْمَدَ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت جو اسی صحابی کے حوالے سے منقول ہے ، اس میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم میں سے پانچ یا چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوتے تھے ( یعنی اتنے افراد ہر وقت آپ کے پاس موجود رہتے ) تاکہ دن یا رات میں جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ضرورت درپیش ہو تو وہ کام آ سکیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ باہر تشریف لائے تھے ، میں آپ کے پیچھے چل پڑا ، آپ ” اسواف “ کے مقام پر موجود ایک باغ میں داخل ہوئے ، وہاں آپ نے نماز ادا کی وہاں آپ نے سجدہ کرتے ہوئے سجدے کو طول دیا ، تو میں نے یہ سوچا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور مجھے بلایا ، آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے طویل سجدہ کیا تھا تو میں نے یہ سوچا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی روح کو قبض کر لیا ہے ، اور اب میں آپ کو کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا تھا ، اس چیز کی وجہ سے جو اُس نے مجھے میری امت کے بارے میں عطا کی ہے ، میری اُمت کا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ، اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے ۔ “ یہ دونوں روایات امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہیں ، پہلی روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سجدہ شکر سے متعلق باب میں امام أحمد کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 17286
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ تَبْرُقُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْتُكَ أَطْيَبَ نَفْسًا ، وَلَا أَظْهَرَ بِشْرًا ، مِنْ يَوْمِكَ هَذَا ، قَالَ : " وَمَا لِي لَا تَطِيبُ نَفْسِي ، وَيَظْهَرُ بِشْرِي ، وَإِنَّمَا فَارَقَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - السَّاعَةَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ صَلَاةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ ، وَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ مِثْلَ مَا قَالَ لَكَ ، قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، وَمَا ذَاكَ الْمَلَكُ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَكَّلَ بِكَ مَلَكًا مِنْ لَدُنْ خَلَقَكَ إِلَى أَنْ يَبْعَثَكَ ، لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا قَالَ : وَأَنْتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کا چہرہ مبارک دمک رہا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو کبھی آج کے دن سے زیادہ خوشگوار مزاج اور چہرے کے خوشگوار تاثرات کے ساتھ نہیں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا مزاج کیوں خوشگوار نہ ہو ؟ اور اس کے اثرات چہرے سے کیوں ظاہر نہ ہوں ؟ ابھی جبرائیل میرے پاس سے اُٹھ کر گئے ہیں ، انہوں نے یہ بتایا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کی امت کا جو فرد آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لے گا اور اس شخص کی دس برائیاں مٹا دے گا ، اور اس کی وجہ سے اس شخص کے دس درجات بلند کر دے گا ، اور فرشتہ بھی اس شخص کے لیے اس کی مانند کلمات کہے گا ، جو اس نے آپ کے لئے کہے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے کہا: اے جبرائیل ! وہ فرشتہ کون ہو گا ؟ جبرائیل نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آپ کی تخلیق کے دن سے ، آپ کے ( قیامت کے ) دن ( دوبارہ زندہ ہونے ) تک کے لیے ، ایک فرشتہ مقرر کیا ہے ، آپ کی اُمت کا جو بھی فرد آپ پر درود بھیجے گا ، تو وہ فرشتہ یہ کہے گا : اللہ تعالیٰ تم پر بھی رحمت نازل کرے ۔ “
حدیث نمبر: 17287
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَرَدَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ مِثْلَ قَوْلِهِ ، وَعُرِضَتْ عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ النَّسَائِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْوَلِيدِ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي الثَّانِيَةِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . وَرُوِيَ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ اُس کے پڑھے ہوئے کی مانند اسے جواب دیتا ہے ، اور وہ قیامت کے دن اُس کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن ولید طبرانی ہے ، اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمر نصیبی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن ولید طبرانی ہے ، اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمر نصیبی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17288
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، فَلَمْ يَتْبَعْهُ غَيْرُ عُمَرَ وَمَعَهُ فَخَّارَةُ مَاءٍ ، فَوَجَدَهُ سَاجِدًا قَالَ : فَتَنَحَّى عَنْهُ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتَ ( يَا عُمَرُ ) حِينَ تَنَحَّيْتَ عَنِّي " . فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، وَرَفَعَ لَهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی آپ کے پیچھے نہیں گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک برتن تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پایا ، تو وہ ذرا پیچھے ہٹ کے کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا تو آپ نے فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا کہ تم مجھ سے پیچھے ہٹ گئے ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے بتایا : ” آپ کی امت کا جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اُس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا اور اس کے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) دس درجات بلند کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17289
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : " مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنی طرف سے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُس پر دس رحمتیں نازل کرے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اپنی طرف سے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اپنی طرف سے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17290
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرَ صَلَوَاتٍ ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَا صَلَّى عَلَيَّ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي صَادِقًا بِهَا فِي قَلْبِ نَفْسِهِ " . وَزَادَ : " وَكَتَبَ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنی طرف سے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا ، اور اس کے دس گناہ دور کر دے گا ، اور اس کے دس درجات بلند کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میری امت کا جو بھی فرد سچے دل کے ساتھ مجھ پر درود بھیجے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میری امت کا جو بھی فرد سچے دل کے ساتھ مجھ پر درود بھیجے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لے گا ۔ “
حدیث نمبر: 17291
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ بِقَبْرِي مَلَكًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَلَائِقِ ، فَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَبْلَغَنِي بِاسْمِهِ ، وَاسْمِ أَبِيهِ ، هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَدْ صَلَّى عَلَيْكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ الْحِمْيَرِيِّ ، وَاسْمُهُ عِمْرَانُ ، يَأْتِي الْكَلَامُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ ، وَنُعَيْمُ بْنُ ضَمْضَمٍ ضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتے کو مقرر کیا ہے ، اور اسے تمام مخلوق کی آوازیں سننے کی صلاحیت دی ہے ، قیامت کے دن تک جو بھی فرد مجھ پر درود بھیجے گا تو وہ ( فرشتہ ) اس شخص کے نام اور اس کے باپ کے نام کے ہمراہ وہ درود مجھ تک پہنچا دے گا کہ فلاں بن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن جمیری ہے اور اس کا نام عمران ہے ، اس کے بارے میں کلام بعد میں آئے گا ، اس میں ایک راوی نعیم بن ضمضم ہے ، جسے بعض حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن جمیری ہے اور اس کا نام عمران ہے ، اس کے بارے میں کلام بعد میں آئے گا ، اس میں ایک راوی نعیم بن ضمضم ہے ، جسے بعض حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17292
وَعَنِ ابْنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عَمَّارٌ : يَا ابْنَ الْحِمْيَرِيِّ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ حَبِيبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَمَّارُ ، إِنَّ لِلَّهِ مَلَكًا أَعْطَاهُ أَسْمَاءَ الْخَلَائِقِ كُلَّهَا ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَبْرِي ، إِذَا مُتُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي يُصَلِّي عَلَيَّ صَلَاةً إِلَّا أَسْمَاهُ بِاسْمِهِ ، وَاسْمِ أَبِيهِ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلَّى عَلَيْكَ فُلَانٌ ، فَيُصَلِّي الرَّبُّ عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَنُعَيْمُ بْنُ ضَمْضَمٍ ضَعِيفٌ ، وَابْنُ الْحِمْيَرِيِّ اسْمُهُ عِمْرَانُ . قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ : لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن حمیری بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے ابن حمیری ! کیا میں تمہیں اپنے محبوب کے حوالے سے حدیث بیان کروں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جسے اس نے ساری مخلوق کی بات سننے کی صلاحیت عطا کی ہے ، جب میں مر جاؤں گا تو وہ قیامت کے دن تک میری قبر کے پاس کھڑا رہے گا ، اور میری امت کا جو بھی فرد مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، تو وہ فرشتہ اس شخص کا اور اس شخص کے باپ کا نام لے کر یہ کہے گا : اے سیدنا محمد ! فلاں شخص نے آپ پر اس طرح درود بھیجا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر پروردگار اس شخص پر ایک کے بدلے میں دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور نعیم بن ضمضم نامی راوی ضعیف ہے اور ابن حمیری نامی راوی کا نام عمران ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے “ ” میزان الاعتدال “ کے مصنف کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور نعیم بن ضمضم نامی راوی ضعیف ہے اور ابن حمیری نامی راوی کا نام عمران ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے “ ” میزان الاعتدال “ کے مصنف کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17293
وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : " وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيَّ عَبْدٌ صَلَاةً إِلَّا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے یہ چیز مانگی کہ جو بندہ مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر اس کا دس گنا ( یعنی اس پر دس مرتبہ ) رحمت نازل کرے ۔ “
حدیث نمبر: 17294
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، بِهَا مَلَكٌ مُوَكَّلٌ حَتَّى يُبَلِّغَنِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ، اس درود کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے ، جو اس درود کو مجھ تک پہنچا دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی اعمیٰ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی اعمیٰ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17295
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ ; فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم جہاں کہیں بھی ہو ، تم مجھ پر درود بھیجو ! کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ابوزینب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ابوزینب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17296
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَمَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : ” جو بھی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے ، یہاں تک کہ میں اُسے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید اسکندرانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی مہدی بن جعفر ہے جو ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید اسکندرانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی مہدی بن جعفر ہے جو ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17297
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً بَلَغَتْنِي صَلَاتُهُ ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ ، وَكُتِبَ لَهُ سِوَى ذَلِكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے ، تو اس کا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے ، اور میں اُس کے لئے دعائے رحمت کرتا ہوں ، اور اس کے علاوہ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17298
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ عَشْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ مِائَةً ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِائَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النِّفَاقِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَبَرَاءَةً مِنَ النَّارِ ، وَأَنْزَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الشُّهَدَاءِ " . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ النَّسَائِيِّ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ شِبْلٍ الْهُجَيْمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ، اور جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر 100 رحمتیں نازل کرتا ہے ، اور جو شخص مجھ پر ایک سو مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان منافقت سے بری ہونا اور جہنم سے بری ہونا لکھ دیتا ہے ، اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو شہداء کے ساتھ ٹھہرائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن سالم بن شبل ہجیمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن سالم بن شبل ہجیمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17299
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا " . قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، میں اُس کے لئے دس مرتبہ دعائے رحمت کرتا ہوں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اس پر رحمت نازل کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اس پر رحمت نازل کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17300
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلْيُصَلِّ عَلَيَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اُسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17301
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17302
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، وَثَّقَهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان قاری ہے ، جسے وکیع اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان قاری ہے ، جسے وکیع اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔