کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ ، اور اس کے ساتھ کیا شامل کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 17306
وَعَنْ سَلَامَةَ الْكِنْدِيِّ قَالَ : كَانَ عَلَيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُعَلِّمُ النَّاسَ الصَّلَاةَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : اللَّهُمَّ دَاحِيَ الْمَدْحُوَّاتِ ، وَبَارِئَ الْمَسْمُوكَاتِ ، وَجَبَّارَ الْقُلُوبِ عَلَى فِطْرَتِهَا ، شِقِيِّهَا وَسَعِيدِهَا ، اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِكَ ، وَنَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ ، وَرَأْفَةَ تَحِيَّتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ ، وَالْفَاتِحِ لِمَا أُغْلِقَ ، وَالْمُعِينِ عَلَى الْحَقِّ ( بِالْحَقِّ ) ، وَالدَّامِغِ جَيْشَاتِ الْأَبَاطِيلِ ، كَمَا حَمَلَ فَاضْطَلَعَ بِأَمْرِكَ لِطَاعَتِكَ ، مُسْتَوْفِزًا فِي مَرْضَاتِكَ بِغَيْرِ نَكَلٍ عَنْ قَدَمٍ ، وَلَا وَهَنٍ فِي عَزْمٍ ، دَاعِيًا لِوَحْيِكَ ، حَافِظًا لِعَهْدِكَ ، مَاضِيًا عَلَى نَفَاذِ أَمْرِكَ ، حَتَّى أَوْرَى قَبَسًا لِقَابِسٍ ، بِهِ هُدِيَتِ الْقُلُوبُ بَعْدَ خَوَضَانِ الْفِتَنِ وَالْإِثْمِ ، بِمُوَضِّحَاتِ الْأَعْلَامِ ، وَمُنِيرَاتِ الْإِسْلَامِ ، وَنَائِرَاتِ الْأَحْكَامِ ، فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ ، وَخَازِنُ عِلْمِكَ الْمَخْزُونِ ، وَشَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ ، وَبَعْثَتُكَ لَهُ نِعْمَةٌ ، وَرَسُولُكَ بِالْحَقِّ رَحْمَةٌ . اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ مَفْسَحًا فِي عَدْلِكَ ، وَاجْزِهِ مُضَاعَفَةَ الْخَيْرِ مِنْ فَضْلِكَ ، مُهَنَّئَاتٍ غَيْرَ مُكَدَّرَاتٍ ، مِنْ فَوْزِ ثَوَابِكَ الْمَعْلُولِ ، وَجَزِيلِ عَطَائِكَ الْمَحْلُولِ . اللَّهُمَّ عَلِّ عَلَى بِنَاءِ النَّاسِ بِنَاهُ ، وَأَكْرِمْ مَثْوَاهُ لَدَيْكَ وَنُزُلَهُ ، وَأَتْمِمْ لَهُ نُورَهُ ، وَاجْزِهِ مِنِ ابْتِعَاثِكَ لَهُ ، مَقْبُولَ الشَّهَادَةِ مَرْضِيَّ الْمَقَالَةِ ، ذَا مَنْطِقٍ وَعَدْلٍ ، وَكَلَامٍ فَصْلٍ ، وَحُجَّةٍ ، وَبُرْهَانٍ عَظِيمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَسَلَامَةُ الْكِنْدِيُّ ، رِوَايَتُهُ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سلامہ کندی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے کلمات تعلیم دیا کرتے تھے اور یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! اے زمینوں کو بچھانے والے ! اے آسمانوں کو پیدا کرنے والے ، اے دلوں ۔ وہ بدنصیب ہوں یا خوش نصیب ہوں ۔ اُن کی فطرتوں پر غلبہ رکھنے والے ! تو اپنا معزز درود اور اپنی بڑھنے والی برکتیں اور اپنا مہربانی والا فضل ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرما ، جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، جو پہلے گزر گئے وہ اُن کے لیے مہر ہیں ( یا وہ پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی بعثت کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ) اور جو ” مغلق “ ( یعنی بند ) ہے اُس کو کھولنے والے ہیں ، وہ حق کے ذریعے حق کی مدد کرنے والے ہیں ، باطل کی بلندی پر غلبہ پانے والے ہیں ، اُنہوں نے تیرے حکم کے تحت تیری فرمانبرداری کو اختیار کیا ، تاکہ تیری رضامندی حاصل کر سکیں ، اور اس بارے میں اُن کے قدم لڑکھڑائے نہیں اور نہ اُن کے عزم میں کوئی کمزوری آئی ، وہ تیری وحی کی طرف دعوت دینے والے ہیں ، تیرے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں اور تیرے حکم کے نفاذ کے بارے میں کوشش کرنے والے ہیں ، یہاں تک کہ انہوں نے ( ہدایت کے ) نور کو حاصل کرنے کے لیے روشنی کا بندوبست کر دیا ، فتنوں اور گناہوں کی کثرت کے بعد انہی کے ذریعے دلوں کو ہدایت نصیب ہوئی ، جو ( ہدایت ) واضح نشانات ، اسلام کی روشنی اور احکام کی عمدگی کے ہمراہ تھی ، تو وہ تیرے ( مقرر کردہ ) امین ہیں ( جو غلطی سے ) مامون ( یعنی محفوظ ) ہیں ، اور وہ تیرے پوشیدہ علم کے خزانچی ( یعنی نگران ) ہیں ، اور قیامت کے دن تیرے گواہ ہوں گے ، تیرا انہیں مبعوث کرنا نعمت ہے ، وہ حق کے ہمراہ تیرے رسول ہیں ، جو رحمت ہیں ۔ اے اللہ ! تو اپنے عدل میں انہیں کشادہ جگہ نصیب کرنا اور اپنے فضل کے ذریعے انہیں بھلائی کا کئی گنا بدلہ عطا کرنا ، جس میں تہنیت ہو ، کدورت نہ ہو ، جس کا تعلق تیرے مقرر کردہ ثواب کی کامیابی سے ہو ، اور تیری زبردست عطا ہو ۔ اے اللہ ! اُن کی عمارت کو لوگوں کی عمارت سے بلند رکھنا ، اور اپنی بارگاہ میں اُن کی عزت افزائی اور مہمان نوازی کرنا ، ان کے نور کو مکمل کرنا ، اور تو نے جو انہیں مبعوث کیا ہے ، اس کا انہیں یہ بدلہ دینا کہ ان کی گواہی مقبول ہو ، ان کی بات پسندیدہ ہو ، وہ عدل والی بات والے ، فصل والے کلام والے ( یعنی قول فیصل والے ) حجت اور عظیم برہان والے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سلامہ کندی کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ” مرسل “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سلامہ کندی کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ” مرسل “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔