کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا
حدیث نمبر: 17206
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، لَا يُحْسِنُ عَبْدٌ بِاللَّهِ الظَّنَّ إِلَّا أَعْطَاهُ ظَنَّهُ ، وَذَاكَ بِأَنَّ الْخَيْرَ فِي يَدِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب بندہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گمان کے مطابق اسے عطا کرتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8772)»
حدیث نمبر: 17207
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُحَنَّسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي حُسْنِ الظَّنِّ فِي الْجَنَائِزِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحنس بن ابراہیم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس سے پہلے کتاب الجنائز میں اچھا گمان رکھنے کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (416/19)»