کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مسلمان کی دعا کا قبول ہونا
حدیث نمبر: 17208
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا ، إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَا لَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان مانگتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، یا تو وہ چیز اُسے مل جاتی ہے ، یا پھر اللہ تعالیٰ ( اس کے مطابق اجر و ثواب ) اس شخص کے لیے سنبھال لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (448/2)»
حدیث نمبر: 17209
وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِشَيْءٍ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ فِيهِ ، فَإِمَّا أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهُ وَإِمَّا أَنْ يُكَفِّرَ عَنْهُ ( بِهِ ) مَأْثَمًا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ " . وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو مسلمان کسی چیز کے بارے میں دعا کرتا ہے ، تو اس کے بارے میں اس کی دعا قبول ہوتی ہے ، یا تو اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کر دیتا ہے ، یا پھر اس کے مطابق کوئی گناہ اس شخص سے دور کر دیتا ہے ، جبکہ اس شخص نے کسی گناہ کے کام یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کی ہو ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6134)»
حدیث نمبر: 17210
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ : إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا فِي الْآخِرَةِ ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا " . قَالُوا : إِذًا نُكْثِرُ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْثَرُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان جو دعا کرتا ہے ، جس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کا پہلو نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کا نتیجہ ، تین میں سے ایک صورت میں اسے عطا کر دیتا ہے ، یا تو اس کی دعا کا اثر جلدی ظاہر ہو جاتا ہے ، یا ( اس کا اجر ) اللہ تعالیٰ آخرت کے لیے سنبھال کے رکھ لیتا ہے ، یا پھر اس کے حساب سے ، اُس شخص سے کسی برائی ( یا تکلیف ) کو دور کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : پھر تو ہمیں بکثرت دعا کرنی چاہیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ کثرت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال اور امام بزار کی رو میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1019) اخرجه احمد فى المسند (18/3)»
حدیث نمبر: 17211
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِابْنِ آدَمَ : يَا ابْنَ آدَمَ ، ثَلَاثٌ وَاحِدَةٌ لِي وَوَاحِدَةٌ لَكَ ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، أَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي وَلَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ عَمَلٍ جَزَيْتُكَ بِهِ ، وَإِنْ أَغْفِرْ فَأَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ : فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَالْمَسْأَلَةُ ، وَعَلَيَّ الِاسْتِجَابَةُ وَالْعَطَاءُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ فِي الْإِيمَانِ فِي حَقِّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ابن آدم سے فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تین چیزیں ہیں ، ایک میرے لیے ہے ، ایک تمہارے لئے ہے اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے لیے ہے ، تو تم میری عبادت کرو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراؤ ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے ، جو تمہارے لئے ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم جو بھی عمل کرو گے ، میں تمہیں اس کی جزا دوں گا ، اور میں مغفرت کر دوں گا ، میں مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہوں ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ، تو تمہاری طرف سے دعا کرنا اور مانگنا ہے اور میرے ذمہ دعا قبول کرنا اور عطا کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے حمید بن ربیع کے حوالے سے علی بن عاصم سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی ایک حدیث ، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کتاب الایمان میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6137)»
حدیث نمبر: 17212
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا لَيْسَ فِيهِمَا شَيْءٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرُ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ حیا کرنے والا مہربان ہے ، وہ اس بات سے اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ وہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرے ، اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کو نامراد واپس لوٹا دے کہ ان دونوں میں کچھ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1867)»
حدیث نمبر: 17213
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَسْتَحْيِي مِنْ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ إِذَا كَانَ مُسَدِّدًا لَزُومًا لِلسُّنَّةِ ، أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ فَلَا يُعْطِيَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ بوڑھے مسلمان سے ، جو نیک ہو اور سنت کا پیروکار ہو ، اُس سے اس بات سے حیا کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے ، تو اللہ تعالیٰ اسے عطا نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن راشد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4108)»
حدیث نمبر: 17214
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک روزانہ ، دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات اور دن میں مسلمان کی مستجاب دعا ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17215
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ دَعْوَةً يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارِ الدَّعْوَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان کے مہینے میں ہر دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں ، اور ہر مسلمان کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے کہ اگر وہ اسے مانگ لے ، تو وہ مستجاب ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے دعا والے حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3142)»
حدیث نمبر: 17216
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْطَى أَرْبَعًا أُعْطِيَ أَرْبَعًا ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى : مَنْ أَعْطَى الذِّكْرَ ذَكَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : ( فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ ) . وَمَنْ أَعْطَى الدُّعَاءَ أُعْطِيَ الْإِجَابَةَ ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : ( ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) . وَمَنْ أَعْطَى الشُّكْرَ أُعْطِيَ الزِّيَادَةَ ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : ( لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ) . وَمَنْ أَعْطَى الِاسْتِغْفَارَ أُعْطِيَ الْمَغْفِرَةَ ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : ( اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَحْمُودُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کو چار چیزیں عطا کر دی جائیں ، اُسے چار چیزیں عطا کی جاتی ہیں ، اس کی وضاحت اللہ کی کتاب میں موجود ہے ، جس شخص کو ذکر عطا کیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میرا ذکر کرو ، میں تمہارا ذکر کروں گا ۔ “ جس شخص کو دعا عطا کی جائے اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۔ “ اور جس شخص کو شکر عطا کیا جائے ، اسے مزید ( یعنی نعمت ) عطا کی جاتی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا ۔ “ اور جس شخص کو استغفار عطا کیا جائے ، اُسے مغفرت عطا کی جاتی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو ! بے شک وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمود بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1022)»