کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دعا اس چیز میں فائدہ دیتی ہے ، جو نازل ہو چکی ہو ، اور اس میں بھی ، جو نازل نہ ہوئی ہو
حدیث نمبر: 17191
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ ، وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ ، وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ ; فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ ، بِالدُّعَاءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” تقدیر کے مقابلے میں احتیاط کوئی فائدہ نہیں دیتی ، لیکن دعا اُس چیز میں بھی نفع دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو ، اور اس میں بھی دیتی ہے جو نازل نہ ہوئی ہو ، تو اے اللہ کے بندو ! تم پر دعا کرنا لازم ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، شہر بن حوشب نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور اسماعیل بن عیاش کی ، اہل حجاز سے نقل کردہ روایات ضعیف ہوتی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (103/20) اخرجه احمد فى المسند (234/5)»
حدیث نمبر: 17192
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ ، وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ ، وَإِنَّ الدُّعَاءَ لَيُصَادِفُ الْبَلَاءَ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احتیاط ، تقدیر کے مقابلے میں کام نہیں آتی ہے اور دعا اس بارے میں بھی نفع دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو ، اور اس بارے میں بھی جو نازل نہ ہوئی ہو ، دعا آزمائش کے سامنے آتی ہے اور پھر وہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے جسے أحمد بن صالح مصری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2165)»
حدیث نمبر: 17193
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ ، وَالدُّعَاءُ يَنْفَعُ مَا لَمْ يَنْزِلِ الْقَضَاءُ ، وَإِنَّ الْبَلَاءَ وَالدُّعَاءَ لَيَلْتَقِيَانِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْقَدَرِ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احتیاط ، تقدیر کے مقابلے میں فائدہ نہیں دیتی ہے ، اور دعاء اس صورت میں نفع دیتی ہے جب تقدیر کا حکم نازل نہ ہوا ہو ، آزمائش اور دعا ، آسمان اور زمین کے درمیان ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور پھر یہ قیامت کے دن تک ایک دوسرے سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم بن عراک ہے اور وہ متروک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث تقدیر سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3136)»