کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نیکیوں ( یعنی ان کے اجر و ثواب ) کا کئی گنا ہونا
حدیث نمبر: 17190
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ : يَا ابْنَ عَمِّي ، شَقَّ عَلَيَّ الْعَمَلُ وَالرَّحَى ، فَكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : نَعَمْ . فَأَتَاهُمَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْغَدِ وَهُمَا نَائِمَانِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ ، فَأَدْخَلَ رِجْلَيْهِ بَيْنَهُمَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْعَمَلُ ; فَإِنْ أَمَرْتَ لِي بِخَادِمٍ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أُعَلِّمُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے چچازاد ! گھر کا کام کاج اور چکی پیسنا ، میرے لئے مشکل کا باعث ہوتا ہے ، تو آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کیجیے ! انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اُس وقت لحاف میں سو رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں اُن دونوں کے درمیان داخل کیے ( یعنی آپ نے بھی پاؤں لحاف میں داخل کر لیے ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کام کاج کرنا ، میرے لئے دشواری کا باعث ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال فے کے طور پر جو کچھ عطا کیا ہے ، اگر آپ اُس میں سے مجھے کوئی خادم دینے کا حکم دیدیں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس کی تعلیم نہ دوں ؟ جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے ، تم 33 مرتبہ «سبحان الله» ، 33 مرتبہ« الحمد لله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ! زبان سے پڑھنے کے حوالے سے یہ 100 ہوں گے ، اور میزان میں یہ 1000 ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے : کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ایک نیکی کرے گا ، اُسے اُس کا دس گنا ( اجر و ثواب ) ملے گا ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اس کا دس گنا سے لے کر ) ایک لاکھ گنا تک ( اجر و ثواب ) ملے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔