کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جب آدمی کوئی ایسی چیز دیکھے ، جو اسے اچھی لگے ، تو وہ کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17151
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ مِنْ نِعْمَةٍ فِي أَهْلٍ ، وَلَا مَالٍ ، أَوْ وَلَدٍ فَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَيَرَى فِيهِ آفَةً دُونَ الْمَوْتِ " . وَقَرَأَ : ( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زُرَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اہل خانہ یا مال یا اولاد کی شکل میں کوئی نعمت عطا کرے تو آدمی کو یہ پڑھنا چاہیے : «مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
” جو اللہ نے چاہا ( ویسا ہی ہوا ) اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ایسا شخص موت کے علاوہ اُس چیز میں کوئی آفت نہیں دیکھے گا ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :
﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ [الكهف : 39]
” اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا وہ ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن زرارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
” جو اللہ نے چاہا ( ویسا ہی ہوا ) اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ایسا شخص موت کے علاوہ اُس چیز میں کوئی آفت نہیں دیکھے گا ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :
﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ [الكهف : 39]
” اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا وہ ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن زرارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17152
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِنِعْمَةٍ فَأَرَادَ بَقَاءَهَا ; فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس بندے کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے اور وہ اس نعمت کی بقاء چاہتا ہو تو اسے کثرت کے ساتھ لَا حَوْلَ وَلَا قوة الا بالله پڑھنا چاہیے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی :
﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ [الكهف : 39]
” اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا وہ ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن خالد بن نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ [الكهف : 39]
” اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا وہ ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن خالد بن نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17153
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ، وَمَنْ أَبْطَأَ رِزْقُهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت پہنائے ( یعنی کوئی نعمت عطا کرے ) تو اسے کثرت کے ساتھ الحمد اللہ پڑھنا چاہیے اور جس شخص کے گناہ زیادہ ہوں اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے اور جس کے رزق میں تاخیر ہوتی ہو ، اسے کثرت کے ساتھ «لا حول ولا قوة إلا بالله» پڑھنا چاہیے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔