کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی ، پہلی کا چاند دیکھے ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17146
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ ( الْقَدَرِ وَمِنْ سُوءِ ) الْمَحْشَرِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ وَمِنْ سُوءِ الْمَحْشَرِ» ” اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، اے اللہ ! میں تجھ سے اس مہینے کی بھلائی مانگتا ہوں ، اور تقدیر کے شر سے اور محشر میں بری صورتحال سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “

یہ روایت عبداللہ اور طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه احمد فى المسند (329/5)»
حدیث نمبر: 17147
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ : " هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ " . ثُمَّ قَالَ : " ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا ثَلَاثًا ) ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الشَّهْرِ ، وَخَيْرِ الْقَدَرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ»
” یہ بھلائی اور ہدایت والا چاند ہے ۔ “
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا ثَلَاثًا»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ۔ “ یہ آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الشَّهْرِ ، وَخَيْرِ الْقَدَرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اس مہینے کی بھلائی کا اور تقدیر کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “ یہ آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4409)»
حدیث نمبر: 17148
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى ، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَاطِبِيُّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى ، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ»
” اے اللہ ! تو اسے امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ہمراہ ، ہم پر طلوع کرنا اور اس چیز کی توفیق کے ہمراہ ، جو تجھے پسند ہو ، جس سے تو راضی ہو ( اے چاند ! ) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابراہیم حاطبی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13330)»
حدیث نمبر: 17149
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ : " هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ ، آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ فَعَدَلَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى اللَّخْمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی کا چاند دیکھتے تھے ، تو یہ فرماتے تھے : ” بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو ، میں اُس پر ایمان لایا جس نے تجھے پیدا کیا اور ٹھیک پیدا کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عیسیٰ لخمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (313)»
حدیث نمبر: 17150
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَلَّمُونَ هَذَا الدُّعَاءَ إِذَا دَخَلَتِ السَّنَةُ أَوِ الشَّهْرُ : " اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ہشام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ دعا سیکھتے تھے کہ جب نیا سال یا نیا مہینہ شروع ہو ، تو یہ پڑھیں :
«اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ» ” اے اللہ ! تو اسے امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام اور رحمان کی طرف سے رضامندی اور شیطان سے بچاؤ کے ہمراہ ، ہم پر داخل کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔