حدیث نمبر: 17143
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي ، وَأَحْسَنَ صُورَتِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئینہ دیکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي ، وَأَحْسَنَ صُورَتِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری تخلیق مکمل کی ہے ، اور میری شکل و صورت خوبصورت بنائی ہے ، اور مجھے اس چیز سے آراستہ کیا ہے کہ جو دوسروں میں عیوب ہوتے ہیں ( مجھے ان سے محفوظ رکھا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اور داؤد بن محبر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي ، وَأَحْسَنَ صُورَتِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری تخلیق مکمل کی ہے ، اور میری شکل و صورت خوبصورت بنائی ہے ، اور مجھے اس چیز سے آراستہ کیا ہے کہ جو دوسروں میں عیوب ہوتے ہیں ( مجھے ان سے محفوظ رکھا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اور داؤد بن محبر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17144
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَسَّنَ خُلُقِي وَخَلْقِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي " . فَإِذَا اكْتَحَلَ جَعَلَ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثِنْتَيْنِ وَوَاحِدَةً بَيْنَهُمَا ، وَكَانَ إِذَا لَبِسَ بَدَأَ بِالْيَمِينِ ، وَإِذَا خَلَعَ خَلَعَ الْيُسْرَى ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ أَدْخَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي كُلِّ شَيْءٍ ، إِذَا أَخَذَ وَأَعْطَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئینہ دیکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَسَّنَ خُلُقِي وَخَلْقِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے میری ظاہری تخلیق اور میرے اخلاق کو اچھا بنایا ہے اور مجھے اس چیز سے آراستہ کیا ہے ، کہ جو دوسروں میں عیوب ہوتے ہیں ( مجھے ان سے محفوظ رکھا ہے ) ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرمہ لگاتے تھے تو پہلے ہر ایک آنکھ میں دو دو مرتبہ لگاتے تھے ، اور پھر ایک مرتبہ دونوں آنکھوں میں لگا لیتے تھے ، جب آپ لباس پہنتے تھے تو دائیں طرف سے آغاز کرتے تھے اور جب اُتارتے تھے تو بائیں طرف سے پہلے اتارتے تھے ، جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تھے تو دایاں پاؤں پہلے داخل کرتے تھے ، کوئی بھی چیز لیتے ہوئے یا دیتے ہوئے ، آپ دائیں طرف سے لینے دینے کو پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَسَّنَ خُلُقِي وَخَلْقِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے میری ظاہری تخلیق اور میرے اخلاق کو اچھا بنایا ہے اور مجھے اس چیز سے آراستہ کیا ہے ، کہ جو دوسروں میں عیوب ہوتے ہیں ( مجھے ان سے محفوظ رکھا ہے ) ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرمہ لگاتے تھے تو پہلے ہر ایک آنکھ میں دو دو مرتبہ لگاتے تھے ، اور پھر ایک مرتبہ دونوں آنکھوں میں لگا لیتے تھے ، جب آپ لباس پہنتے تھے تو دائیں طرف سے آغاز کرتے تھے اور جب اُتارتے تھے تو بائیں طرف سے پہلے اتارتے تھے ، جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تھے تو دایاں پاؤں پہلے داخل کرتے تھے ، کوئی بھی چیز لیتے ہوئے یا دیتے ہوئے ، آپ دائیں طرف سے لینے دینے کو پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17145
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَظَرَ وَجْهَهُ فِي الْمِرْآةِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي فَعَدَلَهُ ، وَصَوَّرَ صُورَةَ خَلْقِي فَأَحْسَنَهَا ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ عِيسَى الْبَزِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي فَعَدَلَهُ ، وَصَوَّرَ صُورَةَ خَلْقِي فَأَحْسَنَهَا ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری تخلیق کو ٹھیک اور موزوں بنایا ہے اور اس نے میری تخلیق کی شکل و صورت بناتے ہوئے اُسے خوبصورت بنایا ہے ، اور مجھے مسلمانوں میں سے ایک بنایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن عیسیٰ بزی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَوَّى خَلْقِي فَعَدَلَهُ ، وَصَوَّرَ صُورَةَ خَلْقِي فَأَحْسَنَهَا ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری تخلیق کو ٹھیک اور موزوں بنایا ہے اور اس نے میری تخلیق کی شکل و صورت بناتے ہوئے اُسے خوبصورت بنایا ہے ، اور مجھے مسلمانوں میں سے ایک بنایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن عیسیٰ بزی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔