حدیث نمبر: 17115
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَأَى قَرْيَةً يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَهَا قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حَيَاهَا ، وَحَبِّبْنَا إِلَى أَهْلِهَا ، وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے تھے ، جب آپ کوئی بستی ملاحظہ فرماتے جس میں داخل ہونے کا آپ ارادہ کرتے ، تو آپ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا» ” اے اللہ ! ہمارے لیے اس ( یعنی بستی ) میں برکت رکھ دے ۔ “ یہ آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔ «اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حَيَاهَا ، وَحَبِّبْنَا إِلَى أَهْلِهَا ، وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا» ” اے اللہ ! ہمیں اس کی نعمتیں نصیب فرما اور یہاں کے رہنے والوں کے نزدیک ہمیں محبوب بنا دے اور اس بستی کے رہنے والوں میں سے نیک لوگوں کو ہمارے نزدیک محبوب بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17116
وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ دُخُولَ قَرْيَةٍ ، لَمْ يَدْخُلْهَا حَتَّى يَقُولَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولبابہ بن عبدالمندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوتے تھے جب تک آپ یہ نہیں پڑھ لیتے تھے :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں کے پروردگار ! اور جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں کے پروردگار ! اور جن پر وہ چلتی ہیں ، اُن کے پروردگار ! اے شیاطین کے پروردگار ! اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں اُن کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور جو کچھ اس میں موجود ہے ، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے اور جو کچھ اس میں موجود ہے ، اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں کے پروردگار ! اور جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں کے پروردگار ! اور جن پر وہ چلتی ہیں ، اُن کے پروردگار ! اے شیاطین کے پروردگار ! اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں اُن کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور جو کچھ اس میں موجود ہے ، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے اور جو کچھ اس میں موجود ہے ، اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17117
وَعَنْ أَبِي مُغِيثِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَشْرَفَ عَلَى خَيْبَرَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " قِفُوا " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا . اقْدَمُوا بِسْمِ اللَّهِ " . وَكَانَ يَقُولُهَا لِكُلِّ قَرْيَةٍ يُرِيدُ يَدْخُلُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومغیث بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خیبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ ٹھہر جاؤ ! پھر آپ نے یہ دعا کی :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے زمینوں اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، اُن کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، اُن کے پروردگار ! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی ، اور یہاں کے رہنے والوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر ، اور یہاں کے رہنے والوں کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ) اب تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو ! ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے تو اس کے لئے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے زمینوں اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، اُن کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، اُن کے پروردگار ! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی ، اور یہاں کے رہنے والوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر ، اور یہاں کے رہنے والوں کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ) اب تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو ! ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے تو اس کے لئے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17118
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ كَعْبًا حَلِفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَهَا إِلَّا قَالَ حِينَ يَرَاهَا : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ [ وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ] ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ وَأَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابومروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : کعب احبار نے اُن کے سامنے اُس ذات کی قسم اٹھائی ، جس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لئے دریا کو چیر دیا تھا کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ایسی بستی ملاحظہ فرماتے تھے ، جس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے ، تو آپ اس کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لیتے تھے :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں ! اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین ! اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! بے شک ہم اس بستی کی بھلائی اور اس کے رہنے والوں کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتے ہیں ، اور اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس کے رہنے والوں کے شر ، اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومروان اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں ! اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین ! اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! بے شک ہم اس بستی کی بھلائی اور اس کے رہنے والوں کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتے ہیں ، اور اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس کے رہنے والوں کے شر ، اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومروان اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17119
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ قَرْيَةً قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ” اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی اور اس میں موجود چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ” اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی اور اس میں موجود چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 17120
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا كَانَ يَخَافُ الْقَوْمُ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً - أَوْ أَشْرَفُوا عَلَى قَرْيَةٍ - أَنْ يَقُولُوا : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِيهَا رِزْقًا ، قَالَ : كَانُوا يَخَافُونَ جَوْرَ الْوُلَاةِ ، وَقُحُوطَ الْمَطَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ سَالِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : لوگ کس بات سے خوف زدہ ہیں ؟ کہ جب وہ کسی بستی میں داخل ہوں ، یا جب کوئی بستی ان کے سامنے آئے تو وہ یہ پڑھ لیں : ” اے اللہ ! تو ہمیں اس میں رزق عطا فرمانا ۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : لوگوں کو حکمرانوں کے ظلم اور بارشوں کے قحط کا اندیشہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف قیس بن سالم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف قیس بن سالم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔