حدیث نمبر: 17121
عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :« اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ» ” اے اللہ ! اس ہوا کو ، جس چیز کے بارے میں حکم دیا گیا ہے ، میں اُس کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور اسے جس چیز کا حکم دیا گیا ہے ، اُس کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 17122
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ إِذَا رَأَى الرِّيحَ فَزِعَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوا ( شاید یہاں آندھی یا تیز ہوا مراد ہے ) کو دیکھتے تھے تو پریشان ہو جاتے تھے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17123
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ الشِّمَالُ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ” شمال “ نامی ہوا تیز چلتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ فِيهَا» ” اے اللہ ! میں اُس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو اس میں بھیجی گئی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ فِيهَا» ” اے اللہ ! میں اُس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو اس میں بھیجی گئی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17124
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ” اے اللہ ! یہ آباد کرنے والی ہو ، برباد کرنے والی نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مغیرہ بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
«اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ” اے اللہ ! یہ آباد کرنے والی ہو ، برباد کرنے والی نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مغیرہ بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17125
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ الشِّمَالُ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ” شمال “ نامی ہوا تیز چلتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ»
” اے اللہ ! جس کے ہمراہ اسے بھیجا گیا ہے ، میں اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ»
” اے اللہ ! جس کے ہمراہ اسے بھیجا گیا ہے ، میں اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17126
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا هَاجَتْ رِيحٌ اسْتَقْبَلَهَا بِوَجْهِهِ ، وَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمَدَّ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ ، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً ، وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا ، وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ أَبُو عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا رخ اس کی طرف کر لیتے تھے ، آپ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ دعا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ ، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً ، وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا ، وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا»
” اے اللہ ! میں اس ہوا کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اُس چیز کی بھلائی کا جو اس کے ہمراہ بھیجی گئی ہے ، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اُس چیز کے شر سے بھی جو اس کے ہمراہ بھیجی گئی ہے ، اے اللہ ! تو اسے رحمت بنا دے ، تو اسے عذاب نہ بنانا ، اے اللہ ! تو اسے ” ریاح “ ( یعنی آرام کا باعث ) بنا دے تو اسے ” ریح “ ( یعنی تباہی کا ذریعہ ) نہ بنانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس رحبی ، ابوعلی واسطی ہے ، جس کا لقب ” حنش “ ہے ، اور وہ متروک ہے ، حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ ، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً ، وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا ، وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا»
” اے اللہ ! میں اس ہوا کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اُس چیز کی بھلائی کا جو اس کے ہمراہ بھیجی گئی ہے ، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اُس چیز کے شر سے بھی جو اس کے ہمراہ بھیجی گئی ہے ، اے اللہ ! تو اسے رحمت بنا دے ، تو اسے عذاب نہ بنانا ، اے اللہ ! تو اسے ” ریاح “ ( یعنی آرام کا باعث ) بنا دے تو اسے ” ریح “ ( یعنی تباہی کا ذریعہ ) نہ بنانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس رحبی ، ابوعلی واسطی ہے ، جس کا لقب ” حنش “ ہے ، اور وہ متروک ہے ، حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔