کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب کسی شخص کی سواری چلی جائے ، یا وہ کسی سے مدد حاصل کرنا چاہتا ہو یا اس کی کوئی چیز گم ہو جائے ، تو اسے کیا پڑھنا چاہیے ؟
حدیث نمبر: 17103
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا ، أَوْ أَرَادَ عَوْنًا ، وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ فَلْيَقُلْ : يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أَغِيثُونِي ; فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ " . وَقَدْ جَرَّبَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ عُتْبَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کی کوئی چیز گم ہو جائے ، یا وہ مدد حاصل کرنا چاہتا ہو ، اور وہ ایسی جگہ پر موجود ہو ، جہاں اس کا کوئی ساتھی نہ ہو ، تو اسے یہ کہنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ، اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں ، جنہیں ہم دیکھ نہیں پاتے ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آزمائی گئی ہے ( یعنی ایسا کرنے کا فائدہ ہوتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اس کے بعض رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور یہ بات بھی ہے کہ زید بن علی نامی راوی نے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ومنقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117/17)»
حدیث نمبر: 17104
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ سِوَى الْحَفَظَةِ ، يَكْتُبُونَ مَا يَسْقُطُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ ، فَإِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ عَرْجَةٌ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ : أَعِينُوا عِبَادَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زمین میں اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہوتے ہیں ، جو محافظ فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں ، درخت سے جو پتے گرتے ہیں ، وہ ان کو نوٹ کرتے ہیں ، جب کسی بے آب و گیاہ جگہ پر تم میں سے کسی ایک شخص کو کوئی پریشانی لاحق ہو ، تو اسے بلند آواز میں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3128)»
حدیث نمبر: 17105
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ : يَا عِبَادَ اللَّهِ احْبِسُوا ، يَا عِبَادَ اللَّهِ احْبِسُوا ; فَإِنَّ لِلَّهِ حَاضِرًا فِي الْأَرْضِ سَيَحْبِسُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ : " سَيَحْبِسُهُ عَلَيْكُمْ " . وَفِيهِ مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی بے آب و گیاہ جگہ پر ، تم میں سے کسی ایک کا جانور چھوڑ کر چلا جائے ، تو اس شخص کو بلند آواز میں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! روک لو ! اے اللہ کے بندو ! روک لو ! کیونکہ زمین میں اللہ کی ایسی مخلوق موجود ہوتی ہے ، جو اس کو روک سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو عنقریب وہ اس کو تمہارے لئے روک لے گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی معروف بن حسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5269) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10518)»
حدیث نمبر: 17106
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الضَّالَّةِ أَنَّهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَادَّ الضَّالَّةِ ، وَهَادِيَ الضَّالَّةِ ، تَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ ، ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِقُدْرَتِكَ وَسُلْطَانِكَ ; فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے گمشدہ چیز کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آدمی کو یہ کہنا چاہیے ( یا شاید یہ مراد ہو گا کہ گمشدہ چیز کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : )
«اللَّهُمَّ رَادَّ الضَّالَّةِ ، وَهَادِيَ الضَّالَّةِ ، تَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ ، ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِقُدْرَتِكَ وَسُلْطَانِكَ ; فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ» ” اے اللہ ! اے گم شدہ چیز کو واپس کرنے والے ! بھٹکے ہوئے کو راہ دکھانے والے ! گمراہی کے مقابلے میں تو ہدایت دیتا ہے ، تو اپنی قدرت اور اپنے غلبے کے ذریعے میری گمشدہ چیز واپس کر دے ، کیونکہ وہ تیری عطا اور تیرے فضل کا حصہ ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یعقوب بن ابوعباد مکی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (660) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13289)»