کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جب آدمی سمندر میں ( بحری جہاز یا کشتی پر ) سوار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17101
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا الْبَحْرَ أَنْ يَقُولُوا : ( بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ ) ( وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ) الْآيَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ جُبَارَةَ بْنِ مُغَلِّسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لوگ جب سمندر ( یعنی سمندری سفر کے دوران بحری جہاز یا کشتی ) پر سوار ہوں گے ، تو ڈوبنے سے اُن کی امان یہ ہے کہ وہ یہ پڑھ لیں :
﴿بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [هود : 41]
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس ( کشتی ) کا چلنا ہے ، اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار مغفرت کرنے والا ، رحم والا ہے ۔ “
﴿ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ﴾ [الأنعام : 91] «الْآيَةَ»
” اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی یوں قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کا حق تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
﴿بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [هود : 41]
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس ( کشتی ) کا چلنا ہے ، اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار مغفرت کرنے والا ، رحم والا ہے ۔ “
﴿ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ﴾ [الأنعام : 91] «الْآيَةَ»
” اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی یوں قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کا حق تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17102
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا السُّفُنَ أَوِ الْبَحْرَ أَنْ يَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ الْمَلِكِ : ( وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ) ، ( بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ڈوبنے سے میری اُمت کی امان یہ ہے کہ جب وہ کشتیوں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سمندر ( کے سفر کے دوران بحری جہاز ، یا کشتی وغیرہ ) پر سوار ہوں ، تو وہ یہ پڑھ لیں :
«بِسْمِ اللَّهِ الْمَلِكِ»: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [الزمر : 67]
﴿بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [هود : 41]
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بادشاہ ہے ، ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی یوں قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمین اس کے دست قدرت میں ہو گی ، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے گئے ہوں گے ، وہ اس سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ، جو وہ لوگ شرک کرتے ہیں ، ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس ( کشتی ) کا چلنا ہے اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار مغفرت کرنے والا ، رحم والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔
«بِسْمِ اللَّهِ الْمَلِكِ»: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [الزمر : 67]
﴿بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [هود : 41]
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بادشاہ ہے ، ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی یوں قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمین اس کے دست قدرت میں ہو گی ، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے گئے ہوں گے ، وہ اس سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ، جو وہ لوگ شرک کرتے ہیں ، ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس ( کشتی ) کا چلنا ہے اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار مغفرت کرنے والا ، رحم والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔