کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی کسی جگہ پر پڑاؤ کرے ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17107
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَرَ فِي مَنْزِلِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ حَتَّى يَرْتَحِلَ " . ¤ قَالَ أَبِي : فَلَقِيتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ فِي الْمَنَامِ ، فَقُلْتُ : حَدَّثَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کرے تو وہ یہ پڑھے :
«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو وہ اُس پڑاؤ کے دوران کوئی ایسی چیز نہیں دیکھے گا جو اسے بری لگے ، جب تک وہ وہاں سے کوچ نہیں کر جاتا ۔
ابی نامی راوی کہتے ہیں : خواب میں میری ملاقات سیدنا عبدالرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کیا اللہ کے رسول نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17108
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّهُ فِي مَنْزِلِهِ ذَلِكَ شَيْءٌ ، حَتَّى يَظْعَنَ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ مَالِكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کر کے یہ پڑھ لے : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اُس پڑاؤ کے دوران اُسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی ، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے روانہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن مالک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/24) اخرجه احمد فى المسند (377/6)»
حدیث نمبر: 17109
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ حِمْصَ فَأَدَّانِي اللَّيْلُ إِلَى الْبَقِيعَةِ ، فَحَضَرَنِي مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَقَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْأَعْرَافِ : ( إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَخْرِسُوهُ الْآنَ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ رَكِبْتُ دَابَّتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ اس بیان کرتے ہیں : میں ” حمص “ سے نکلا ، رات ایک ایسی جگہ پر آئی جو بے آب و گیاہ جگہ تھی ، وہاں زمین کی ( ان دیکھی ) مخلوق میرے پاس آ گئی ، تو میں نے سورہ اعراف کی یہ آیت تلاوت کی :
﴿ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ﴾ [الأعراف : 54]
” بیشک تمہارا پروردگار ، وہ اللہ ہے ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ میں نے آیت کے آخر تک ، یعنی مکمل آیت تلاوت کی ۔
( راوی کہتے ہیں : ) تو اس مخلوق میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: اب تم صبح تک اس کی دیکھ بھال کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب صبح ہوئی تو میں اپنی سواری پر سوار ہوا ( یعنی اور وہاں سے روانہ ہو گیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17109
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 17110
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلًا سَبَّحْنَا حَتَّى تُحَلَّ الرِّحَالُ . ¤ قَالَ شُعْبَةُ : تَسْبِيحًا بِاللِّسَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو ہم تسبیح پڑھتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ پالان کھول لئے جاتے تھے ۔ “ شعبہ کہتے ہیں : یہاں تسبیح سے مراد زبان کے ذریعے تسبیح پڑھنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1398)»