کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی بازار میں داخل ہو ، یا جب وہ وہاں سے واپس آئے ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17081
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ مِنَ السُّوقِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ السُّوقِ ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا . اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيبَ فِيهَا يَمِينًا فَاجِرَةً ، أَوْ صَفْقَةً خَاسِرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بازار سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ السُّوقِ ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيبَ فِيهَا يَمِينًا فَاجِرَةً ، أَوْ صَفْقَةً خَاسِرَةً» ” اے اللہ ! میں اس بازار کی بھلائی کا اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، اس کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر سے اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس میں کوئی جھوٹی قسم اٹھاؤں ، یا کوئی خسارے والا سودا کر لوں ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17081
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1157)»
حدیث نمبر: 17082
وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَتَى سُدَّةَ السُّوقِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَخَيْرِ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیم بن حنظلہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بازار کے دروازے پر آئے اور انہوں نے یہ پڑھا :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَخَيْرِ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ أَهْلِهَا»
” اے اللہ میں تجھ سے اس ( بازار ) کی بھلائی اور اس ( بازار ) والوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر اور اس کے اہل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سلیم بن حنظلہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8895)»
حدیث نمبر: 17083
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ مِنْ سُوقِهِ أَنْ يَقْرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فَيَكْتُبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ ، وَأَبِي إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبِ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِيمَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ فِي الْبُيُوعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے تاجروں کے گروہ ! کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ جب بازار سے واپس جاتا ہے تو قرآن کی دس آیات پڑھ لیا کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر ایک آیت کے بدلے میں ایک نیکی نوٹ کر لے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ربیع بن ثعلب اور ابواسماعیل مؤدب کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب ” البیوع “ میں اس بارے میں احادیث گزر چکی ہیں کہ جب آدمی بازار میں داخل ہو ، تو کیا پڑھے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث حسن