کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی سفر کے لئے نکلے ، یا جب سفر سے واپس آئے ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17084
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ . اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " . وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ : " [ آيِبُونَ ] تَائِبُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . ¤ وَإِذَا دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ : " تَوْبًا تَوْبًا إِلَى رَبِّنَا أَوْبًا ، وَلَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَحْمَدَ : " آيِبُونَ " . وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا بَعْضَ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہونے لگتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ ۔ اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ»
” اے اللہ ! سفر میں ، تو ہی میرا ساتھی ہے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں نگہبان ہے ، اے اللہ ! سفر کے دوران کسی کمی ، اور واپسی پر کسی ناپسندیدہ صورتحال کا سامنا کرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! ہمارے لئے زمین کو سمیٹ دے ، اور سفر ہمارے لیے آسان کر دے ۔ “
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کا ارادہ کرتے تھے تو پھر یہ پڑھتے تھے :
«آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»
” ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ۔ “
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے :
«تَوْبًا تَوْبًا إِلَى رَبِّنَا أَوْبًا ، وَلَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا»
” توبہ ہے ، توبہ ہے ، اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہے ، اور وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان سب حضرات نے امام أحمد کے مقابلے میں ایک لفظ ” رجوع کرنے والے “ زائد نقل کیا ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ طبرانی کی بعض اسانید کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3127) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2353) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1551) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11735) اخرجه احمد فى المسند (2311)»
حدیث نمبر: 17085
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ لِسَفَرٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَلَاغًا يُبَلِّغُ خَيْرًا ، مَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ بَلَاغًا يُبَلِّغُ خَيْرًا ، مَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ»
” اے اللہ ! ایسا پہنچنا ہو ، جو بھلائی تک پہنچائے ، جو تیری طرف سے مغفرت اور رضامندی کی شکل میں ہو ، ہر قسم کی بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے ، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! سفر میں تو ہی میرا ساتھی ہے ، اور میری غیر موجودگی میں ، گھر والوں کا نگہبان ہے ، اے اللہ ! سفر ہمارے لیے آسان کر دے ، اور زمین کو ہمارے لئے لپیٹ دے ، اے اللہ ! میں سفر کی دقت اور واپسی پر ناگوار صورتحال کے سامنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1663)»
حدیث نمبر: 17086
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَفَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ : " آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے ، جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ” ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اے اللہ ! میں سفر کی پریشانی اور واپسی پر ناگوار صورتحال کے سامنے اور اپنے اہل خانہ یا مال کے بارے میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3131)»
حدیث نمبر: 17087
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : كَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ غَزْوَةٍ . ¤ وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ سے واپس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلی روایت میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری روایت میں ابوسعد بقال ہے اور وہ متروک ہے ،
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 17088
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا قَالَ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ ، وَبِكَ أَجُولُ ، وَبِكَ أَسِيرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ ، وَبِكَ أَجُولُ ، وَبِكَ أَسِيرُ» ” اے اللہ ! تیری مدد کے ساتھ میں حملہ کرتا ہوں ، اور تیری مدد کے ساتھ میں گھومتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ میں چلتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3126) اخرجه احمد فى المسند (1295 و 691)»
حدیث نمبر: 17089
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ : " آيِبُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، وَلِرَبِّنَا عَابِدُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس آ رہے ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«آيِبُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، وَلِرَبِّنَا عَابِدُونَ»
” ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اور اپنے پروردگار کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ،
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3132) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7092)»